مجھ کو چھاؤں میں رکھا خودجلتارہادھوپ میں
میں نے دیکھا ہے ایک فرشتہ باپ کے روپ میں
ازقلم: عبدالقیوم شاکرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866
یقینا والدین اس دنیا میں اللہ تعالی کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی قدردانی ان کے رخصت ہونے کے بعد ہی محسوس ہوتی ہے بطور خاص والد تو وہ دولت اور سایہ ہے جس کے نہ ہونے سے انسان اپنے آپ کو ہزار سہاروں کے باوجود بے سہارا اورلاکھ چھاؤں کے ہوتے ہوے بھی بے سایہ تصورکرتا ہے موسموں کی سختی حالات کی کسمپرسی دنیا کے نشیب وفراز اور زندگی کے ہر لمحہ میں ایک باپ ہی ہوتا ہے جو اپنی اولاد کے لےء تسلی کا سامان بن کر حالات کا مقابلہ کرنے کے لےء ایک دیوارآہنی بن کرکھڑا ہوتا ہے
کچھ اسی طرح جناب اسراربھای مرحوم بھی تھے جن کا اس دنیا سے اچانک چلے جانا اولاد کے لےء ایک بہت بڑا صدمہ ہے
سچ ہیکہ
زندگی کا کوی بھروسہ نہیں کب کہاں کس حالت میں اکیلا چھوڑدے اور لوگوں کے دلوں میں صرف جانے والوں کی یادیں ہی رہ جاے
مرحوم ایک متشرع دیندار اور پابند صوم وصلوۃ صاحب وجاہت لحیم شحیم انتہای ملنسار خوش مزاج اور متحرک وفعال شخص تھے
دنیا کی مختلف اونچ نیچ سردگرم حالات کو قریب سے دیکھا تھا اور اپنے تجربات سے باربار واقف کرواتے رہتے تھے آپ اگرچہ عمر میں میرے والد بزرگوارکے برابر بلکہ زمانہ قدیم سے میرے والد صاحب مرحوم کے قریبی دوستوں میں رہے ہیں اسی بناء پر راقم سطور بھی جناب اسرار صاحب مرحوم سے باربار ملاقات کرتا مختلف مسائل کے بارہ میں بات چیت ہوتی وہ اپنے ذاتی تجربات سے مجھے باخبرکرواتے رہتے جس سے کافی رہبری مجھے حاصل رہی
آپ
علماء کے قدردان اور انتہاء سے زیادہ محبت کرتے تھے
آج اچانک ان کا اس دنیا سے رخصت ہوجانا ایک سانحہ سے کم نہیں ہے
اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرماے جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرماے بطور خاص مفتی محمد زبیر حسامی استاد ادارہ مظہرالعلوم اور ان کے برادر خورد محمد شعیب کو اللہ پاک ہمت وصبر دے ہم تمام ہی اساتذہ وذمہ داران مدرسہ آپ متعلقین ورشتہ داروں کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں اور ایصال ثواب کا اہتمام کرتے ہوے تمام ہی علماء حفاظ اور ائمہ برادری سے پرخلوص اپیل بھی کرتے ہیں کہ وہ مرحوم کےلےء دعاے مغفرت فرمائیں
یہ بھی پڑھیں❇️ برائے مہربانی ہمارئے گھر مت آئیے اور آپ کے گھر ہمیں آنے نہ دیجئے
مرحوم اسرارصاحب شہر نظام آباد کی مختلف دینی تنظیموں اور کبارعلماء سے وابستگی بھی رکھتے تھے بطور خاص مولاناسید ولی اللہ قاسمی علیہ الرحمہ سے گہری وابستگی اور ہر آڑے وقت ان کے ساتھ کھڑے رہتے تھے ادارہ مظہرالعلوم کے حوالہ سے ابتداء زمانہ میں آپ بحیثیت خصوصی معاون ومشیر بھی جانے مانے جاتے تھے مولانامرحوم کے انتقال کے بعد سے آپ بالکل خاموش اور سہمے ہوے ہوگئے تھے فکرآخرت کاغلبہ تو شروع ہی سے آپ پر طاری تھا لیکن موجودہ حالات میں جہاں عوام وخواص اس جانب متوجہ ہوچکے تھے وہیں مرحوم کے اندر بھی اورزیادہ انہماک دیکھنے کو مل رہا تھا ٹھیک دوماہ قبل آپ کے برادر محترم جناب اعجاز صاحب بھی اس دارفانی سے رخصت ہوے تھے جہاں آپ اپنی اولاد واہل خانہ کے ذمہ دارتھے وہیں اپنے بھای کے گھرانہ کے بھی کفیل بن کر اس کمی کو دور کررہے تھے اب آپ کے رخصت ہونے سے دونوں گھرانوں میں غم واندوہ پایاجاے گا
اللہ پاک امت مسلمہ پررحم وکرم فرماے انسانیت کی مددفرماے جلد از جلد اس وبای مرض سے نجات عطاء فرماے
آمین
