حضرت مولانامکرم حسین سنسارپوری علم وروحانیت کا حسین مجموعہ تھے: علماء کرام
دیوبند،22؍ جولائی
(رضوان سلمانی)علاقہ کی ممتاز بزرگ شخصیت اور بافیض عالم دین و روحانی شخصیت کے مالک حضرت مولانا مفتی سید مکرم حسین سنسارپوری کابیماری کے باعث تقریباً 90؍ برس کی عمر میں نماز جمعہ سے قبل انتقال ہوگیا۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔ حضرت مرحوم کے انتقال سے علمی،سماجی حلقوں کے ساتھ عوام میں غم کی لہر دوڑ گئی۔مرحوم کی رہائش گاہ پر آخری زیارت کے لئے کثیر تعداد میں علمائ، طلبہ،سماجی،سیاسی شخصیات اور عوام کا تانتا لگ گیا۔حضرت کی زندگی میں جو وصف سب سے ممتاز تھا وہ اتباع سنت ، احیاء سنت واشاعت سنت تھا۔ آپ ایک حکیم بھی تھے اور تقریبا 40 برس تک اس پیشے میں اپنی خدمات انجام دیں۔
پسماندگان میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، نماز جنازہ بعد مغرب ادا کی گئی، بعد ازیں سنسارپور میں تدفین عمل میں آئی۔مرحوم مفتی سید مکرم حسین قطب الاقطاب حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ آخری خلیفہ و مجاز تھے،آپ سلوک و تصوف کے ساتھ طبابت کے ذریعہ بھی ہزاروں لوگوں کی جسمانی و روحانی بیماریوں کے علاج کا فریضہ انجام دے رہے تھے آپ سے ہزاروں لوگ کسب فیض کرکے اپنی پریشان حال زندگی میں آسودگی حاصل کرتے تھے آپ کی ذات سراپا خیر و برکت تھی ۔
مرحوم کی ولادت 1933ء میں ہوئی، والد ماجد مولانا سید اسحاق سنسارپور کے ماہر حکیم اور مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ کے فیض یافتہ تھے ۔آپ کی ابتدائی تعلیم قصبہ سنسار پور میں واقع مشہور دینی ادارہ فیض رحمانی میں ہوئی ، درس نظامی میں شرح جامی تک اپنے والد ماجد سے تعلیم حاصل کی نیز 1949ء میں مظاہر علوم سہارنپور سے باقاعدہ فراغت حاصل کی تھی۔آپ تواضع و انکساری کے پیکر تھے خوش اخلاقی و خوش کلامی آپ کا خاصہ تھی محبت و شفقت آپ کی فطرت میں پیوست تھی۔
ملک و بیرون ملک میں آپکے ہزاروں کی تعداد میں محبین ، مریدین اور شاگردموجود ہیں۔ متعدد خلفاء روحانی و باطنی نمائندگی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ جو اس وقت مولانا کے وصال اور فراق کی وجہ سے مغموم اور سو گوار ہیں۔ مفتی مرحوم کے انتقال پر علماء کرام ،آپکے محبین اور قدردان نے تعزیت کا اظہار کیا۔دارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی نے مفتی سید مکرم حسین سنسارپوری کی وفات پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ یہ سن کر دل کو اچانک صدمہ پہنچا کہ مولانا سید مکرم حسین اس دار فانی سے رخصت فرما گئے ۔حضرت اقدس شاہ عبد القادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے آخری خلیفہ اور علاقہ کی بزرگ ترین شخصیت تھے ۔آپ اسلاف کی پاکیزہ زندگی کا نہایت خوبصورت اور دلکش و دل آویز عکس تھے آپ کے انتقال پر ملال سے علمی و اصلاحی دنیا میں ایک غم کی لہر ہے ۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ،لواحقین کو صبر جمیل عطا ء فرمائے اور اعلیٰ علین میں جگہ نصیب فرمائے۔معروف عالم دین اور مہا نامہ ترجمان کے مدیر اعلیٰ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری کے خلیفہ حضرت مولانا سید مکرم حسین سنسارپوری کاحادثۂ وفات انتہائی علم ناک ہے ۔مرحوم کا وجود ایک ایسے روشن چراغ کی طرح تھا جس سے لوگ اپنے قلوب کی تارکیاں دور کرتے تھے وہ مشکلات کی سخت اور تیز دھو پ میں شجر سایہ دار کی طرح تھے ۔
ہمارے درمیان سے ان کا اٹھ جانا امت کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے ۔احقر ان کی خدمت میں دعائیں لینے کے لئے کئی مرتبہ حاضر ہوا ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔دارالعلوم وقف کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری سے نسبت رکھنے والی ہستی حضرت مولانا مفتی مکرم حسین کا حادثۂ وفات اس دور کا بڑا حادثہ ہے ان کی موجودگی سے اصلاح باطن کا جو سلسلہ قائم تھا وہ بظاہر یقینی طور پر ٹوٹ چکا ہے ۔
انہوں نے جو خدمات جلیلہ انجام دیں اور علاقہ کی ذہنی ،فکری اور باطن تربیت کا جو کارنامہ انجام دیا وہ ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے ۔ہماری محرومیوں کا سلسلہ دراز ہے اور آج حضرت مولانا کی وفات کی صورت میں غم ناک اضافہ ہوا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
