دیوبند،29؍اگست
(رضوان سلمانی)
ہندوستان میں اسلام کی اشاعت اور بلاتفریق مذہب وملت تمام انسانوں کے درمیان برابری مساوات اور سب کے ساتھ انصاف کا جو پیغام صوفیائے کرام نے دیا ہے اس کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام بہت تیزی سے پھیلا،یہی وجہ ہے کہ حضرت خواجہ غریب نواز سے لیکر حضرت صابر کلیری تک ہر جگہ بلاتفریق مذہب وملت عقید تمندوںکا ہجوم نظر آتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار عالمی شہرت یافتہ شاعر اور اتراکھنڈ اردو اکاڈمی کے سابق چیئرمین افضل منگلوری نے ایک مقدمات کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگان دین،علمائے کرام اور صوفیائے کرام نے ہمیشہ امن پسندی کا پیغام دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی عوام کی اکثریت بلاتفریق مذہب وملت امن پسندی ہے۔اکابرین اور صوفیائے کرام ہمشیہ سے سخت گیریت کے شدت کے ساتھ مخالف رہے ہیں۔
ہمارے ملک میں امن پسندی کی وجہ سے ہی اسلام کو فروغ حاصل ہوا ہے۔افضل منگلوری نے کہا کہ اسلام نے اپنے ابتداء سے ہی پوری دنیا کو امن کی دعوت دی اور شدت پسندی وسخت گیریت کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی اسلئے ہم ہندوستانی امن پسندی شہری ہونے کے ناطے تخریب کاری ذہنیت،منافرت اور تخریب کاروں کی پشت پناہی کرنے والوں کی مخالفت میں آوازیں بلند کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں کچھ تخریب کاری قوتیں ہمارے نوجوانوں کو نفرت اور عداوت کے سبق سکھا کر ہندوستان کوانتشار میں مبتلا رکھنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مسلسل ورغلانے کا کام کیا جارہا ہے ،جس پر ایجنسیوں کو سخت نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
افضل منگلوری نے بھی ملک کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تخریب کاری طاقتوں سے اپنے آپ کو بچائیں اور اپنے مستقبل کے لئے اعلیٰ تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز رکھیںانہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے سامنے اعلی تعلیم،بہتر مستقبل اور اچھی ملازمتوں کے حساس مسائل در پیش ہیں۔لہٰذا اپنے طور پر اور اپنے رہنماؤں اور لیڈران سے وہ اپنے مذکورہ مسائل کو حل کرنے میں تعاون طلب کریں۔تاکہ وہ باہنر،سلیقہ مند،ذمہ دار شہری،امن کے داعی اور مساوات میں یقین رکھنے کے ساتھ تمام مذاہب کا احترام کرنے والے انسان بن سکیں۔
