رشحات قلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
باری تعالی نے اپنے بندوں کی عام مغفرت کے لئے بہانے تلاش کرتے ہیں اور اپنے بندوں کو خودہی توفیق عبادت دیتے اور مغفرت کا انعام بھی عطاء فرماتے ہیں کبھی بعض راتوں کو فضیلت دے کر بندوں کو عبادت کے مواقع فراہم کرتے تو کبھی بعض دنوں کی اہمیت بتاکر اس میں عبادت کرکے اللہ کو راضی کرنے والوں کی بخشش کے فیصلے فرماتے ہیں
بالکل اسی طرح پورے سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کے ایک ماہ کو عظمت وفضیلت سے نوازا اور اس کی قدردانی کرکے روزہ تراویح ودیگر عبادات کرنے والوں کی عام مغفرت کا اعلان فرمادیا اور ناقدری کرنے والوں کی ہلاکت وبربادی کی بات بھی بتلادیا
بندوں کی اپنی ذمہ داری ہیکہ وہ اس بہتے ہوے دریا میں اپنے آپ کو پاک وصاف کرلے اپنی اپنی بساط وطاقت کے مطابق عبادات وریاضت کرکے پاک پروردگار کو منالے اس کو راضی اور خوش کرلے اور مستحق اجر وثواب بن جاے یہی عظمت کی خاطر بعض صحابہ کرام چھ ماہ پہلے سے ہی آمد رمضان واستقبال رمضان کی دعاء مانگا کرتے تھے اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رجب کا چاند دیکھ کر دوماہ قبل سے ہی رمضان تک رسای اور توفیق عبادت مانگاکرتے تھے
ایک حدیٹ کا مفہوم بھی ہیکہ رمضان المبارک پورے سال کا قلب ودل ہے اگر یہ مہینہ اعمال صالحہ کے اعتبارسے درست اور اچھا گذرا تو پورا سال ان شاء اللہ اچھا رہے گا مجدد الف ثانی کا ارشاد بھی ہیکہ رمضان کی برکتوں کو پورے سال کی برکات کے ساتھ وہ نسبت بھی نہیں ہے جو قطرہ پانی کو سمندر سے ہے
لیکن افسوس آج اسی نبی کی امت کے بعض مرد وخواتین اس مقدس ماہ کی بے عظمتی وبے پرواہی کرتے ہوے نظر آتے ہیں ہماری اسی مجرمانہ غفلت وبے احترامی نے آج اغیارکے لےء بلند حوصلوں کا ذریعہ بن رہی ہیں حجاب کو دیکھیے ہماری ماؤں بہنوں کی اکثریت نے اس کو ترک کردیا تھا اور اب جب بات شریعت آی تو کورٹ کچہریوں میں واویلا مچاتے پھررہے ہیں مساجد کی عظمت وتقدس کو ترک نماز کے ذریعہ ہم نے بے عظمت کیا تو اوروں کو بھی ان کو شہید کرنے کے مواقع ملے
داڑھی ودیگر شعائر اسلام کا معاملہ بھی کچھ اسی طر ح ہےاسنلےء ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ رمضان کی دل سے قدردانی کریں اس کا ادب واحترام دل وجان سے ملحوظ رکھیں باری تعالی کو رمضان کا احترام بہت پسندیدہ ہے اس عمل پر بھی اللہ پاک مغفرت فرماسکتے ہیں اس ماہ مبارک کی قدردانی اینکہ اس مکں روزے رکھے جائیں تراویح پڑھی جاے تلاوت قرآن کی جاے اعمال صالحہ کیےء جائیں مسلمان تو مسلمان بعض غیر مسلم بھی اس ماہ کا احترام کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے اس عظیم مہینہ میں اپنی دوکانوں اور ہوٹلوں کو بھی بند رکھتے ہیں
