اسکول کالجوں میں حجاب پہننے کی اجازت دینے سے ہائی کورٹ کا انکار

تازہ خبر قومی

حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ اسکول یونیفارم پہننا ضروری ہے۔
بنگلور :15؍مارچ
(زین نیوز)
کرناٹک میں گزشتہ 74 دنوں سے جاری حجاب تنازعہ پر ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملے کی سماعت کرنے والی تین رکنی بنچ نے اسکول کالج میں حجاب پہننے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ ہائی کورٹ نے طلباء کی جانب سے دائر درخواست کو خارج کر دیا ہے۔

چیف جسٹس رتوراج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس۔ دکشت اور جسٹس  معزز جسٹس قاضی زیب النسا محی الدین کی تین رکنی بنچ نے کرناٹک حکومت کے 5 فروری کے حکم کو ایک طرف رکھنے سے انکار کر دیا جس میں اسکول یونیفارم کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔

منگل کو کرناٹک ہائی کورٹ میں فیصلہ سنانے سے پہلے چیف جسٹس رتوراج اوستھی نے کہا کہ اس معاملے میں دو سوالوں پر غور کرنا ضروری ہے۔ پہلا- کیا حجاب پہننا آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی آزادی کے حق میں آتا ہے؟ دوسرا- اسکول یونیفارم پہننے کو کہنا اس آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھا۔

اس سے قبل کرناٹک حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا تھا کہ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ حجاب اسلام میں ضروری مذہبی رسومات کے تحت نہیں آتا ہے۔ ایسے میں ریاستی حکومت چاہتی ہے کہ تمام بچے یونیفارم میں تعلیمی اداروں میں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کی تین اہم باتیں

طلباء اسکول کالج میں یونیفارم پہننے سے انکار نہیں کر سکتے۔
اسکول یا کالج کو اپنی یونیفارم کا فیصلہ خود کرنے کا حق ہے۔
ہائی کورٹ نے حجاب تنازعہ سے متعلق تمام 8 درخواستوں کو خارج کر دیا

منگل کو فیصلہ سنانے سے پہلے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رتوراج اوستھی نے کہا کہ اس معاملے میں دو سوالوں پر غور کرنا ضروری ہے۔ پہلا- کیا حجاب پہننا آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی آزادی کے حق میں آتا ہے؟ دوسرا- اسکول یونیفارم پہننے کو کہنا اس آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھا۔

حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے سے قبل چیف جسٹس رتوراج اوستھی کی رہائش گاہ کے باہر سیکورٹی بڑھا دی گئی ۔

دارالحکومت بنگلورو سمیت کرناٹک کے پانچ اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ یہاں پر پورے جنوبی کرناٹک میں دفعہ 144 لگا کر اسکول اور کالج بند کر دیے گئے۔

حجاب کا تنازع اس سال جنوری کے مہینے میں شروع ہوا تھا۔ دراصل، اُڈپی گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج میں کچھ طالبات کو حجاب کی وجہ سے کالج کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

جس کے خلاف لڑکیوں نے احتجاج کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جا پہنچا۔ اس کے بعد آج ہائی کورٹ نے اس پر اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

کرناٹک ہائی کورٹ کی بنچ نے کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار سے قرآن پاک کی ایک نسخہ مانگا تھا تاکہ اس کی طرف سے دی گئی دلیل کو ثابت کیا جاسکے۔ جسٹس ڈکشٹ نے اس دوران پوچھا تھا کہ کیا یہ قرآن کا مستند نسخہ ہے، اگر یہ مستند ہے تو اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ قرآن کے بہت سے ترجمے ہیں۔

یکم جنوری سے شروع ہوا حجاب تنازع
کرناٹک میں حجاب کا تنازع یکم جنوری سے شروع ہوا۔ یہاں اڈپی میں 6 مسلم طالبات کو حجاب پہننے پر کالج کے کلاس روم میں بیٹھنے سے روک دیا گیا۔ کالج انتظامیہ نے اس کی وجہ نئی یونیفارم پالیسی کو بتایا تھا۔

اس کے بعد ان لڑکیوں نے کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی۔ لڑکیوں کا موقف ہے کہ انہیں حجاب پہننے کی اجازت نہ دینا آئین کے آرٹیکل 14 اور 25 کے تحت ان کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔

حجاب بمقابلہ زعفران کیسے شروع ہوا؟
کرناٹک کے کنڈا پورہ کالج کی 28 مسلم طالبات کو حجاب پہن کر کلاس میں جانے سے روک دیا گیا۔ اس معاملے کو لے کر لڑکیوں نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ اسلام میں حجاب لازمی ہے، اس لیے انہیں اس کی اجازت دی جائے۔ ان لڑکیوں نے کالج کے گیٹ کے سامنے بیٹھ کر دھرنا بھی شروع کر دیا تھا۔