از قلم: عبدالقیوم شاکرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
ملک کی بڑی عدالت سپریم کورٹ نے 50ہزار جرمانہ کے ساتھ وسیم رضوی کی عرضی کو خارج کردیایہ خبر پڑھ کر خوشی تو ہوی مگر یہ حقیقت اور سچای بھی دنیا والوں کے سامنے آگئی کہ انسان ہمیشہ اپنی اوقات کو یادرکھے اور کس کی شان میں کیا کہ رہا ہے یہ سوچ کربولے ورنہاوپر تھوکا اکثر منھ پر ہی آتا یے ملعون وسیم رضوی نے شاید یہ سوچا نہیں کہ جن آیات الہیٰ کے متعلق وہ منسوخی کا دعوی کررہا تھا وہ کسی بشر اور انسان کا کلام نہیں وہ اس مالک وخالق کاکلام ہے
جس نے اس کو اور ساری مخلوقات کو پیدا کیا یقینا وہ بھی اس بات سے واقف وآشنا تھا کہ آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی سے یہ کلام فصحاء وبلغاء زمانہ کے سامنے چیلنج کرتا آرہا ہیکہ اگر تم کو اپنی زبان دانی پر ناز ہے اور تم اس کو کلام بشر سمجھتے ہوتو پھر اپنے اعوان وانصار کے ساتھ مل کر اس کے مثل کوی ایک سورت نہ سہی ایک آیت یا اس کا کوی معمولی سا جزء پیش کرکے بتلاؤ لیکن دنیا کی اتنی لمبی عمر گذرتے بھی کسی نے آج تک اس جیسا کوی کلام نہ پیش کرپایا اور نہ تاقیام قیامت پیش کرپاے گا
چونکہ یہ کسی انسان کے بس کی بات ہی نہیں ہے علاوہ ازیں خود خالق کائنات ہی نے اس قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے تو کوی کیامجال اور حماقت کرے گا اس کو مٹانے تبدیل کرنے یا منسوخ قراردینے کی جو اس عقل سے پیدل پڑھے لکھے جاہل ملعون وسیم رضوی کی بات مان لے کہنے والوں نے تو بہت کچھ کہا اور لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھ لیا لیکن قرآن مجید کا ایک حرف تک بدل نہ پاے 26/آیات تو درکنارایک زبر کو زیر یا پیش کو زیر بھی کر نہ پاے قرآن مجید نسلابعد نسل امت مسلمہ کے خوش نصیب نونہالوں کے سینوں میں ان شاء اللہ محفوظ ہوتا چلاجاے گا اور وعدہ خداوندی کو پورا ہوتا ہوا یہ دنیا اپنی چشم سر سے دیکھے گی وسیم رضوی ملعون کی نسلیں اگر باقی رہیں تو وہ بھی دیکھیں گی اوراللہ دکھائیں گے دیر سویر سہی مگر کلام الہی کے خلاف اٹھنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی
اپنی دریدہ دہنی کی سزااس دنیا جہاں کے علاوہ آخرت میں َبھی بھگتنا پڑے گا محض اپنی انانیت اور تکبر کی خاطر جس نے اس کتاب الہی کے حصہ کو دہشت گردی کی تعلیم اور ٹریریزم کے شیوع کا ذریعہ بتلایا وہ خود مٹے گا اور اپنی اس انانیت والی دہشت گردی کے ساتھ ہی کسی دریا میں ڈوب مرے گا یاکسی زمین میں دھنس جاے گا اپنی اسی انانیت نے اپنوں سے بھی الگ کردیااور جن آقاؤں کے اشارہ پر اس نے ملت اسلامیہ کے دلوں کو ٹھیس پہونچای مذہبی کتاب کے بارہ میں بے جاہفوات کہ کر اپنی مسلکی ومذہب شعیت تشدد کا مظاہرہ کیا اور تسکین دل کا سامان کرلیا وہ اب ذہنی اور ظاہری اذیت سے کیسے چھٹکارا پاے گا وہ دنیا وآخرت دونوں جگہ ذلیل ورسواہوگا جس کی ایک زندہ مثال کل سپریم کی جانب سے عائد کردہ جرمانہ اور عرضی کو خارج کردینا ہے
اس بے وقوف انسان نے نہ اپنوں کے بارہ میں سوچا نہ ہی اپنی ذات کے بارہ میں اسی لئے وہ نہ ماں باپ اور بھای بہن ورشہ داروں کا رہا نہ ہی دنیا والے آقاؤں کا نہ خداہی ملا نہ وصال صنم ہم اپنے مسلمان بھای بہنوں کو بھی اس حقیقت سے واقف کرانا چاہتے ہیں کہ قرآن مجید کو چھوڑ کر کوی بھی انسان کامیاب نہیں ہوسکتا اس لےء اپنے رشتہ کو قرآن سے مضبوط کرکے عشق قرآن میں ڈوب کر اس کی تلاوت سماعت اور تفسیر ومعانی کو سمجھنے کی پوری پوری فکر کرنا چاہیے اب رمضان المبارک کا مہینہ آچکا ہے جو ہمارے لےء موقع ہیکہ ہم صحیح معنی میں قرآن کو پڑھنا سیکھ لیں اور پوری زندگی اس سے وابستہ رہ کر کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوجائیں اللہ پاک توفیق قدردانی نصیب فرماےّآمین