اہل ثروت سے ایک اہم اپیل

تازہ خبر تلنگانہ

ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء

واستادعربی ادارہ مظہرالعلوم نظام آباد
9505057866
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں اور آفتاب نیم روز کی طرح ظاہر وباہر ہیکہ مدارس اسلامیہ حفاظت دین کے قلعے اور علوم اسلامیہ کے سرچشمے ہیں یہاں سے روح انسانیت کی تشنگی کا مداوا ہوتا ہے نسل انسانی کی تعلیم وتربیت کی یہ آماجگاہ ہے دین اسلام کی بقاء وتحفظ اور اشاعت دین کے اسباب میں سے ایک بڑا ظاہری سبب ہے جس کا راست تعلق صفہ کے چبوترہ والی دینی درسگاہ سے ہے اسلامی ومعاشرتی ضرورتوں کا یہ مخزن ہے

جن کا عظیم مقصد صرف اور صرف ایسے افراد تیار کرنا ہے جو ایک طرف اسلامی علوم کے ماہر دینی کردار کے حامل اور فکری اعتبار سے صراط مستقیم پر گامزن ہوں
تو دوسری طرف وہ مسلمانوں کی دینی واجتماعی قیادت کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں
ان مدارس اسلامیہ میں تہذیب وتمدن غیرت وحمیت ایمان داری اور وفا شعاری اور ان تمام اخلاقی ومعاشرتی قدروں کی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے جن سے دنیا میں بسنے والے ایک امن پسند شہری کو آراستہ ہونا چاہیے

ہمارے اکابر علماء کرام نے اسلامی تہذیب کو مغربیت کے سیلاب سے محفوظ رکھنے کی غرض سے محض رضاے الہی کی خاطر ان مدارس کی بنیادرکھی جو الحمد للہ آج پوری دنیا کے کونہ کونہ میں پھیل کر مسلمانوں کو فکری وذہنی ارتداد سے بچانے کاکام کررہے ہیں یہ مدارس اسلامیہ ہی ہیں جو اپنی بساط کے مطابق پوری حکمت عملی اور تدبر وفراست کے ساتھ ہر محاذ پر دشمنان دین و اسلام کا مقابلہ کرتے آرہے ہیں
بہرکیف
موجودہ حالات میں ان مدارس کا مالی تعاون کرنا ان کی بقاء وتحفظ کے لےء ہاتھ بٹانا ہر مسلمان کا فریضہ ہے
یہ مدارس مجموعی طورپر پورے ملک اور قوم کا ایک بیش بہا اثاثہ ہے
گذشتہ دوسال سے انتہای آزمائشی دور چل رہا ہے جہاں ملک کے دیگر شعبے متاثر ہوے ہیں وہیں تعلیم کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا اور ہورہا ہے خدا جانے اور کب تک یہ آزمائش جاری رہے گی

تعلیمی میدان میں مدارس اسلامیہ وہ واحد درسگاہیں ہیں جو سب سے زیادہ تعلیمی اعتبار سے بھی اور معاشی اعتبار سے بھی متاثر ہوے ہیں
نظام تعلیم تو پھر بھی کسی نہ کسی درجہ میں اپنی اپنی بساط کے مطابق کارگر رہا
لیکن مالی آمدنی اور اسباب جمع میں مدارس بہت زیادہ متاثر ہوے ہیں اس لےء امت مسلمہ کی ذمہ داری اب یقینا دوہری ہوجاتی ہیکہ وہ زیادہ سے زیادہ ان مدارس کو تعاون دے کر ان کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کریں
راقم سطور پوری دیانت وامانت کے ساتھ یہ مشورہ امت مسلمہ کے مالداروں اور اہل ثروت کو دینا چاہتا ہیکہ بطور خاص زکوۃ کے مد کو مدارس ہی کے لےء مختص کردیں

اس میں کوی دو راے نہیں کہ آپ کے خاندان اور تعلق داروں میں بھی مستحقین زکوۃ ہوں گے ان کو بھی ضرورت ہوگی وہ بھی امیدیں لگاے ہوے ہوں گے لیکن ہماری جان سے زیادہ عزیز اور اہم یہ مدارس اسلامیہ ہیں جن کا حق آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں آپ پر زیادہ ہے اس لےء اعزاء واقرباء کو دیگرمدات سے امدادکریں لیکن زکوۃ کو اگر مدارس اسلامیہ کے حوالہ کریں تو شاید بہت اچھا ہوگا

ان مدارس اسلامیہ سے ہر سال امت مسلمہ کو حفاظ علماء اور دین کے داعی ملتے ہیں جو مکاتب ومدارس یا ٹیوشن کے ذریعہ امت کے نونہالوں کے دین وایمان کی حفاظت کا عظیم کام انجام دیتے ہیں
اس لئے بھی مدارس کا حق زیادہ بنتا ہیکہ آج کے اس پرفتن دور اور فسطای طاقتوں کے زور میں یہ مدارس پورے عزم وہمت کے ساتھ خدمت دین اشاعت دین اور حفاظت دین میں لگے ہوے ہیں

لاک ڈاون اور مسلمانوں کی معیشت کی تباہی سب کے سامنے ہیں مگر دینی مدارس میں بہت سارے ایسے مدارس ہیں جو اہل ثروت سے قرض مانگ کرمعلمین کی تنخواہوں کا انتظام کےءہیں
بہت سارے وہ ذمہ داران ہیں جنہوں نے انتظام تو نہں کیا مگر اپنے ان محنتی اساتذہ کی قربانیوں کے پیش نظر وعدہ کیا کہ آپ کو آپ کا.مشاہرہ یسرت وآسانی کے بعد دیا جاے گا وغیرہ گرچیکہ آپ کا مالی ومعاشی اور تجارتی مسئلہ بھی پیچیدگیوں

کا شکار ہوا لیکن اس کے باوجود آپ کو چونکہ یہ فریضہ زکوۃ اداکرنا ہی کرنا ہے
جس سے کسی بھی صاحب نصاب کو مفر نہیں ہے بھلے اس سال زکوۃ کم نکلے لیکن جو بھی نکلے وہ مدارس کا حق سمجھکر مدارس کے ذمہ داران تک پہونچادیں تو امت مسلمہ کی سب سے بڑی اوراہم ضرورت میں آپ کی یہ رقم جمع ہوگی جس کا ثواب عنداللہ ہی پتہ چلے گا

اس لےء ہم اپیل کرتے ہیں کہ مدارس اسلامیہ کی بھرپور مالی امداد کی جاے اور پوری دلجمعی اور یکسوی کے ساتھ آنے والے سال ان کو کام کرنے میں راحت مل جاے
اللہ پاک سب کو توفیق عمل نصیب فرماے
آمین