کے سی آر کی قدم بوسی ۔دو ضلع کلکٹران کے خلاف صدر جمہوریہ ہند سے کارروائی کی مانگ

تازہ خبر تلنگانہ

مسٹر محمد علی شبیر کامسٹررام ناتھ کووند کو مکتوب
حیدرآباد:25؍جولائی
(زین نیوز)
تلنگانہ قانون ساز کونسل میں حزب اختلاف کے رہنما و سابق وزیر مسٹر محمد علی شبیر نے اتوار کے روز حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ اضلاع کاما ریڈی‘ و سدی پیٹ کے کلکٹران ڈاکٹر شرت اور مسٹر وینکٹ رام ریڈی کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کریں جنھوں نےاپنے اپنے اضلاع میں نو تعمیر کردہ ضلع کلکٹر یٹ کی عمارت کے افتتاح کے موقع پر عوامی ہجوم کی موجودگی میں چیف منسٹر و صدر تلنگانہ راشٹریہ سمیتی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قدم بوسی کی ہے ان کا یہ اقدام ال انڈیا سرویس ( کنڈیکٹ) کےرولز بابت 1968 کی صریحاً منافی ہے۔

دونوں کلکٹران نے 2؍جون 2021 کو یہ نازیبا حرکت کی ہے جو انکے عہدوں کے لئے زیب نہیں دیتے صدر جمہوریہ ہند مسٹر رام ناتھ کووند اور مرکزی مملکت وزیر پرسنل مسٹر جتندر سنگھ کے موسومہ مکتوب میں مسٹر محمد علی شبیر نے بتایا کہ دونوں عہدیدار نہ صرف کلکٹران ہیں بلکہ با اعتبار رتبہ ضلع ایگزیکیٹومجسٹریٹس بھی ہیں انھوں نے کہاکہ ان کے اس اقدام سے عوا م کو نہ صرف ایک غلط پیام ملا ہے بلکہ ایسا کرکےانھوں نے مہذ یب سماج میں ایک غلط نظیر بھی قائم کی ہے۔

مسٹر محمد علی شبیر نے اپنے خط میں واضح کیا کہ ال آندیا سرویسس ( کنڈیکٹ) رولز بابت  1968 کے سیکشن 3II))میں صاف طورپر یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ضلع کلکٹر کے عہدہ پر فائز ہر ایک عہدیدار سیاسی غیر جانبداری کو برقرار رکھے گا مگر دونوں ضلعی عہدیداروں نے اس کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے انھو ں نے بتایاکہ دنوں ضلع کلکٹران نے مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قدم بوسی کی ہے جو بیک وقت چیف منسٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی جماعت ٹی آریس کے سربراہ بھی ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں کلکٹران غیر جانبدار نہیں بلکہ ریاست میں حکمرا ں جماعت کی طرف مائل ہیں

 

کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ یہ دونوں ضلع کلکٹرس بظاہر یہ بھول چکے ہیں کہ ان پر دستور کے مطابق کام کرنے کی ذمہ داری ہے کیونکہ ضلع کلکٹر ریونیو انتظامیہ کا عہدیدار اعلیٰ ہوتا ہے اور اسکے فرائض میں محصولات اراضی کی وصولی کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے ۔چوں کہ ضلع میں محکمہ ریونیو کو عاملانہ خود مختاری بھی ہے اس لئے اس کا ضلعی عہدیدار ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اختیارات رکھتا ہے جس کے ذمہ امن عامہ کی برقراری اور پولیس و پراسکیوشن کی ایجنسی کی سربراہی بھی ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ایک ایسی تقریب جس میں عوام کی بڑی تعداد اکٹھا تھی دونوں ضلع عہدیداروں نے کے سی آر کے پیر چھو کر آئین کی توہین کی ہے ان کا یہ اقدام ایک سیاسی کارکن کے طرح تھا جنھوں نے کلکٹر کے عہدہ کو دغدار بنایا ۔ انھو ں نے صدر جمہوریہ ہند سےان دونوں عہدیداروں سے انکے ماروائے دستور اقدام کے خلاف سخت نوٹ لیتے ہوئےضروری کارروائی کرنے کی درخواست کی ۔