نئی دہلی28؍جنوری
زین نیوز ڈیسک
چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڑے نے کہا کہ غیر جانبدار اور سچی رپورٹنگ کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن دوسروں کو پریشان کرنے کے لیے ایسا کرنا بڑا مسئلہ ہےتبلیغی جماعت کے حوالے سے میڈیا کی کوریج معاملے میں آج سماعت کے دوران چیف جسٹس کہا کہ غیر جانبدار اور سچی رپورٹنگ کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہےلیکن اکسانے والی میڈیا کوریج پر کنٹرول ہونا چائے۔واضح رہے کہ کورونا کے دور میں تبلیغی جماعت کے حوالے سے میڈیا کی کوریج کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے جس میں منفی، نفرت آمیز اور جھوٹی رپورٹوں پر مبنی کوریج کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تبلیغی جماعت معاملے میں نفرت آمیز میڈیا کوریج کے خلاف جمعیۃ علماء کی جانب سے گزشتہ سال 6 اپریل کو یہ پٹیشن داخل کی گئی تھی اس عرضی پر عدالت عظمی میں آج سنوائی ہوئی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڑے نے کہا کہ غیر جانبدار اور سچی رپورٹنگ کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن دوسروں کو پریشان کرنے کے لیے ایسا کرنا بڑا مسئلہ ہے۔ عدالت عظمی نے کہا کہ اکسانے والی میڈیا کوریج پر کنٹرول ہونا چاہیے۔عرضی گذار اور جمعیۃ علماء کی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی حکومت بعض نیوز چینلوں (گودی میڈیا) کو بچانا چاہتی ہے جنہوں نے منافرت پر مبنی رپورٹنگ کی تھی نیز مرکزی حکومت نے اس کے حامی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو کارروائی سے بچانے کے لیے عدالت میں دو مرتبہ ایسا حلف نامہ داخل کیا تھا جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے سرزنش کی تھی
