آہ _! الحاج مولوی افتخار صاحبؒ فکرالیاسی کا ایک سالار رخصت ہوگیا

بین الریاستی تازہ خبر

ازقلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
9505057866
دعوت وتبلیغ اور اعلاء کلمۃ اللہ جس کی زندگی کا مقصد حیات اور خلاصہ زیست تھا اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنا جس کی فکر ولگن تھی جس نے تجردانہ زندگی گذار کر اپنا اوڑھنا بچھونا سب کچھ دعوت الی اللہ کو بنالیا تھا ازدواجی زندگی اور اس کے مختلف النوع مسائل میں اپنی فکرکو بانٹنے پر دین کی محنتوں پر ہر قسم کی توجہ مرکوز کرنے کو ترجیح دینے والا وہ سالارامیر تبلیغی جماعت نظام آباد جناب الحاج مولوی افتخار صاحب رح بھی آج ہم سے رخصت ہوگئے
اناللہ واناالیہ راجعون لگتا ہیکہ اب شہر نظام آباد بھی اہل اللہ وبزرگان دین اور علماء وقائدین سے خالی ہوگیاہے آج رمضان المبارک کےتین روزے گذرے آدھی رات تقریبا گذرنے ہی والی تھی اور چوتھے رمضان کی آمد ہورہی تھی راقم سطور اپنی تمام تر مصروفیات کے بعد محوخواب تھا کہ اچانک جناب افضل الدین صاحب صدرعیدگاہ کمیٹی کی کال موصول ہوئی جس میں اطلاع دگئی کہ امیر محترم کاانتقال ہوگیا

بس چشم زدن میں یہ اطلاع جنگل کی آگ کی طرح آنا فانا پورے ملک میں پھیل گیء اور کلمات استرجاع سوشل میڈیاپر مسلسل موصول ہوتے رہے یقینا بزرگان دین کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا یہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے جو بعد والوں کو سنبھل جانے کا اشارہ دیتے ہیں امیر محترم نظام آباد سے کچھ چالیس کلومیٹردور مدہول نامی گاؤں کے متوطن تھے لیکن دین کی محنتوں اور بندگان خدا کو اپنے مقصد زندگی سے واقف کروانے کی تڑپ اور کڑھن لے کر شہر نظام آباد منتقل ہوگئےتھے اور اسی تگ ودو میں اپنی پوری زندگی بسر کرکے آسودہ خاک ہوگئے
جن کی عظیم ترین دینی خدمات کا ایک مستقل باب ہے جو ہمت والوں ہی کاکام ہے جن مجاہدات سے آپ نے اپنی منفردانہ شان کے ساتھ زندگی گذاری ہے اس کی مثال شاید ہی ڈھونڈنے پر مل سکے راقم سطور اپنے زمانہ طفولیت ہی سے آپ کے نام اور کام سے آشنا تھا استاد محترم مولانا سید ولی اللہ قاسمی علیہ الرحمۃ کے ہمراہ کئ بار آپ سے ملاقات وبات چیت کا موقع ملا بڑے ہی نرالے انداز سے گفتگو فرمایا کرتے تھے

ہر عالم وحافظ کو بھی اپنے انداز سے جماعت کے کام میں جڑنے کا شوق دلاکر وقت لگانے کی تاکید فرمایا کرتے تھے شاید آپ گورنمنٹ ملازم کی حیثیت سے بھی کئ سال شعبہ تعلیم میں اپنی خدمات کو جاری رکھا اور پھر دین کی اسی محنت کی خاطر اس خدمت کو خیر باد کہ کر اپنے آپ کو دعوت وتبلیغ کے لےء وقف کردیا تھا اور تادم آخریں جامع مسجد نظام آباد ہی میں قیام پذیر رہے اور تمام تر ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی انجام دیا ہرآنے اور جانے والی جماعت کااستقبال وکارگذاریاں سنتے کام کرنے والوں کی ہمت افزای فرماتے اور کام کے سلسلہ میں یونے والی کوتاہیوں کو عمدہ اور اچھے پیراے میں درست کرنے اور کرانے کے طریقے بتلاتے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو راہ راست پر لاکھڑا کیا جن کے بہت سارے حکیمانہ وتجربہ کار اقوال زبان زد عام وخاص ہے جن میں ایک جملہ کہ دین کاکام کرتے کرتے مرنا اور مرتے مرتے کرنا ہے اسی پر وہ عمل پیرا رہ کر اس دنیا سے رخصت ہوے ہیں اللہ پاک کروٹ کروٹ سکون وچین نصیب فرماے

آپ کی عظیم خدمات کو قبول فرماکر نجات وبخشش اور رقع درجات کا وسیلہ بناے آپ کی اسی فکر کو ہمارے اندرمنتقل فرماءے آمین بجاہ سیدالمرسلین