آئیے مسجدیں کھودیں۔شیولنگ نکلے تو ہمارا ور اگر نعشیں ملتی ہیں تو آپ کی

تازہ خبر تلنگانہ

حیدرآباد۔26 مئی
(زین نیوز )

ملک میں 36,000 مندروں کو منہدم کر کے اس کی مساجد تعمیر کی گئیں ہیں۔چاہے کسی مسجد کو کیوں نہ کھوداجائے اس کے نیچے شیولنگ ہی برآمد ہورہے ہیں۔ کاشی کی مسجد میں بھی ایسا ہی ہوا۔ اگر آپ تلنگانہ میں مساجد کھودیں گے تو آپ کو شیولنگ ہی ملیں گے۔

اگر کھدائی میں شیولنگ ملتا ہے تو یہ علاقہ ہمارا (ہندوں) کا ہوگا اور اگراس میںنعشیں ملتی ہیں تو وہ آپ (مسلم) کی ملکیت ہوںگی۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے نے دیا۔ انہوں نے صدر مجلس اسد الدین اویسی کو چیلنج کیا کہ کیا وہ مسجدکی کھدوائی کرنے کیلئے تیار ہیں۔

سنجے کل ہنومان جینتی کے موقع پر کریم نگر میں منعقد ہندو ایکتا یاترا میں شرکت کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے یہ اشتعال انگیز بیان باتیں کہیں جو ایک مقامی زبان کے روزنامہ میں شائع ہوئی جس سے ہمارے قارئین کو واقف کروانے کے مقصد سے یہ خبردی جارہی ہے تاکہ وہ ان کے ذہن اور مستقبل کے عزائم سے بہ خبر ہو جائیں ۔

‘انہوں نے کہا کہ کو تلنگانہ کو جو نحوست لگی ہے ہم اس کر زدرنگ سے دھوکر ہی چین کی سانس لیں گے۔انہوں نے لو جہادکہنے پرلاڈھی کا مزہ چکھانے اور تبدیلی مذہب کی صورت میں ہڈیاں توڑنے کا انتباہ دیا۔صدر ریاستی بی جے پی نے کہا کہ ریاست میں مدارس دہشت گردی کی تربیت گاہ بن چکے ہیں۔

ان حالات میں ان کو کمپیوٹر دینا اور مالی مدد کرنا باعث شرم ہے۔بنڈی سنجے نے ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر ہم مدارس کو ختم کر نے کے عزم کا اظہارکیااور کہا کہ ہم اردو زبان کو مستقل طور پر خاتمہ کر دیں گے۔اقلیتی تحفظات کو بھی منسوخ کرکے یہ تحفظات ایس سی، ایس ٹی، بی سی، ای بی سی میں تقسیم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بہت جلد رضاکار فائلز فلم آرہی ہے جس کے ذریعہان کے مظالم کو تلنگانہ عوام کو دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کریم نگر کے قلب میں واقع عیدگاہ کاخاتمہ ہونا ہے یا ویمولواڈا راجنا مندر کی درگاہ کو ہٹاناہو تورام راج آنا چاہیے۔

انہوں نے شرکا سے سوال کیا کہ کیا آپ ایسانہیں چاہتے؟بنڈی سنجے نے بالواسطہ مسلمانوں سے کہا کہ کریم نگر بس اسٹانڈ ، کوروٹلہ، جگتیال، لمبنی پارک‘ گوکل چاٹ، سائی بابا مندر میں بم دھماکے کرکے بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرنے والے آپ لوگ نہیں تھے؟

انہوں نے سوال کیا کہ کیا ورنگل میں پجاری اور ناگراج کا قتل آپ نے نہیںکیا ؟ انہوں نے کہا کہ وہ ریاست میں رام راج کے قیام کیلئے اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے اور ہنومان کے عقیدت مند، چھترپتی شیواجی کے وارث ہونے کے ناطے وہ ایک بزرگ کی طرح ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے چاہے ان پر کوئی بھی مصیبت کیوں نہ آئے۔

انہوں نے نوجوانوں سے کہاکہ وہ ان کے ساتھ ملکرمحاذ آرائی کرنے کیلئے آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ایمانداری اور عزم کے ساتھ کام کرنے کے باوجود ان کوبرا بھلا کہہ رہے ہیں۔

انہوں نے پاک۔ بھارت کرکٹ میچ کے دوران ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگانے والوں اور مذہب تبدیل کرنے والوں کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔بنڈی سنجے نے کہا کہ وہ کریم نگر کے وسطیچوراستہ پر واقع عیدگاہ کی برخواستگیکے لئے لڑنے کے جرم میں انہیں جیل میں محروس ہونا پڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں مارنے کی تین مرتبہ کوششیں کی گئی اس کے باوجود انہوں نے نہی کریم نگر اور نہ بھگواپرچم کادامن چھوڑا۔انہوں نے بتایا کہ سری نواسانند سرسوتی سوامی جی نے کہا کہ اگر سنجے کو چیف منسٹربنایا جاتا ہے تو سنہری تلنگانہ ممکن ہو سکے گا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کے سی آر نے عوام کے ساتھ کہاں تک انصاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاگیہ نگرم کی نام رکھائی ہو یا بھدرادری کو ترقی دینا ہوتو سنجے کا چیف منسٹر بننا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کیلئے وہ 27 سالوں سے کام کر ر ہے ہیں۔