دارالعلوم وقف کے استاذ اور معروف ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت مولانا سید مکرم حسین سنسار پوری کی شخصیت ایک مغتنم شخصیت تھی وہ حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری شاگرد (علامہ انور شاہ کشمیری)کے حلقہ کے آخری انسان تھے جنہیں حضرت شاہ عبد القادر کی صحبت اور فیوز باطنی سے وافر دولت ملی تھی ۔بیعت ارشاد اور سلوک وتصوف کی راہ کے وہ ایک ممتاز راہ رو تھے ۔ان کی خدمت میں کئی مرتبہ حاضری ہوئی ایک ملاقات میں انہوں نے فرمایا کہ میرے چچا مولانا مشتاق صاحب حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگر تھے وہ بڑے نورانی اور پر کشش انسان تھے اور اس وقت ان کی خانقاہ اصلاح وتربیت کا نمایا مرکز تھی۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کی صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔عاشق ملت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل نے اپنے پیغام میں کہا کہ مولانا نہایت نیک صفت بے حد متواضع اور ولی کامل تھے۔ دنیا اور اس کی رنگینوں سے بہت دور ، بس اللہ کے عشق میں اور اس کے رسول کی محبت واطاعت میں مست رہتے تھے۔
آپ مولانا شیخ عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللّٰہ علیہ کے خلیفہ تھے، تمام علماء دین آپ کے اخلاص ، تقوی ، کسرنفسی بلکہ بے نفسی کی قدرفرماتے تھے۔مولانا کی سب سے ممتاز صفت تواضع وعبدیت کی صفت ہے جس کا ذکر ہم سب کی زبان و قلم پر پائینگے۔انہوں نے مرحوم کی مغفرت کاملہ،درجہ بلندی اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعاء کی۔ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا حادثہ وفات ہم جیسے گنہگاروں پر بجلی بن کرگرا ہے، یقینا ہم لوگ حضرت کی رحلت سے بالکل یتیم ہوگئے۔
آپ کا بابرکت وجود کتنے دلوں کی ڈھارس تھا اور کتنے ہی روحانی بیماروں کے آپ مسیحا تھے ، اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔شکستہ حال اور زخموں سے نڈھال افراد آپ کے چند محبت آمیز بول سے نئی ہمت اور نیا حوصلہ پاتے تھے۔حضرت کی زندگی میں جو وصف سب سے ممتاز تھا وہ اتباع سنت ، احیاء سنت واشاعت سنت تھا۔اللہ تعالی حضرت کو بلند درجات عطا فرمائے اور ہمیں آپ کے پند و نصائح اور مواعظ حسنہ وارشادات کو حرز جان بنانے کی توفیق بخشے کہ اب ہمارے درمیان یہی شمع ہدایت و مینار نور ہیں۔جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ کے ناظم اعلی اور شیخ الحدیث مفتی خالدسیف اللہ گنگوہی نے اپنے شدیدرنج وغم کا اظہار کیا ہے۔
مدینہ منورہ سے جاری اپنے ایک تعزیتی بیان میں اس دور قحط الرجال میں مرحوم علم وعمل اور شریعت وتصوف کے جامع ایک خدا رسیدہ باکمال انسان تھے۔ انہوں نے حضرت رائے پوری اور دوسرے مشاہیر کی بافیض صحبتیں اٹھائی تھیں اور اپنے قلب وقالب کو سنت وشریعت کے سانچہ میں ڈھالا تھا جس سے آپ کا فیضان کئی جہات سے جاری تھا۔ مغفرت ورضوان کے فیصلے فرمائیں اور پسماندگان کو صبروسکون دے۔
جامعہ اشرف العلوم رشیدی کے نائب مہتمم قاری عبیدالرحمان قاسمی نے کہا کہ مولاناسنسارپوری کروداروعمل کی ایک زندہ تعبیر تھے۔جامعہ کے مدرس حدیث اور مولاناسنسارپوری کے خلیفہ مفتی محمداحسان رشیدی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آج ہم اپنے ایسے روحانی باپ کے سایہ سے محروم ہوگے ہیں جن کے حال وقال سے علم عمل اور اخلاص کی روشنی میسر تھی بلاشبہ ان کے سانحہ وفات سے تصوف وروحانیت کی ایک بیش بہا دولت ہم سے چھن گئی ہے۔
ماہنامہ صدائے حق گنگوہ کے مدیر مفتی محمدساجدکھجناوری نے کہا کہ حضرت مولانامکرم حسین سنسارپوری کا وجود مسعود اس دور ظلمت میں قندیل رہبانی کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ ہردم بندگان خدا کی دینی علمی اخلاقی اور روحانی تربیت کیلے فکرمنداور کوشاں رہا کرتے تھے۔ وہ گئے تو آنکھوں میں آنسو دے گئے خدا تعالی انھیں فردوس بریں میں جگہ دے۔ مدنی مدرسہ انبہٹہ پیر کے استاذ مولانا محمد احسان تحسین قاسمی وغیرہ نے بھی مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کااظہار کیا۔
