کے سی آر ہمیشہ ہی سے بی جے پی نظریہ کی طرف مائل

Uncategorized

جدید آئین سے متعلق ریمارکس پر ریونت ریڈی کی سخت تنقید
ہندوستان کا آئین ساری دنیا کے لئے مثالی
ڈاکٹر امبیڈ کر کے مجسموں کے قریب کے سی آر کے پتلے ندرآتش کرنے کی ہدایت
نئی دہلی۔3 فروری
( ایجنسیز)
تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی ) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ مسٹراے ریونت ریڈی نے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے ملک کے لئے ایک نئے آئین کی تجویز سے متعلق ان کے ریمارکس کی شدید مذمت کی ۔ آج تلنگانہ بھون نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ ہندوستان کے آئین کو تبد یل کر نے کے بارے میں کے سی آر کے خیالات بی جے پی کے نظریہ کی غماز ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی ڈاکٹر بی آرامبیڈ کر کے آئین کو تبد یل کر نے کی سازش کر رہی ہے اور اس مرتبہ بی جے پی کے سی آر کو اس بارے میں بولنے پر مجبور کر دیا۔انہوں نے کہا کہ درج فہرست طبقات درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقات کو تحفظات اور دیگر فوائد صرف موجودہ آئین کی وجہ سے حاصل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی آئین کو تبد یل کرنا چاہتی ہے تا کہ ایس سی ایس ٹی بی سی اور دیگر طبقات کو تحفظات اور دیگر مالی فوائد سے محروم کر دیا جائے

کے سی آر ہمیشہ ہی سے بی جے پی نظریہ کی طرف مائل ہیں اس مرتبہ وہ ڈاکٹر امبیڈ کر کے آئین کے خلاف کھل کر میدان میں آگئے ۔مسٹر یونت ریڈی نے کانگریس کیڈرس کو ریاست تلنگانہ میں ڈاکٹر امبیڈ کر کے مجسموں کے قریب کے سی آر کے پتلے ندرآتش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج سے 48 گھنٹے کا ایجی ٹیشن بھی شروع کیا جائے گا جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ کے سی آر غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے اپنے ریمارکس کو واپس لیں۔

ٹی پی سی سی کے سربراہ نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ساری دنیا کے لئے مثالی متصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بعض شقوں میں ترمیم کی جاسکتی ہے اور اب تک 105 مرتبہ کی جا چکی ہے۔ لیکن آئین کو تبد یل کر نے کی تجویز پیش کر کے کے ہی آر نے ڈاکٹر امبیڈ کر اور ایس سی ایس ٹی بی اور دیگر کمزور طبقات کے تئیں نفرت کا اظہار کیا ہے۔

مسٹر یونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے وز مرفینانس نرملا سیتارامن کی بحث خطبہ پر روگل کا اظہار کرنے کے لئے دو گھنٹے 4 3 منٹ تک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ جبکہ ان کا خطبہ صرف 0 9منٹ کا تھا۔ کے سی آر نے آندھرا پردیش تنظیم جدیدا یکٹ میں کئے گئے وعدوں کا ذکر نہیں کیا جس کو حکومت نے گذشتہ 8 برسوں میں پورا نہیں کیا ہے۔

قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری بیارم میں اسٹیل فیاکٹری اور قبائلی یونیورسٹی کے بارے میں وہ خاموش رہے۔مسٹر یونت ریڈی نے مسٹر نرملا سیتارامن اور وزیر اعظم نریندرمودی کے خلاف کے سی آر کی جانب سے استعمال کی گئی غیر پارلیمانی زبان پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاتون جس کا تعلق تنگور یاستوں سے ہے اس کے خلاف ناشائستہ زبان کا استعمال نا قابل معافی ہے۔