آہ۔مولانا زکریا قاسمی۔ خوش گفتار اور ذہین انسان

تلنگانہ مضامین

مفتی زکریا قاسمی کورٹلہ کے انتقال پُر ملال پر تعزیتی کلمات

ہفتہ کی صبح میری فجر سے بھی پہلے فون کی کھنٹی بجی موبائل دیکھا تو اگلی جانب عزیز دوست مفتی جاوید نعمان قاسمی کی آواز ،علیک وسعلیک سے بھی پہلے موصوف نے کہا”سلیمان بھای بھیا کا ابھی انتقال ہوا ،پھر کہا زکریا بھائ کا ابھی شوگر بڑھنے سے انتقال ہوا” کانوں کویقین نہیں آیا۔ کہ میرے ایک سنئیر ساتھ دنیا میں نہیں رہے۔
کچھ لوگ زندگی سے اتنے بھرپور ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ موت کا تصور کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ زکریا بھائی ایسے ہی تھے۔ درمیانہ قد، خوش،کم گفتار گم سم اور ذہین انسان تھے۔
میری ان سے ملاقات سن 2006 اس وقت ہوئی تھی جب ہم دونوں فیض العلم کریم نگر میں زیر تعلیم تھے۔ سینیئرساتھی کے طور پر مولانا زکریا قاسمی بہت پروقار انداز میں پیش آتے تھے۔ ہمیشہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے رکھتے اور اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔
مرحوم زکریا نے جن اداروں سے تعلیم حاصل کی اتفاق سے مجھے بھی ان میں سے دو اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ۔ ان کے بارے میں جب بھی سنا اچھا ہی سنا۔ زمانہ تعلیم کئی بار کچھ بات کرنے کا اتفاق ہوا ۔ ہمیشہ شائستگی کے ساتھ گفتگو کرتے تھے اور نہایت سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ہر ایک سے دوستی چلتی رہتی تھی۔


جواں سالی میں ان کی موت نے علما برادری کو شدیدصدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا۔ کوئی ان سے کل پرسوں فون پر ملنے کو یاد کر رہا ہے تو کوئی ہفتہ قبل ہونے والی ملاقات کا ذکر کر رہا ہے۔

میری آخری ملاقات 29/جون 2021 کو مفتی جاوید نعمان قاسمی کے تقریب ولیمہ میں کورٹلہ جانا ہوا تھا جہاں زکریا بھائ سے مختصر گفتگو ہوئ جس میں اپنی ذیابیطس کا ذکر کر رہے تھے۔ کسے کیا پتہ تھا یہ ہی ذیابیطیس انھیں ہم سے جدا کرنے کا سبب بنے گی، اللہ انھیں اور میرے عزیز دوست عبدالعلی صدیقی ندوی کو غریق رحمت کرے ،اور ہم سب کو عافیت والی زندگی اور خیر والی موت نصیب کرے آمین
خیر اندیش
سلیمان سعود رشیدی