دیوبند کی ادبی و صحافتی میدان کی اہم شخصیت‘ معروف قلم کار عبداللہ عثمانی کاانتقال

تازہ خبر قومی

مختلف ادبی حلقوں اور صاحب علم لوگوں کا خراج عقیدت

دیوبند، 18؍ جون
(رضوان سلمانی)
معروف ادیب و مشہور قلمکار اور اردو ٹیچرعبداللہ عثمانی کا جمعہ کی دیرشب محلہ گدی واڑہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اچانک حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا۔ وہ 52 سال کے تھے اور دیوبند بلاک میں پرائمری اسکول میں ٹیچرتھے۔ متعدد کتابوں کے مصنف عبداللہ عثمانی کے ملک کے اکثر اخبارات میں تحقیقاتی اور معلوماتی مضامین اکثر و بیشتر شائع ہوتے تھے،مرحوم شخصیات پر لکھنے میں خاص مہارت رکھتے تھے اور اْنہوں میں دیوبند کی معتدد شخصیات کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔

مختلف عنوان پر تقریباً پانچ سو کے قریب مضامین عبداللہ عثمانی نے تحریر کیے ہیں جو ملک کے قومی سطح کے اخبارات میں شائع ہوئے ہیں۔انکی چند مشاہیر، چندشخصیات اور چند نامور نامی کتابیں علمی اورادبی حلقوں میں خوب پسند کی گئیں۔مزید تین کتابوں پر کام چل رہا تھا۔اردو کی ترویج و ترقی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے ار اکابرین دیوبند کے حوالہ سے درجنوں مضامین انہوں نے تحریر کئے ہیں، کتابوںکا بے پناہ شوق تھا اور گھر میں باضابطہ ایک لائبریری بنا رکھی تھی، جس میں نادر و نایاب کتب موجود ہیں۔

عبداللہ عثمانی دس بجے شب تک ہنس بول رہے تھے لیکن رات تقریبا دس بجے انہیں اچانک سینے میں تکلیف ہوء اہل خانہ نے مقامی پرائیوٹ اسپتال میں دکھایا لیکن انکی نازک حالت کی بناپر مظفرنگر ریفرکردیا لیکن راستے میں ہی اْنہوں نے آخری سانس لی۔پسماندگان میں ایک بیٹا ااورایک بیٹی ہے۔مرحوم مشہور رحانی معالج حافظ فہیم عثمانی کے چھوٹے بھائی اور صحافی عارف عثمانی کے چچا زاد بھائی تھے۔

نمازجنازہ صبح دس بجے احاطہ مولسری میں دارالعلوم دیوبند کے استاذ مفتی سید سلمان منصور پوری نے ادا کراء بعد ازاں قاسمی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ ممتاز عالم دین مولانا ندیم الواجدی،معروف ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر، مولانا مودودمدنی،مسلم فنڈ دیوبندکے منیجر سہیل صدیقی،عدیل صدیقی، نامورقلمکار سید وجاہت شاہ،حاجی ریاض محمود شہر کی سماجی،سیاسی،ادبی،صحافتی حلقوں سمیت سرکردہ شخصیات اور اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

مرحوم کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدارسی اور نائب مہتمم مفتی محمد راشد اعظمی نے مرحوم گھر پہنچ کر اہل خانہ سے تعزیت مسنونہ کا اظہار کیا۔ عبداللہ عثمانی کے انتقال پر عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی نے گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے عبداللہ عثمانی کے انتقال اپنا ذاتی اور دیوبند کے ادبی حلقہ کا بڑا خسارہ قرا ردیا۔

انہوں نے کہاکہ عبداللہ عثمانی دیوبند کی نوجوان نسل کی نمائندگی کررہے تھے ،شخصیات پر لکھنے میں مہارت رکھنے والے عبداللہ عثمانی کے تحقیقاتی مضامین کی بھرپور پذیرائی ہوتی تھی،عبداللہ عثمانی اردو کے شیدائی تھے اور زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے ہمیشہ کوشاں نظر آتے تھے،بہترین انسان، شاندار ٹیچر اور نہایت عمدہ قلمکار تھے،