نزہۃ المجالس میں ایک واقعہ لکھا ہیکہ ایک مجوسی کا بیٹا وہ رمضان میں کھلے عام کھانا کھارہا تھا جس پر مجوسی باہ کو غصہ آگیا وہ اپنے بیٹے کو ڈانٹ ڈپٹ کیا اور یہ کہا کہ تجھے حیاء اورشرم آنی چاہیے کہ یہ مسلمانوں کا مقدس مہینہ ہے وہ لوگ روزہ رکھ کر بھوکے ہیاسے رہتے ہیں اور تو کھلے عام کھانا کھارہا ہے خیر بات آی اور چلی گئی اور دن گذرتے چلے گئے مجوسی کا انتقال بھی ہوگیا لیکن اس مجوسی کے پڑوس میں ایک بزرگ رہا کرتے تھے
انہوں نے خواب میں دیکھا ک ہ وہ مجوسی آدمی جنت کی بہاروں میں ہے مزہ کی زندگی گذاررہا ہے تو نزرگ نے سوال کیا کہ تم تو مجوسی تھے جنت تم کو کیسےمل گئ اور یہ انعامات کی بارش تم پر کیسےہورہی ہے تو اس مجوسی نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ میرا بیٹا رمضان المبارک کے مہینہ میں کھلے عام کھانا کھارہا تھا جس کو میں نے ڈانٹ دیا اور اس ماہ مبارک رمضان کا احترام کرنے کی ہدایت دی
اللہ تعالی نے میرے اس عمل کو اتنا پسند فرمالیا کہ مجھے کلمہ توحید کی توفیق مل گئ اور میں مسلمان ہوگیا اور اسلام کی حالت میں موت آی اور اب جنت کی بہاروں سے لطف اندوز ہورہا ہے سوچنے کی بات ہیکہ ایک بے ایمان آدمی کو محض احترام رمضان کی بناءپر جنت ملی اور ایک ہم مسلمان ہیں
جو عقیدۃ مسلمان ہیں اسلام کا کلمہ پڑھنے والے اور نبی کے امتی اور آپ کی تعلیمات کو ماننے اور جاننے والے ہیں اس کے باوجود آج سماج ومعاشرہ میں خود ہم ہی کھلے عام کھاتے پھریں بازاروں میں ٹھیلے اور بنڈیوں اور ہوٹلوں پر کھڑے ہوکر رمضان کی کھلے عام بے احترامی کریں یہ کیسے زیب دیتا ہےبطور خاص خواتین اورمسلم لڑکیوں کو شاپنگ اور خریداری کرتے وقت اس طرح کی بے ادبی وبے احترامی کرتے ہوے دیکھا جاتا ہے
کالج اور اسکول کی لڑکیاں بھی برقعہ پوش ہوکر سربازار غیر مسلموں کی بنڈیوں کے پاس کھڑے ہوکر کھاتے ہوے دیکھی جارہی ہیں مانا کہ کچھ قدرتی اعذار ہیں جن میں خواتین کو ترک روزہ کہ اجازت دی گیء لیکن کیا ہم مسلمانوں میں اتنی بھی غیرت اور شرم نہیں کہ رمضان المبارک کا بھی ہم احترام نہ کریں اور چوراہوں پر لگی ہوی دوکانوں بنڈیوں پر کھڑے ہوکر نقاب پوش بن کر یہ جرأت کررہے ہیں
خدارا اپنے پروردگار سے ڈرو اپنے دلوں میں اس ماہ مقدس کا ادب واحترام پیداکرو اگرہم مسلمان ہی اس کی ناقدری کریں گے اور بے محابا اس طرح کھلے عام سڑکوں پر کھاتے پیتے پھریں گے تو اغیار ہماری اس حرکت پر طعنے دیں گے اور پھر وہی حال ہوجاے گا جو آج حجاب اورمساجد کا ہورہا ہے باری تعالی کی نعمتوں کی قدردانی کرنے والے بنو ورنہ یہ نعمتیں بھی ہم سے چھیں لی جاسکتی ہیں اللہ پاک ہر مسلمان کو توفیق فہم وقدردانی نصیب فرماے بے ادبی وبے احترامی سے ہماری حفاظت فرماے
آمین بجاہ سید المرسلین
