یونیورسٹی کے کمرہ جماعت میں طالبہ کی نماز ادائیگی کی ویڈیو وائرل ۔ہندو تنظیموں کا احتجاج

تازہ خبر قومی

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات کا حکم
نئی دہلی :26؍مارچ
(زین نیوز)
مدھیہ پردیش کے ساگر میں ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنٹرل یونیورسٹی میں ایک طالبہ کا نمازادا کرنا تنازعہ شکا ر ہوگیا ۔ فائنل ایئر کی ایک طالبہ کی جماعت کے کمرے میں حجاب پہن کر نماز ادا کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ہندو تنظیموں نے اعتراض اٹھایا ہے۔ یہاں یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقات کے لیے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ یہ کمیٹی تین دن میں اپنی رپورٹ دے گی۔

دموہ کی طالبہ B.Sc B.ed کررہی ہے۔ جو فائنل ائیر میں ہے۔ لڑکی حجاب میں آتی ہے۔ جمعہ کی دوپہر کو وہ کلاس روم کے اندر نماز پڑھ رہی تھیں۔ کسی نے ویڈیو بنا کر وائرل کر دیا۔ ہفتہ کو وشو ہندو پریشد کے کارکن یونیورسٹی پہنچے اور احتجاج میں نعرے لگائے۔ اتنا ہی نہیں یونیورسٹی میں بنائے گئے شنکر مندر میں ہنومان چالیسہ بھی پڑھی گئی۔

وشو ہندو پریشد کے سٹی صدر کپل سوامی نے کہا کہ یونیورسٹی میں جان بوجھ کر نماز پڑھائی گئی ہے۔ اگر یہ جاری رہا تو ہر کلاس سے پہلے ہنومان چالیسہ پڑھی جائے گی۔ ساگر یونیورسٹی کو جے این یو بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔ کچھ پروفیسرز بھی اس میں ملوث ہیں۔ ثبوت ملنے پر ان پروفیسرز کے خلاف مظاہرہ کیا جائے گا

ڈاکٹر ہری سنگھ گوڑ یونیورسٹی ساگر کے وائس چانسلر پروفیسر۔ نیلیما گپتا نے کہا کہ یہ معاملہ نوٹس میں آیا ہے۔ کمیٹی تشکیل دے کر اس کی تحقیقات کرائی جائے گی۔ یونیورسٹی میں ایسی کوئی حرکت نہ کی جائے جس سے ہم آہنگی خراب ہو۔ اپنے ذاتی کام گھر پر کریں کیونکہ یونیورسٹی تعلیم کے لیے ہے۔ اس سلسلے میں حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