صدرنشین بلدیہ تانڈور کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کاحکم

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد۔29مارچ
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
چیئرپرسن مجلس بلدیہ تانڈور تاٹی کنڈہ سپنا کے خلاف الیکشن کمیشن آف انڈیا نےتعزیرات ہند کی دفعات(ائی پی سی ) D171اور814کے تحت مقدمہ درج کرنے کاحکم دیا ہے۔ چیئرپرسن کے خلاف ایم ایل سی حلقہ گرایجویٹ کے انتخابات کے دوران جعلی ووٹ ڈالنے کا الزام ہے

چیف الکٹرول آفیسر تلنگانہ دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے یہ احکامات کلکٹر ضلع وقا رآباد کی رپورٹ ملنے کے بعد جاری کیےیہ احکامات بوگس ووٹ ڈالنے کی شکایت پر تحقیقاتی رپورٹ کے وصول ہونے کے بعد صادر کیے گئے ہیں۔یہ انتخابات تلنگانہ ریاست میں جو 14 مارچ کومنعقد ہوئے تھے

  ‘حیدرآبادا-محبوب نگر-رنگاریڈی حلقہ گریجویٹ کے تحت منعقد ہوئے تھے جس میں  ایک اور سپنا نامی خاتون کاچیئر پرسن مجلس بلدیہ تانڈور نے خود کووہی سپنا ظاہر کرتے ہوئے ووٹ ڈالا تھا جس کے خلاف اپوزیشن ‘کانگریس‘ ٹی جے ایس‘بی جے پی اور‘ سی پی آئی نے شکایت کی تھی
کانگریس پارٹی امیدوار اور سابق وزیر ڈاکٹر جی چنا ریڈی نےچیف الکٹرول آفیسر ڈاکٹر ڈاکٹر ششانک گوئل سے ملاقات کرتے ہوئے  چیئر پرسن کے خلاف ثبوتوں کے ساتھ ؤتبلیس شخصی کے تحت تحریری شکایت درج کروائی تھی

وقارآبادکلکٹرو ریٹرننگ افسر پوسوومی باسونے اپنی انکوائری رپورٹ میں تحقیقات کے بعدیہ رپورٹ دی کہ صدر نشین بلدیہ سپنا کا نام ووٹر فہرست میں درج نہیںہے انھوں نے ایک اور خاتون کا ووٹ ڈالا ہے جو اسی نام سے جاتی ہے۔اور وہ فہرست رائے دہندگان میں اپنے نام کی شمولیت کے دوران اپنا ڈگری سرٹیفکیٹ پیش کرنے میں ناکام رہیں۔کمیشن کی جانب سے تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ سپنا نے انتخابات میں یقینی طورپر بوگس ووٹ ڈالا ہے۔

ریاست کے چیف الکٹرول آفیسر مسٹر ششانگ گوئل نے مقدمہ درج کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ کلکٹرو الیکشن آفیسر کوتحریری طور پر یہ ہدایت دی تھی کہ بعد تحقیقات چیئرمین بلدیہ تانڈور کے خلاف مقدمہ کا اندراج عمل میں لایا جائے جوں ہی ان کے خلاف فوجداری مقدمہ کی خبرعام ہوئی اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے سپنا سے فوری طور پر چیئرمین کے عہدہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کا مطالبہ کرتے ہوئے دفتر مجلس بلدیہ تانڈور پر احتجاجی دھرنا منظم کیا

سپنا کی اس حرکت پر ہر خاص و عام حلقوں کی جانب سے مذمت کی جارہی ہے اور انکے استعفیٰ کے مطالبہ میں شدد پیدا ہوگئی ۔ ان کے عہدہ سے استعفیٰ دینے یا برخواست کرنے ڈسٹرکٹ کلکٹر اور ریاست کے محتلف گوشوں سے مطالبہ پہلے ہی زور پکڑتاجارہا ہے۔