آرمــــور گاندھی ’’ ابوالحسن صاحب‘‘ انسانیت اور خدمت خلق کا جیتـــــا جاگتـــا نمــــونــــہ

تازہ خبر تلنگانہ

محمد عبدالمصور
نمائندہ خصوصی ضلع نظام آباد
حضرت عبداللہ بن مسعودؓبیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال ہیں اور اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات میں سے وہ شخص بہت پسند ہے جو اس کے عیال( یعنی مخلوق) کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے‘‘اور ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’ یعنی لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔

آج کے اس پُر فتن دور میں انسانیت کا درس دیتے ہوئے خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ایک معمر شخصیت ابوالحسن صاحب موجود ہیں جنھیں لوگ’’ آرمور گاندھی ُ‘ کے لقب سے جانتے ہیں جو گذشتہ 20سالوں سے آٹو رکشاچلاتے ہوئے بلا لحاظ مذہب و ملت خدمت خلق میں مصروف ہیں جناب ابوالحسن صاحب سعیدا ٓباد کالونی آرمو رنظام آباد ضلع تلنگانہ ریاست کے متوطن ہیں و ہ 15؍ ا گسٹ 1942ء کوآرمور میں پیدا ہوئے ان کے والد محترم حاجی حسین صاحب مرحوم میں ایک سماجی کارکن تھے سماجی خدمت کا جذبہ بھی انھیں ان کے والد محترم سے ملا ۔

 

ابوالحسن صاحب میٹرک تک تعلیم حاصل کی معاشی وجوہات کی بناپر مزید تعلیم حاصل نہ کرسکے اور زندگی گذر بسر کے لئے ایک چھوٹی سے سائیکل دکان لگائی اور زندگی بسر کرنے لگے۔پھر بھی حالات سازگار نہ ہوئے تو وہ سنہ 1975میں سپنوں کے شہر ممبئی کا رُخ کیا وہ روزانہ کی اجرت پر مزدوری کیا کرتے تھے اور ہر ماہ اپنے اہل عیال کے لئے پیسے بھیجا کرتے تھے اس کے ساتھ انھوں نے خلیجی ممالک کے لئے ویزاء حاصل کرنے کی کوشش شروع کردی ان کی یہ کوشش رنگ لائی انٹرویو میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انھیں سعودی عرب کا ویزا حاصل ہوگیا اور وہ سعودی روانہ ہوگے۔

 

 

سعوری عرب میں جناب ابوالحسن صاحب اپنے کام کو دیانت داری محبت او رلگن سے کرتے تھے ان کے اس کام کی لگن اور محنت کو دیکھتے ہوئے سعودی کفیل نے انھیں کمپنی کے فورمین کے عہدہ پر فائز کردیا سعودی عرب میں دروان ملازمت انھوں نے عزت‘ دولت‘ شہرت‘ بہت کمائی اورایک طویل عرصہ دیار غیر میں گذارنے کے بعد جب وطن واپس ہوئے تو انھیں خیال آیا کہ عمر عزیز کے 60برس تو وہ اہل عیال کی کفالت کے لئے کمانے میں ہی گذار دئیے اس موقع پر انھوں نے تہیہ کرلیا کہ زندگی کے بقیہ ایا م وہ خدمت خلق میں ہی گزار دیں گے۔

 

انھوں نے ایک آٹو رکشا خریدا اور اپنے رکشا کے ذریعہ خدمت خلق میں مصروف ہوگے ۔ وہ ضعیف ‘ معذور‘ غریب و نادار افراد کو مفت ان کی منزل تک پہنچاتے ہیں اور مسلم بستیوں میں موجود غریب طلباء کے لئے نوٹ بکس کتابیں وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور ہر سال نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے لئے ترغیبی انعامات دیتے ہیں اور اپنے آٹو پر بیانر آویزاں کرتے ہوئے تعلیمی بیداری مہم چلاتے ہیں اورترک تعلیم کرنے والے طلباء کو تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اس کے علاوہ اپاہیچ ‘ اور نادار فقراء جو سڑک کے قریب بھیک مانگتے ہیں

انھیں وہ اپنے گھر سے کھانا لیکر جاکر کھلاتے ہیں وہ اپنے آٹو میں ایک پیٹرول کی بوتک رکھتے ہیں تاکہ کسی کی گاڑی میں پیٹرول ختم ہوجائے تو ان کی مددکرتے ہیں وہ کئی سالوں سے موسم گرما میں اپنے آٹو میں کا رنجن رکھ کر مختلف مقامات پر ٹھنڈا پانی پلاتے ہیں بالخصوص قبرستان کے پاس میت کی تدفین کے وقت اور شمشان گھاٹ کے پاس پانی پلاتے ہیں اسکے علاوہ سڑک پر موجود گڑھوں کی مرمت ( بھرتی) از خود کرتے ہیں۔
وہ اپنے آٹو کے پیچھے مختلف بیانر آویزاں کرتے ہوئے عوام کا شعور بیدار کرتے ہیں ‘ کبھی برائی مٹاو مہم او رکبھی نفرت مٹاو ٔ مہم و ددیگر اقوال تلگوزبان اورانگریزی زبان میں لکھاکر آویزاں کرتے ہیں۔

