اگنی پتھ آرایس ایس کی ایک منظم سازش۔ کیڈر کو فوجی تربیت دینے کا منصوبہ

تازہ خبر قومی

سیاسی مفادات کے لیے نوجوانوں کے کیریئر اور زندگی سے کھیلنے کی کوشش
ہندو راشٹر بنانے کا منصوبہ‘ سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر کےرحمان خان

بنگلور 9 1/جون
(ایجنسیز )
سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر کے رحمان خان نے اگنی پتھ اسکیم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئےکہا ہے کہ اگنی پتھ دراصل آرایس ایس کی ایک منظم سازش ہے، اس اسکیم کے پس پردہ سنگھ اپنے کارکنان کو فوج میں بھرتی کر کے اسے تربیت دلانا چاہتی ہے، چار سال تربیت حاصل کر لینے کے بعد وہ آگنی ویر کی سند حاصل کر لینگے۔ اور سماج میں بدامنی پھیلائیں گے، تا کہ آرایس ایس کا منصوبہ ہندوراشٹر بننے کی راہ ہموار ہو سکے۔

دوسری جانب اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے قومی سیکرٹری مصعب قاضی نے کہا اگنی پتھ اسکیم اس ملک کے طلبا ونو جوانوں کو مستقبل کی راہیں فراہم کرنے میں حکومت کی مکمل ناکامی کی طویل فہرست میں ایک اور اضافہ ہے۔فوج میں چار سالہ کاکنٹریکٹ پر ملازمت متعارف کروانا روزگار فراہم کرنے کا ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پرائمری سے لے کر اعلی تعلیم تک طلبا کے ہمہ جہت ارتقا کی بجائے محض فنی مہارتوں کو پروان چڑھائے جانے پر زور دیا ہے جو کہ بنی تعلیمی پالیسی میں واضح طور پر نظر آ تا ہے ۔یہ اسکیم اسی کی ایک کڑی ہے ۔ قلیل مدتی تربیت نو جوانوں کی بڑی تعداد کو با قاعدہ روزگار یا محکم مستقبل دیے بغیران کے عسکریت پسند بننےکا خدشہ بھی پیدا کرتی ہے۔کسی بھی سماج کے لیے یہ امر نقصاندہ ہے کہ نو جوان تشدد کہ راستہ اختیار کرنے لگیں۔ حالیہ دنوں میں حکومت
بھرتی کے عمل کے ذریعے مخلوعہ جائیدادوں کو پُر کرنے کے بجائے مختصر مدت کے کنٹریکٹ پر تقرریوں کو ترجیح دی رہی ہے۔

اگر چہ یہ عمل کسی بھی شعبے میں نقصان دہ ہے، لیکن سی مسلح افواج جیسے اہم اسٹریٹجک شعبے کے لیے خاص طور پر تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے ۔ ہمارا ماننا ہے کہ اگنی پتھ اسکیم کوفوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے اور سیاسی مفادات کے لیے نوجوانوں کے کیریئر اور زندگی سے کھیلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

یہ ظاہر ہے کہ پرتشدد مظاہرے صرف اس اسکیم کا رول نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر پھیلی بیروزگاری اور اس پر حکومت کی برسوں کی بے عملی پر شدید ناراضگی کا بھی اظہار ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ ہم نو جوانوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے احتجاجی مظاہرے پرامن رہیں۔