اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام شاندار شعری نشست کا انعقاد

تازہ خبر مذہبی

دیوبند،29؍اگست

(رضوان سلمانی)
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن مظفرنگر کے زیر اہتمام جشن آزادی کے موقع پر ایک شاندار شعری نشست کا انعقاد ہوا۔جس کی صدارت مجاہد اردو ڈاکٹر شمیم الحسن اور نظامت کے فرائض ماسٹر الطاف مشعل نے انجام دئیے۔اس موقع پر صدارتی خطاب میں ڈاکٹر شمیم الحسن نے کہا کہ شعری نشستوں کے انعقاد سے اردو زبان کو فروغ حاصل ہوتا ہے، نئے نئے شعرا کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، انہوں نے اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے عہدیداران و سماجی رہنما اسعد فاروقی کو مبارک باد پیش کی۔ مشاعرہ کنوینر اسعد فاروقی نے کہا کہ ادبی نشستوں کا یہ سلسلہ ہر ماہ اسی طرح جاری رہے گا، جس سے اردو زبان کا فروغ ہو، یو ڈی او کے ضلع صدر کلیم تیاگی نے کہا کہ اردو ہماری تہذیب اور ہماری مادری زبان ہے، اس کی حفاظت اور فروغ ہماری ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ ہم سب کو چاہئے کہ اپنے گھروں میں اردو زبان کا استعمال کریں اور ایک اردو کا اخبار ضرور خریدیں۔ مشاعرے کا آعاز ارشد ضیا کی نعت پاک اور احمد مظفرنگری کے ترانہ سے ہوا۔منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔
مجھ کو بھلا دو، تم نے خط میں لکھا ہے ٭ بھول کے تجھ کو زندہ رہنا مشکل ہے ڈاکٹر تنویر گوہر
وہ جب بھی ہونٹوں پہ مسکان لیکے آتا ہے ٭ ہمارے قتل کا سامان لے کے آتا ہے احمد مظفرنگری
مسلسل جستجو سے یوں تو پنجرہ ٹوٹ جاتا ہے٭ مگر اس وقت جب تھک کر پرندہ ٹوٹ جاتا ہے شاہ زیب شرف
تجھے تا عمر چاہیگا یہ دل ساتھی نہ بدلے گا ٭ یہ تالا ٹوٹ جائیگا مگر چابی نہ بدلے گا ارشد ضیاء
کل کوء اور ہی دیکھے گا بہار گلشن ٭ ہم تو بس پیڑ لگاتے ہوئے مر جائیں گے نوید انجم
عمر بھر کی وفا ہم نے، ملا کچھ بھی نہیں ٭ مٹ گئے ہم وہ یہ کہتے ہیں، ہوا کچھ بھی نہیں الطاف مشعل
پھل پھول اور طائر کتنے ہیں ٭ گلشن میں مناظر کتنے ہیں تحسین علی اساروی
اس کے علاوہ صدام علی شاد اور خرم صدیقی نے بھی کلام پیش کیا۔ نشست کے مہمان خصوصی فلمی ڈائریکٹر و اداکار سلیم گور اور مہمان ذی وقار سردار بلجیت سنگھ رہے۔شرکاء میں پروفیسر ایشان اگروال، امیر اعظم ایڈوکیٹ، کلیم تیاگی، بدرالزماں خان، شمیم قصار، حاجی اوصاف احمد، ماسٹر شہزار علی، انجینئر نفیس رانا، انجینئر وسیم فاروقی، اظہر فاروقی، انجم ایڈووکیٹ، گوہر صدیقی، ڈاکٹر سلیم سلمانی، سلیمان صدیقی، شکیل احمد، ماسٹر اسرار، شاہویز راؤ، محمد اکرام قصار، محمد شاہویز، شاداب خان، محمد امجد، محمد حارث، حافظ فہیم، وغیرہ کے علاوہ متعدد معزز افراد و محبان اردو موجود رہے۔ بعد ازاں اسعد فاروقی نے سبھی کا شکریہ ادا کیا.