 

جناب ابوالحسن صاحب سے جب استفسار کیا جاتا ہے کہ آخر وہ یہ سب کیوں کرتے ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں کہ وہ یہ سب صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے کرتے ہیں اور نبی رحمت ﷺ کے اخلافق کو تمام انسانیت تک پہنچانے کے لئے کرتے ہیں او ران کاموں کی وجہ سے غیر مسلم افراد میں پھیلئے ہوئے اسلام کے خلاف شکوک و شبہات کو دور کیا جاسکے۔اصل میں وہ ان کاموں کے ذریعہ تعارف اسلام کا کام کررہے ہیں وہ مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہر ایک مسلمان داعی ہے اپنے اخلاق کے ذریعہ اسلام کا سچا تعارف ابنائے وطن تک پہنچائے ‘ ہمارے ابنائے وطن اچھے سلوک اچھے اخلاق کے پیاسے ہیں ان سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ان کے اندر آخر یہ جذبہ کیسے پیدا ہوا تو وہ کہتے ہیں کہ ان کے والد محترم حاجی حسین صاحب کی تربیت اور ان کے مشفق اساتذہ جن میں قابل ذکر صالح بکران صاحب‘جناب ریاض الدین صاحب جناب مسعود علی صاحب‘ جناب نصیر الدین صاحب‘ جناب عیسیٰ صاحب ‘ وغیرہ نے انھیں تربیت دی اور وہ بہار یار جنگ کی زندگی سے بہت متاثر ہیں۔

 

جناب ابوالحسن صاحبکی خدمت خلق کے اس کام کو دیکھتے ہوئے کئی غیر مسلم تنظیموں نے انھیں درجنوں ایوارڈ سے نوازا اور کئی تلگو کتابوں ‘ ساونیر میں ان کی سوانح عمری شائع کی اور تلگو پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں وہ چھائے رہے اور انگریزی اخبارت ‘‘ دی ہندو ‘‘ نے ان کی اسپیشل اسٹوری شائع کی اور سوشیل میڈیا پر ان کے لاکھوں فالورس موجود ہیں حکومتی سطح پربھی انھیں کئی ایوارڈ س سے نوازاجاچکا ہے انھیں سال 2017میں نئے سا ل کے موقع پر کارنامہ حیات ایوارڈ دیا جاچکا ہے۔

 

 

جناب ابوالحسن صاحبان دنوں بے گھر افراد کے لئے گھر کی تعمیر کے لئے ایک مہم چلارہے ہیں وہ کہتے ہیں ہر صاحب ثروت شخص اپنے محلے میں سروے کرے کہ کوئی ایسا غریب و نادار شخص موجود ہے جو بے گھر ہو اور وہ واقعی مدد کا مستحق ہو تو بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے ساتھ دو لاکھ روپئے میں گھر تعمیر ہوجائیگا صاحب ثروت لوگ آگے آئیں اور یہ کام کریں اس تحریک کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انھوں نے بودھ میں ایک غریب شخص کے لئے مکان تعمیر کروایا اس میں انھوں نے اپنی ذاتی رقم 50 پچاس ہزار روپئے لگائی اور دوسرے صاحب ثروت افراد کو ترغیب دلاکر یہ کام انجام دیا اس طرح ایک اور مکان زراعت نگر آمور ضلع نظام آباد میں تکمیل کے مراحل میں ہے انھوں نے اس موقع پر مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور بلاتفریق مذہب و ملت انسانیت کے لئے کام کریں اوراپنے مسلکی ‘ فقہی ‘ جماعتی ‘ گروہی ‘ اختلافات سے بالاطاق رکھ کر کام کریں اور دکھی انسانیت کی مدد کریں ۔
وہ جب کبھی فرصت میں ہوتے ہیں تو یہ اشعار گنگاتے ہیں
خدا سے دیکھو میں کتنا ڈرہا ہوں
تجوری جب دونوں بھر رہا ہوں
پڑوسی بھوکا ہے ‘ تیسرا دن ہے
میں چوتھی بار عمرہ کررہا ہوں
انھوں نے کہاکہ
’’منزل تیری تلاش میں گھومے کی دربدر
خلق خدا راہ سے روڑے ہٹا کر دیکھ‘‘

محمد عبدالمصور