ان کا اچانک انتقال یقینی طورپر ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ دیوبند کا بھی بڑا نقصان ہے، اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق د ے۔ ممتاز ادیب و قلمکار مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبداللہ عثمانی کے انتقال کی خبر نے دل پارہ پارہ کردیا ، زندگی کے پچھلے 30 سال سامنے آکر کھڑے ہوگئے، انہوں نے لکھنے کی ابتدا کی میرے رابطہ میں آئے ہوئے 20سال سے زائد اصلاح مضامین کا طویل سلسلہ رہا اور جب ان کے لکھنے سے مطمئن ہوگیا تو فارغ الاصلاح کردیا وہ سنجیدہ، متین اورشریف انسان تھے اچھا لکھتے اور کار آمد لکھتے، انہوں بہت لکھا خوب لکھا وہ دیوبند کی بزم ادب صحافت کے اس وقت اہم رکن تھے ،

انہوں نے ہمیشہ استاذ اور شاگرد کے رشتہ کا پاس رکھا وہ تنہا ایسے شاگرد تھے جو… استاذ جی کہہ کر بات کرتے، ان کے جانے سے دیوبند کو بڑا نقصان ہوا ہے ۔ عبداللہ عثمانی کے انتقال سے دیوبند کی ادبی اور صحافتی زندگی متأثر ہوئی وہ اپنی نسل کے نمائندہ قلم کار تھے ۔ انہوں نے 30سال کے عرصہ میں اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیابی حاصل کی۔

اللہ ان کی مغفرت فرمائے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر کی دولت عظمیٰ سے نوازے۔نامور قلمار سید وجاہت شاہ نے کہا کہ مرحوم شاندار شخصیت کے مالک تھے، جو ہمیشہ لکھنے پڑھنے کے علاوہ دوسری کئی گفتگو نہیں کرتے تھے۔حج بیت اللہ کی زیارت کرنے گئے ہوئے یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ عبداللہ عثمانی مرحوم کے اچانک انتقال کی اطلاع نے دل ودماغ کو لرزا کر رکھ دیا اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

مرحوم میرے قریبی عزیز تھے انتہائی مہذب’ نیک طینت’ خوش گفتار ‘مراتب شناس اور عمدہ اخلاق کا سراپا تھے جب بھی دیوبند جانا ہوتا اور مرحوم سے ملاقات ہوتی تو باصرار گھر لے جانے کی کوشش کرتے کبھی جانا ہوتا تو اکابرین سے متعلق بہت سی نادر تحریروں کو دکھانا اپنا فریضہ تصور کرتے حقیقت یہ ہے کہ انہیں دیوبند اور اکابرین دیوبند سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا اسکا اظہار انکی تحریروں سے بھی ہوتا۔ مطالعہ ء تاریخ بالخصوص مسلم حکمرانوں کی تاریخ وتہذیب سے مستند حوالوں کے ذریعہ اردو دنیا کو واقف کرانا مرحوم کی دل چسپیوں کا مرکز تھا افسوس کہ میرا یہ چھوٹا بھائی ایسے حالات میں مجھ سے جدا ہوگیا

جب میں ہزاروں کلو میٹر کی مسافت پر ہونے کی وجہ سے خواہش کے باوجود بھی اسکے جنازہ کو کاندھا دینے اور اسکی قبر پر تین مشت خاک ڈالنے سے محروم ہوں۔البتہ اللہ تعالیٰ نے دعاؤں کی سوغات بھیجنے کا ایسا موقع فراہم کیا ھے جو شاید وہاں پر موجود نہ ہوتا۔رب الکریم کی بارگاہ میںعاء گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی نیکیوں کو قبول فرمائے سیآ ت کو حسنات سے تبدیل فرما کر انہیں اجر عظیم اور جزاء جزیل سے نوازے۔ مدنی ٹور اینڈ ٹریولس کے ڈائریکٹر عمیر عثمانی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مرحوم ایک نیک انسان تھے،

انہوں نے میرے ساتھ ایم اے کیا وہ ہمیشہ خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے ، ان کا اس طرح اچانک چلے جانا میرے لئے نقصان کا باعث ہے۔علاوہ ازیں دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی، شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی، سینئر صحافی قاسم سید،ڈاکٹر شمیم دیوبندی، ڈاکٹر ایس اے عزیز ، نسیم انصاری ایڈوکیٹ، رضوان سلمانی، اطہر عثمانی، عمر الٰہی، نصر الٰہی، مفتی وقاص ہاشمی، تنویر اجمل دیوبندی کے علاوہ بڑی متعدد شخصیات نے رنج و الم کا اظہار کیا۔