چیف منسٹرآسام کی گھٹیا زبان،پر امن ماحول بی جے پی کےلئے ناقابل برداشت

تازہ خبر تلنگانہ
 کے سی آر سے غیر مشروط معافی مانگے۔محمودعلی کامطالبہ۔گنیش وسرجن کے پرسکون
حیدرآباد 9/ ستمبر
 (زین نیوز) 
 تلنگانہ گنگا جمنی تہذیب کا نمایاں نام ہے. یہاں پر تمام مذاہب کے لوگ آپس میں نہ صرف مل جل کر رہتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشی میں شریک رہتے ہیں. ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کیا
 انہوں نے ریاستی وزیر ٹی سرینیواس یادو ، ڈی جی پی مہیندر ریڈی اورکمشنر  پولیس حیدرآبادسی وی آنند کے ساتھ ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ہوائی سروے کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد میں گنیش وسرجنکا مشاہدہ کیا. انہوں نے کہا کہ  شہر کے تمام علاقوں میں پرسکون طریقہ سے گنیش وسرجن ہوا
جمعہ کے پیش نظر  شہر کے متعدد مساجد بالخصوص مکہ مسجد، چارمینار،شاہی جامع مسجد باغ عام  اور دیگر مساجد کے قریب پولیس کا بندوبست کیا گیا تاکہ نمازیوں کو عبادت کے دوران کسی قسم کا خلل نہ ہو اور جلوس نکالنے والوں کو پر سکون طریقہ سے وہاں سے گزارا جاسکے
 وزیر موصوف نے کہا کہ گنیش وسرجن کے پرسکون کامیابی اور شہر میں امن و امان کے لیے  پولیس، صحت، جی ایچ ایم سی اور دیگر محکمہ جات نے بہترین خدمات انجام دئیے ہیں جس کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا گیا. وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ گنیش وسر جن کے دوران شہر میں پر امن ماحول رہا اور آپس میں اتحاد برقرار رہا.
 مگر اس اتحاد اور پر امن ماحول سے چند لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے. اسی لیے  آسام کے چیف منسٹر نے حیدرآباد کے پرامن ماحول کو بگاڑنے اور آپس میں نفرت پیدا کرنے کی غرض سے معظم جاہی مارکیٹ کے قریب منعقدہ اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے زہر اگلا ہے.
چیف منسٹرآسام نےچیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ کے خلاف غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد الزامات عائد کئے ہیں جن کی سختی سے مذمت کی جاتی ہے.
انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر جیسے اہم عہدہ پر رہتے ہوئے اس طرح کی گری ہوئی زبان کا استعمال زیب نہیں دیتا. وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پی قائدین، حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کو بگاڑنے،ریاست میں انتشار پھیلانے اور ہندو مسلم کے درمیان نفرت پیدا کرنے کو اپنا ایجنڈا بناکر نفرت بھری تقریریں کررہے ہیں.
 انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین لاکھ کوششیں کرلیں، تلنگانہ حکومت ان کے ناپاک ارادوں کو کامیاب ہونے نہیں دے گی. محمد محمود علی نے آسام کے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ چیف منسٹر کے سی آر سے غیر مشروط معافی مانگے.
وزیر ٹی سرینواس یادو نے اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کیا۔  میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسام کے چیف منسٹرکو حیدرآباد کے لوگوں کو مشتعل کرنے کے لیے یہاں لایا گیا تھا۔
آسام کے چیف منسٹر کی زبان اچھی نہیں ہے۔  اس لیے مقامی لوگوں نے اسے روک دیا۔  وہ گنیش کے وسرجن کے دوران یہاں آۓ تھے۔  اس صورت میں ہمیں گنیش یا شوبھایاترا کی بات کرنی چاہئے لیکن سیاست پر بات کرنا درست نہیں ہے۔  وزیر موصوف نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی قائدین کو حیدرآباد کا سکون کھٹک رہاہے؟