Superim Court

سیکس ورکرز کو بھی عزت سے جینے کا حق ہے۔یہ ان کا پیشہ ہے جرم نہیں۔

تازہ خبر قومی

پولیس مجرمانہ کارروائی سے گریز کرے۔
پولیس کا جنسی کارکنوں کے ساتھ رویہ ظالمانہ اور پرتشدد : سپریم کورٹ

نئی دہلی: 27؍مئی
(زیڈ ایم این ایس)
جسم فروشی میں ملوث لوگوں کو بھی عزت کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ پولیس انہیں کسی بھی طرح ہراساں نہ کرے۔ اور نہ ہی انہیں کسی جنسی عمل پر مجبور کیا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے یہ باتیں کہی ہیں ۔ جسم فروشی کو ایک پیشے کے طور پر دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے پولیس اور ریاستوں کو کئی ہدایات دی ہیں۔ سپریم کورٹ نے پریس کونسل آف انڈیا سے صحافیوں کے لیے کچھ ضروری ہدایات جاری کرنے کو بھی کہا ہے۔

سپریم کورٹ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے بھی کہا ہے کہ جنسی ورکرس کے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ وہ بھی عام لوگوں کی طرح یکساں عزت اور تحفظ کے حقدار ہیں۔ جسٹس ایل ناگیشورا راؤ، بی آر گاوائی اور اے ایس بوپنا کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ جب یہ واضح ہو جائے کہ جنسی کارکن اپنی مرضی سے کام کر رہی ہے تو پولیس کو اس کے معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ پولیس کو بھی اس کے خلاف مجرمانہ کارروائی سے گریز کرنا چاہیے۔

بنچ نے کہا ہے کہ اگر کسی سیکس ورکر کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے تو جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے کو قانون کے مطابق فوری طبی امداد کے ساتھ دستیاب تمام سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ تین ججوں کی بنچ نے کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ پولیس کا جنسی کارکنوں کے ساتھ رویہ ظالمانہ اور پرتشدد ہے

سپریم کورٹ نے کہا کہ سیکس ورکرز ملک کے کسی بھی شہری کی طرح تمام بنیادی انسانی حقوق اور آئین میں دئیے گئے دیگر حقوق کے حقدار ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پولیس انہیں کسی بھی شکل میں ہراساں نہ کرے۔ ان کے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ سیکس ورکرز کو ان کی مرضی کے خلاف کوئی بھی جنسی سرگرمی کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ کی بنچ نے پریس کونسل آف انڈیا سے مناسب رہنما خطوط جاری کرنے کو کہا ہے، جس میں یہ واضح کیا جائے کہ گرفتاری، چھاپے یا کسی اور کارروائی کے دوران کسی بھی جنسی کارکن کی شناخت ظاہر نہیں کی جانی چاہیے۔ چاہے وہ ملزم ہو یا مظلوم

سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے شیلٹر ہومز کا سروے کرائیں، تاکہ جن لوگوں کو ان کی مرضی کے خلاف حراست میں لیا گیا ہے، ان کا جائزہ لیا جا سکے اور انہیں مقررہ مدت میں رہا کیا جا سکے۔ سپریم کورٹ کی ڈویژن بنچ نے یہ بھی کہا کہ جنسی کارکنوں کی طرف سے اپنی صحت اور حفاظت کے لیے استعمال ہونے والی چیزوں کو مجرمانہ مواد نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ایسے مواد کو اب عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا۔