از قلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءنظام آباد9505057866
اسلام ایک مکمل مذہب اور ضابطہ زندگی ودستور حیات ہے اس کی جملہ تعلیمات پاکیزہ صاف اور ستھری ہے اسلام نہ دہوکہ کھانے کو اچھا سمجھتا ہے نہ ہی دہوکہ دینے کو اسی طرح جھوٹ ناحق کسی کو تکلیف پہونچانا اور کفار وفساق یہودونصاری کی معمولی مشابہت سے بھی منع کردیتاہے
عام معاملات زندگی تو درکنار عبادات میں بھی رتی برابر غیر اسلامی چیزوں یا دیگر مذاہب سے مشابہت کو برداشت نہیں کیا گیا جیسا کہ محرم الحرام کے روزوں سے متعلق واضح ہدایات ہیں کہ صرف دس تاریخ کا روزہ نہ رکھو اس لئے کہ اس سے یہودونصاری سے مشابہت نظر آتی ہے بلکہ دس کے ساتھ ایک اگلا یا پچھلا دن ملا کر روزہ رکھو یہ اسلامی طریقہ ہے جس کی حضور علیہ السلام نے ہم کو تعلیم دی ہے
اسلامی معاشرہ میں جہاں اور بیت ساری برائیاں دوسرے مذاہن سے در آئیں ہیں انہی میں سے ایک رسم بد ماہ اپریل کی ایک تاریخ کو اپریل فول منانا ہے جو کسی بھی اعتبار سے اسلامی عمل قرار نہیں دیا جاسکتا ہے نہ تاریخی اعتبار سے اور نہ ہی شرعی وعقلی اعتبار سے اس لےء امت مسلمہ کے ہر فرد بطور خاص تعل یافتہ نوجوانوں اور لڑکیوں کو اس سے اجتناب کرنا اور کرانا ہماری ذمہ داری ہے حضرت مولا نامفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی اپریل فول کی تاریخی حیثیت کے حوالہ سے رقمطراز ہیں کہ اکیس مارچ سےموسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوتی ہیں
جس کو بعض لوگوں نے اس طرح تعبیر کیا کہ نعوذ باللہ قدرت ہمارے ساتھ مذاق کرکے ہمیں بے وقوف بنارہی ہے لہذا لوگوں نے بھی اس زمانہ میں ایک دوسرے کامذاق بنانا شروع کیا اور چلتے چلتےبیہ ایک اپریل تک سلسلہ جا پہونچا اور اپریل فول مناناایک بری رسم کا لوگوں میں چلن ہوگیا اور بھی مؤرخین نے اس کی وجوہات لکھی ہیں لیکن ہم شریعت اسلامیہ کے ماننے والے ازروے شرع دیکھیں کہ کہا حق ہے اور کیا ناحق اسی کے مطابق عمل کریں اسی میں ساری انسانیت کی بھلای اور نجات مضمر ہے
چنانچہ اس رسم بد میں واضح طور پر جھوٹ دہقکہ دہی اور تمسخر پایا جاتا ہے جو نص قطعی قرآن مجید اور احادیث نبویہ سے معلوم ہوتا ہیکہ ناجائزاور حرام ہے لہذ ا اس سے بچنا چاہیے اس رسم بد میں یہود ونصاری کہ مشابہتجھوٹا اور ناحق مذاق کھلم کھلا جھوٹ بولنا دہوکہ دینا دوسروں کو اذیت پہونچانا ایسی بہت ساری برائیاں پای جاتی ہیں لہذا یہ رسم قابل ترک ہےامام غزالی رح فرماتے ہیں کہ مزاح اور مذاق پانچ شرطوں کے ساتھ جائز اور درست ہے بلکہ حسن اخلاق میں داخل ہے لیکن ان میں سء ایک بھی شرط مفقود ہوں تو وہ مزاح دائرہ جواز سے نکل کر ناجائز وحرام بن جاتا ہے مذاق بقدر ضرورت ہوںانسان اس کا عادی نہ بن جاےحق اور سچی بات ہوں اس سے وقار کے ختم ہونے کا اندیشہ نہ ہومذاق کسی کی اذیت کا باعث نہ ہوں اب ہم خود فیصلہ کرلیں کہ اپریل فول منانے میں کیا ان شرائط کا.لحاظ رکھا جاتا ہے ہرگز نہیں بلکہ بعض دفعہ تو انسان کو اس رسم بد کہ وجہ سے نا ختم ہونے والا صدمہ اور تکلیف پہونچ جاتی ہے
جس سے انسان اپنی دوستی اور رشتوں کو بھی توڑ ڈالتا ہے حالانکہ قطع رحمی اور رشتوں ناطوں کو توڑنا اکبر الکبائر ہے جس سے منع کیا گیا ہے بہرکیف آج مسلم سماج اور معاشرہ کے جدید تعلیم یافتہ بچے اور بچیاں ایک فیشن کے طورپر اس رسم بد کو منانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اللہ پاک امت مسلمہ کی حفاظت فرماے قرآن وحدیث کی تعلیمات کو اپنانے اور عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرماے آمین
