یہ میری آخری صبح ہو سکتی ہے!خاتون ڈاکٹرنے پیام بھیجنے کے چند گھنٹوں میں ہی دم توڑ دیا

تازہ خبر قومی

ممبئی21؍اپریل
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
۔ کوروناکی اتھل پتھل میں اس کی وبابہت سے لوگوں کی زندگیوں کو لامتناہی سانحہ سے دوچار کررہی ہے۔ وبا سے متاثر ہوتے ہی خاندانوں تک محض خوف کے عالم میں بکھیررہےہیں۔ یہاں تک کہ ڈاکٹرس جو انسانوں پر سایہ کی طرح چھایا رہاکرتے ہیں اس وبا کا حملہ برداشت نہ کرسکے۔
حال ہی میں ، ممبئی کے سوری ٹی بی اسپتال میں51سالہ ایک سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر منیشا جادھاو نےکورونا سے دم توڑدیا۔ اپنی موت سے قبل اس نے فیس بک پر جو پیغام پوسٹ کیا وہ سب کے دلوں کو مغموم کردیا۔ تب دق کی ماہر منیشا کو حال ہی میں کوڈ کی تصدیق ہوئی تھی۔
تاہم ، اپنی موت کی توقع رکھنے والی منیشا جادھؤ نے فیس بک پر یہ اشارہ دینے کے لئے پوسٹ کیا کہ وہ اب زندہ نہیں رہ سکتیں۔ ‘یہ اس کےلۓ آخری صبح ہو سکتی ہے۔ میں اس مرحلے پر آپ سے نہیں مل سکتی۔ سب ہوشیار رہیں۔ موت جسم کو ختم کرسکتی ہے۔ روح کونہیں۔

منیشا نے اتوار کی صبح یہ پیام پوسٹ کیا ، جس میں کہا گیا تھا ، "روح مردہ نہیں ہے۔” پیغام پوسٹ کرنے کے 36 گھنٹوں میں ہی اسکی موت ہوگئی۔دوسری طرف ، ملک میں بہت سے ڈاکٹروں اور صحت کے پیشہ وابستیہ افراد نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

لوگوں کو بار بار انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس وبا کے ذریعہ جوسانحات پیش آتے ہیں اس کا اظہار کرتے ہوئے محتاط رہنے کی ترغیب دے رہےہیں۔ حال ہی میں ، ممبئی میں مقیم ڈاکٹر تروپتی گلڈا کا ایک ویڈیو پیام سوشل میڈیا پر وائرل ہواجس میں اسنےآنسو بہاتے ہوۓ کہا کہ کورونا کی مریضوں کی بہتات سے دواخانوں کو بدترین حالات کے ذریعہ عوام لاچار کردیا۔
انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کے مطابق ، مہاراشٹر میں ، 18،000 سے زیادہ ڈاکٹر متاثر ہوۓ ، جن میں سے 168 فوت ہوگئے۔