کولکاتا:13؍اپریل
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
مغربی بنگال میں پانچویں مرحلے کی راۓ دہی سے قبل الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی پر انتخابی مہم چلانے پر 24 گھنۓہ کی پابندی عائد کی ہے۔
ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ کے خلاف آج کولکاتا میں گاندھی جی کے مجسمے پر احتجاج منظم کریں گی۔الیکشن کمیشن کی یہ پابندی رات 8 بجے تک رہے گی۔
ٹی ایم سی ذرائع کے مطابق پابندی ختم ہونے کے فوری بعد ممتا بنرجی بارسات میں ایک روڈ شو کریں گی۔
اسی کے ساتھ ان کی حریف بی جے پی کےامت شاہ اور پارٹی کے صدر جے پی نڈا کی جانب سے بھی انتخابی عوامی جلسہ کا انعقاد عمل میں آئیگا۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد ریاست میں ایک سیاسی تناؤپیداہوا ہے۔ ٹی ایم سی نے اسے جمہوریت میں یوم سیاہ سے تعبیر کیا ہے۔ واضح رہے کہ چندیٹلہ میں ایک ریلی میں ممتا بنرجی نے مسلمانوں سے آپس اتحاد اور ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی تھی ، جس کے بعد کمیشن نے ان کی اتخابی مہم پر پابندی عاید کر نےکا فیصلہ کی۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے پر شیوسینا کی حمایت حاصل ہے۔

شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے ٹویٹ کیا ہے کہ یہ کارروائی بی جے پی کے کہنے پر کی گئی ہے ، ہم بنگال رائل ٹائیگر کے ساتھ ہیں۔ رنجن چودھری نے کمیشن کو خط لکھاکانگریس کے ریاستی صدر ادیر رنجن چودھری نے الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا ہے کہ بنگال میں انتخابی جلسوں میں کورونا قوانین پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔
لہذا یہاں ایک تفصیلی ہدایت نامہ جاری کیا جانا چاہئے۔پابندی کے دوران کمیشن نے یہ تبصرہ کیاالیکشن کمیشن نے مغربی بنگال کی وزیر اعلی اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی کو مرکزی افواج کے خلاف بیانات اور مبینہ مذہبی جبلت پر مشتمل
بیان کے لئے 24 گھنٹے انتخابی مہم چلانے پر پابندی عائد کردی ہے۔
الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق ، ‘کمیشن اس طرح کے بیانات کی مذمت کرتا ہے جو ریاست بھر میں امن و امان کی سنگین مشکلات کا سبب بن سکتا ہے اور ممتا بنرجی کو مشورہ دیتا ہے کہ عوامی تاثرات کے دوران جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ ہے اس کی پاسداری کرے اور اپنے خلاف کاروائ کے استعمال کےلۓ الیکشن کمیشن کو مجبور نہ کرے اوراس طرح کے بیانات سے گریز کرے۔