این ٹی وی رپورٹر ضمیرالدین کا 48 گھنٹوں کے بعد بھی کوئی سراغ نہیں

تازہ خبر تلنگانہ
سرچ آپریشن کل صبح تک کے لئے ملتوی، افراد خاندن اور صحافیوں میں مایوسی!! 
جگتیال : 14؍جولائی
(عمران زین)
جگتیال کے این ٹی وی سے وابستہ جواں سال رپورٹر محمد ضمیر الدین کا  48 گھنٹے گزر نے کے بعد بھی ہنوز کوئی سراغ نہیں مل پایا ہے۔ یاد رہے کہ منگل 12 جولائی کی رات رائیکل منڈل کے موضع بورنا پلی میں سیلاب زدگان کی خبروں کی کوریج کے لیے گئے این ٹی وی رپورمحمد ضمیرالدین حادثے کا شکار ہو گئے۔
بھوپتی پور ایس سی کالونی کے پاس سیلاب کے بہاؤ کا اندازہ نہ لگا سکےبریج عبور کرنے کی کوشش میں کار سمیت سیلابی پانی میں بہہ گئے جس کار میں ضمیر سوار تھے ندی کے پانی میں بہنے کے بعد درخت سے ٹکرا گئی۔گزشتہ دن سرچ آپریشن کیا گیا۔‘این ڈی آر ایف کی ٹیموں، کرین  اور غوطہ خوروں کی مدد سے پتہ تلاشی مہن جاری رکھی گئی۔ تاہم کوئی  سراغ نہیں مل پایا ہے۔
 تیسرے دن آج صبح کی اولین ساعتوں میں ندی کے درمیان محمد ضمیر الدین کی کار پانی کا بہاؤ کم ہونے کی وجہ سے نظر آئی جس کے بعدریسکیو ٹیموں نے کار کو رسیوں سے باندھ دیا تھا ریاستی وزیر سماجی بہبود مسٹر کوپولہ ایشور ، اور رکن اسمبلی جگتیال ڈاکٹر ایم سنجے کمار کے پہنچنے کے بعد جب جے سی بی کی مدد سے کار کو نکالنے کی کوشش کی جارہی تھی تو جے سی بی کی رسی ٹوٹ گئی اور کار مکمل طور پرندی میں بہہ گئی۔
تب سے عوامی نمائندے، عہدیدار ، ریسکیو ٹیم اور ساتھی صحافی دوست ‘ موضع کے عوام اب تک واقعہ کی جگہ پر کار کو تلاش کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔عہدیداروں نے بڑ ی جے سے بی طلب کی ہے جس کی مدد سے کار تلاش کرنے کی کوشش کی تھی ۔لیکن رات ہونے کی وجہ سے 9 بجے سرچ آپریشن روک دیا گیا ۔ کل 15 جولائی کو دوربارہ سرچ آپریشن شروع کیا جائے گا۔
ڈسٹرکٹ پریسڈنٹ تلنگانہ ورکینگ جرنلسٹ یونین ( آئی جے یو )  سرنیواس راؤکے علاوہ ایلکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے صحافی
 آج صبح جب ندی کے درمیان کار کے ٹائر کے نظر آنے کے بعد ڈسٹرکٹ پریسڈنٹ تلنگانہ ورکینگ جرنلسٹ یونین ( آئی جے یو ) کے علاوہ ایلکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے صحافی جائے مقام پر پہنچ کر تلاش اور امدادی سرگرمیوں حصہ لیا۔ صدر امارات ملت اسلامیہ جگتیا ل  محمد عبدالباری اور معزز شہریان جگتیال و نوجوانوں بھی جائے مقام پر پہنچ کرتلاش اورامدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا

واقعہ کی اطلاع کے باوجود ضلع انتظامیہ کی جانب سے فوری ردعمل نہ آنے اور سرچ اور ریسکیو آپریشن میں تاخیرضلع کے صحافیوں میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے

رائیکل منڈل کے موضع بورنا پلی میں موضع کرو (جزیرہ نما) میں پھنسے ہوئے 9لوگوں کو بچانے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور این ڈی اے ایف کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور سیلاب زدگان کو ریسکیو کیا۔۔ لیکن قریبی پل میں بہہ کر لاپتہ ہونے والے صحافی کو تلاش کرنے میں ضلعی انتظامیہ نے اس طرح کارروائی نہیں کی اورجے سی بی تلاش کرنے میں کم از کم تین گھنٹے ضائع ہوئے۔

کوئی خاص انتظامات نہ ہونے کے باوجود چہارشنبہ کی رات مقامی لوگوں کی جانب سے ضمیر کے کار کی شناخت کرتے ہوئے نشاندہی کی گئی فوری طور پر کارکو این ڈی آر ایف کی ٹیم کی مدد سے باہر نکالا جاتا تو شاید افراد خاندان کا غم کچھ ہلکا ہوسکتا تھا
ہمیں یہ کہتے ہوئے فخر ہے کہ ہم نے بہت سے سیاستدانوں کو عوام سے متعارف کرایا ہے۔ لیکن بیوروکریسی نے ہمارے ساتھی صحافیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

ادار ے اورمیڈیا مینجمنٹ کو کوریج فراہم کرنے کا پیشہ ورانہ فریضہ سرانجام دیتے ہوئے سیلاب متاثرہ علاقے سے کافی دور واقع جائے وقوعہ پر پہنچ کر اور اس کی کوریج کے بعد واپسی پر بدقسمتی سے وہ سیلاب زدہ حادثے کا شکار ہو کر لاپتہ ہونے والے محمد ضمیر الدین ابتک کوئی سراغ نہ ملنے پر صحافی برادری اپنے دکھ کا اظہار کر رہی ہے کہ وہ ضمیر کے اہل خانہ کو کیا اطلاع دیں؟۔ ڈیوٹی کی انجام دہی میں کوئی غلطی ہوئی تو ذمہ دار کون؟او ر ضمیر الدین کے خاندان کو جواب کون دیں