بیدر۔ 7؍جنوری
عبدالصمد منجوالا
پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نئی دہلی لکھتے ہیں کہ اردو کی تاریخ اور تہذیب اسی قدر رنگارنگ اور پرکشش ہے جس قدر برصغیر کی تاریخ وتہذیب ہے۔ اسی لئے علاقائی ادب کی جانب سے عدم التفاتی کے بجائے اس پر ازسر نو غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ا ن تمام رنگوں کوجمع کرکے اردو کی تاریخ کو وسیع کیاجائے۔ ڈاکٹر اسماء ناہید کی یہ کتاب اسی سمت میں ایک اہم تحقیقی کاوش ہے۔ اس کتاب میں بیدر۔ کرناٹک کی ادبی اور تہذیبی تاریخ کوبہت خوبی سے بیان کیاہے۔ اس میں تحقیق کے چند ایسے پہلو ہیں جو یقینا اس علاقے کے ادب کے ان پہلوؤں پرروشنی ڈالی ہے جو اکثراحباب کی نظروں سے اوجھل یاپوشیدہ ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس کتاب کوبہ نظر تحسین دیکھاجائے گا‘‘ کتاب کاپیش لفظ کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر اسماء ناہید نے تحریر کیاہے۔ کتاب کوتین ابواب میں تقسیم کیاگیاہے۔ باب اول ’’بیدر ۔ جغرافیہ اور تاریخ‘‘ کے عنوان سے ہے ۔ باب دوم ’’اردو ادب ابتداء سے عہد حاضر تک ‘‘ اسی باب کاذیلی حصہ الف میں ’’بیدر میں ارد وشاعری کا آغاز وارتقاء ‘‘ ہے ۔ جس کے تحت مثنوی اور غزل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ’’ب‘‘ کے تحت بیدر میں اردو نثر کاآغاز وارتقاء پر خامہ فرسائی کی گئی ہے۔ نثر کے اس حصہ میں ’’بیدر میں اردوصحافت کا آغازوارتقاء ‘‘ اور ’’بیدر میں اردو تحقیق۔ ایک اجمالی جائزہ ‘‘ کے عنوان سے 50صفحات پر بات رکھی گئی ہے۔ اور صحافت اور تحقیق کاجائزہ لیاگیاہے۔ باب سوم ’’بیدر میں تاریخ نویسی ومؤرخین ‘‘ کے عنوان پر ہے۔ 26صفحات مختص کئے گئے ہیں۔ آخر میں اختتامیہ اور کتابیات بھی شامل ہے۔ یہ حصہ ریسرچ اسکالرس کے لئے مددگار ہوگا۔ یہ کتاب تلنگانہ اسٹیٹ اردواکیڈمی کی جزوی مالی اعانت سے شائع ہوئی ہے جس کاISBNنمبر 978-93-87248-55-7 ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر اسماء ناہید سے 8897874760 پر رابطہ کرکے حاصل کی جاسکتی ہے۔
