نئ دہلی :3؍فروری
(زین نیوز)
صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ ان کی گاڑی پر تین سے چار راؤنڈ فائرنگ کی گئی ہے۔ اویسی نے ٹویٹ کرکے اپنی گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع دی۔
انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ چھجرسی ٹول گیٹ پر ان کی گاڑی پر گولیاں چلائی گئیں۔ تین سے چار راؤنڈ فائر کیے گئے۔ فائرنگ سے گاڑی پنکچر ہوگئی۔ بعد میں وہ دوسری گاڑی سے واپس آیا۔۔ہم سب محفوظ ہیں۔الحمد اللہ
कुछ देर पहले छिजारसी टोल गेट पर मेरी गाड़ी पर गोलियाँ चलाई गयी। 4 राउंड फ़ायर हुए। 3-4 लोग थे, सब के सब भाग गए और हथियार वहीं छोड़ गए। मेरी गाड़ी पंक्चर हो गयी, लेकिन मैं दूसरी गाड़ी में बैठ कर वहाँ से निकल गया। हम सब महफ़ूज़ हैं। अलहमदु’लिलाह। pic.twitter.com/Q55qJbYRih
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) February 3, 2022
صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی جو کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات کی مہم میں مصروف ہیں میرٹھ کے کیتھور میں انتخابی مہم کے اختتام کے بعد وہ دہلی واپس ہورہے تھے کہ اس دؤران ان پر یہ حملہ ہوا ہے۔
جونہی بیرسٹراسدالدین اویسی کی گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع عام ہوئی ملک بھر میں اور ان کے حامیوں اور مداحوں میں تشویش کی لہر دؤڑ گئی ہے۔
I was leaving for Delhi after a poll event in Kithaur, Meerut (UP). 3-4 rounds of bullets were fired upon my vehicle by 2 people near Chhajarsi toll plaza; they were a total of 3-4 people. Tyres of my vehicle (in pic) punctured, I left on another vehicle: Asaduddin Owaisi to ANI pic.twitter.com/ksV6OWb57h
— ANI (@ANI) February 3, 2022
خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے بتایا کہ وہ میرٹھ کے کیتھور میں انتخابی پروگرام میں شرکت کے بعد دہلی واپس آرہے تھے۔ اس دوران چھجرسی ٹول پلازہ کے قریب گاڑی پر تین سے چار راؤنڈ فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ میں تین سے چار افراد ملوث تھے۔
जब अल्लाह बचाना चाहता है तो कोई कुछ नहीं कर सकता।https://t.co/FBRTzut9WF
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) February 3, 2022
گولی لگنے سے گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ اسد الدین اویسی نے ٹوئٹ میں گاڑی کی تصویر بھی ڈالی ہے۔ تصویر میں گاڑی پر گولیوں کے نشانات دکھائی دے رہے ہیں۔ اسد الدین اویسی کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد ٹول پلازہ کے قریب افراتفری کا ماحول تھا۔ پارٹی کے حامیوں کی بڑی تعداد ٹول پلازہ کے قریب پہنچ گئی۔
اپوڑ کے ایس پی دیپک بھوکر نے بتایا کہ اویسی کی گاڑی پر حملے کے بعد پولیس فوراً پہنچی اور اس معاملے میں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔ اس کے پاس سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ جبکہ اس کا ایک ساتھی فرار ہو گیا ہے جس کی تلاش جاری ہے
