ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے کے خلاف ایک اور ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

تازہ خبر قومی

غداری کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت مانگ۔ ممبئی ہائی کورٹ درخواست دائر

ممبئی: 7؍مئی
(زیڈ ایم این ایس)
مہاراشٹر میں لاؤڈ اسپیکر اور ہنومان چالیسہ پر جاری تنازعہ کے درمیان مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
سانگلی کے بعد مہاراشٹر کی ایک اور عدالت نے 2008 کے کیس میں راج ٹھاکرے کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا۔دراصل، بیڈ ضلع کی پرلی کورٹ نے 2008 کے ایک معاملے میں ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے۔ دوسری جانب ممبئی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں راج ٹھاکرے کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سال 2008 میں ایم این ایس کارکنوں نے راج ٹھاکرے کی حمایت میں ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں پر پتھراؤ کیا تھا۔ پولیس نے اس واقعہ کے حوالے سے مقدمہ درج کرلیا تھا۔ اب عدالت نے اس معاملے میں ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں پر پتھراؤ کے معاملے کی سماعت عدالت میں شروع ہونے کے بعد راج ٹھاکرے کو اکثر عدالت میں حاضر ہونے کو کہا جاتا تھا۔ تاہم راج ٹھاکرے نے کسی بھی سماعت میں شرکت نہیں کی۔ ضمانت کے باوجود مسلسل تاریخوں پر عدم پیشی پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے گئے۔

لاؤڈ سپیکر کے معاملے میں بھی مسئلہ بڑھنے والا ہے۔ راج ٹھاکرے کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں غداری کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت مانگی گئی ہے۔ یہ عرضی پونے میں مقیم کارکن ہیمنت پاٹل نے دائر کی ہے۔ کہا گیا ہے کہ مہاراشٹر حکومت اور ممبئی پولیس کو راج ٹھاکرے کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی جائے۔

اس کے پیچھے وجہ بتاتے ہوئے عرضی میں کہا گیا ہے کہ راج نے یکم مئی کو اورنگ آباد ریلی کے ذریعہ بدامنی پھیلانے کی کوشش کی۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ٹھاکرے نے اورنگ آباد ریلی میں این سی پی کے سربراہ شرد پوار کے خلاف بات کی تھی، جس سے پارٹی کارکنوں میں بے چینی پھیل سکتی ہے اور ریاست میں امن میں خلل پڑ سکتا ہے۔

بتا دیں کہ راج ٹھاکرے کی تقریر کے بعد اورنگ آباد پولس نے ایم این ایس سربراہ کے خلاف ان کی ریلی کا وائرل ویڈیو دیکھ کر ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ راج ٹھاکرے نے 3 مئی تک مساجد سے لاؤڈ سپیکر ہٹانے کے الٹی میٹم کا اعادہ کیا، جس میں ناکام ہونے پر وہ 4 مئی سے اذان کی آواز پر ہنومان چالیسہ پڑھیں گے۔جس کے بعد سے مہاراشٹر میں ہنومان چالیسہ کو لیکر تنازعہ شدد اختیار کرگیا ہے