سپریم کورٹ نے یوگی حکومت کو لگائی سخت پھٹکار

تازہ خبر قومی

عدالت کے بعد یوگی حکومت نے لئے نوٹس واپس
سماجی و سیاسی رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کیا خیر مقدم

دیوبند،18؍ فروری
(رضوان سلمانی)
اترپردیش میں سی اے اے اور این آرسی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف یوپی حکومت کے ذریعہ وصولی کے نوٹس جاری کرنے پر سپریم کورٹ نے اترپردیش کی یوگی حکومت کو سخت پھٹکار لگائی ہے اور فوری طورپر ان نوٹسوں کو واپس لینے کاحکم جاری کیا تھا،بصورت دیگر سپریم کورٹ خود انہیں رد کردیگا،جس کے بعد آج یوپی حکومت نے سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے جاری نوٹسوں کو واپس لینے کا فیصلہ کیاہے۔

اس سلسلہ میں یہاں سیاسی و سماجی رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے یوگی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہاکہ قانونی اور آئین کے ملک میں کسی ضداور ہٹ دھرمی نہیں چلتی ہے، یوگی حکومت کو سپریم کورٹ کے حکم سے مزید سبق لینا چاہئے۔ممبر پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن نے سی اے اے قانون تحریک کے دوران اترپردیش حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹس کو عدالت عظمیٰ کی مداخلت کے بعد واپس لینے پر اسے سچائی کی جیت بتایا ۔

ممبر پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن نے کہا کہ سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت میں 274مظاہرین کو یوپی کی بی جے پی حکومت کے ذریعہ جاری کئے گئے نوٹس کو سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد واپس لینے پر ہم عدالت عظمیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو زرعی قوانین کی طرح ہی زبردستی لوگوں پر تھوپے گئے سی اے اے قانون کو بھی واپس لینا چاہئے۔

ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ بی جے پی کی مرکز اور ریاستی حکومتیں صرف باتیں کرتی ہیں اور جملے بازی کررہی ہیں۔ سی اے اے کے تحت قانون کو ختم کرنے کی سازش ہے کیوں کہ قانون میں سبھی مذاہب کو برابر حقوق دیئے گئے ہیں لیکن اس قانون میں مسلم طبقے کو الگ کرنا قانون مخالفت ہے ۔ حاجی فضل الرحمن نے کہا کہ بی جے پی حکومت اپنے غرور میں عوام کی آواز کو سن نہیں پارہی ہے اور ان کی آواز کو کچلنے کاکام کررہی ہے لیکن بی جے پی کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں اس مرتبہ اس حکومت کی وداعی یقینی ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ اور مومن کانفرنس کے صدر نسیم انصاری ایڈوکیٹ نے پریس کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ اترپردیش حکومت کے من مانے طریقے سے سی اے اے اور این آرسی مخالف مظاہروں کے بارے میں حکومت کی جائیدادا کے نقصانات کی وصولی کے نوٹسوں کے خلاف جاری کئے گئے سپریم کورٹ کے حکم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ عدالتیں سب سے اوپر ہیں اور اگر کوئی حکومت اپنے من مانے طریقے یا غلط اور قانون کے خلاف حکم جاری کردے تو عدالت اسے خارج کرسکتی ہے۔

اس لئے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد آج اترپردیش حکومت کو گزشتہ دنوں ریاست میں سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت میں مظاہرہ کرنے والے افراد سے من مانے طریقے سے جرمانہ وصول کئے جانے کے لئے جاری کئے گئے اپنے ان نوٹسوں کو واپس لینا پڑا، یہ قانون اور عدالت کی کامیابی ہے۔ اس سے عدالتوں پر عوام کا یقین مضبوط ہوا ہے۔