کابل میں کار بم دھماکہ دوبارہ ہو سکتا ہے۔امریکہ نے نیا الرٹ جاری کیا

تازہ خبر عالمی

خودکش حملوں میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 80 افراد ہلاک ۔200 زخمی
ہم اسے معاف نہیں کریں گے۔امریکی صدر جو بائیڈن
نئی دہلی:27؍اگسٹ
(اے این ایم ایس)
جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر دو خودکش حملے ہوئے۔ اس میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 80 افراد ہلاک ہوئے۔ کابل ائیرپورٹ پر دو خودکش دھماکوں کے بعد امریکہ نے نیا الرٹ جاری کیا ہے۔ امریکہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد جلد ہی ایک کار بم دھماکہ کر سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے نارتھ گیٹ کو بم سے اڑایا جا سکتا ہے۔ امریکی سفارت خانے نے ایک بار پھر اپنے شہریوں کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔ سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ پر سفر نہ کریں۔ یہ الرٹ حامد کرزئی ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکوں کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ سفارت خانہ کی جانب سے آج صبح بھی اسی طرح کا الرٹ جاری کیا گیا ہے

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اب تک 80 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق دہشت گرد تنظیم داعش کے خراسان گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل کینتھ میک کینزی نے بتایا کہ مرنے والوں میں 12 میرین کمانڈوز شامل ہیں جبکہ 15 زخمی ہیں

خفیہ ایجنسیوں سے موصول ہونے والی معلومات کے بعد امریکہ نے کابل میں اپنے فوجیوں اور شہریوں کو چوکس کر دیا ہے۔ جمعرات کو افغانستان میں کابل دو بم دھماکوں سے لرز اٹھا۔ کابل ائیرپورٹ کے باہر دو خودکش حملوں میں 80 افراد ہلاک اور 200زخمی ہوئے۔ ،۔ وائٹ ہاؤس سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ان شہداء کے اعزاز میں 30 اگست کی شام تک امریکی پرچم لہرایا جائے گا

کابل دھماکے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ جس نے بھی یہ کیا ہم اسے معاف نہیں کریں گے اور نہ بھولیں گے۔ شروع سے ہی یہ بتایا جا رہا تھا کہ ان بم دھماکوں کے پیچھے دہشت گرد تنظیم آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) کا ہاتھ تھا اور رات گئے اس نے بھی ذمہ داری قبول کی۔

کابل پر دو خودکش دھماکوں کے ایک دن بعد افغانستان کے قائم مقام صدر امر اللہ صالح کا بیان آیا۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی جڑ آئی ایس جیسی دہشت گرد تنظیم ہے۔ طالبان شاید آئی ایس کے ساتھ اتحاد سے انکار کرتے رہیں ، لیکن ہمارے پاس اس کے تمام ثبوت موجود ہیں۔ طالبان داعش سے اس طرح کے تعلقات سے انکار کر رہے ہیں جس طرح پاکستان کوئٹہ شوریٰ پر کرتا رہا ہے۔

آئی ایس نے ذمہ داری قبول کرلی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسلامک اسٹیٹ نے کابل ایئرپورٹ دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔ دہشت گرد تنظیم نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ادھر کابل میں ایک اور دھماکے کی آواز سنی گئی ہے