این ٹی و ی رپورٹر محمد ضمیر الدین کی کار نکالی گئی۔ ضمیر الدین کی میت جھاڑیوں میں بر آمد

تازہ خبر تلنگانہ

این ٹی وی رپورٹر انتقال کرگئے

جگتیال : 15؍جولائی
(عمران زین)
بہت ہی افسوسناک خبر ہے کہ جگتیال کے این ٹی وی چیانل سے وابستہ جواں سال رپورٹر محمد ضمیر الدین جورائیکل منڈل کےبھوپتی پور ایس سی کالونی کے پاس بریج عبور کرنے کی کوشش میں  سیلاب کے پانی کے بہاؤ میں کار سمیت  بہہ گئے تھے ۔تین دن بعد مسلسل کوششوں کے بعد آج صبح  کار ندی سے برآمد کرلی گئی ہے ۔ محمد ضمیر الدین انتقال کرگئے۔

کار برآمد ہونے کے کچھ دیر  تلاشی کے بعد محمد ضمیر الدین کی میت قریبی جھاریوں میں برآمد ہوئی ہے جسے نکال لیا گیاہے۔

پولیس کی جانب سے پنچنامہ اور پوسٹ مارٹم کے بعد میت کوجگتیال منتقل کیا جائے گا۔ رکن اسمبلی جگتیال ڈاکٹر ایم سنجے کمارنےآج صبح جائے وقوعہ پر پہنچ کرصورتحال کا جائزہ لیا

محمد ضمیر الدین کی میت ملنے کے بعدالیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ  صحافی برادری اور شہر جگتیال میں غم واندوہ کی لہر دوڑ گئی۔افراد خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

مرحوم محمد ظمیر الدین کی نمازجنازہ بعد نماز جمعہ مسجد اسلامیہ اسلام پورہ میں ادا کی جائیگی۔نماز جمعہ دو بجے ہوگی۔پسماندگان میں والدہ، بیوہ اور دو بچے ہیں

 

یاد رہے کہ منگل 12 جولائی کی رات رائیکل منڈل کے موضع بورنا پلی میں سیلاب زدگان کی خبروں کی کوریج کے لیے گئے این ٹی وی رپورمحمد ضمیرالدین حادثے کا شکار ہو گئے۔بھوپتی پور ایس سی کالونی کے پاس سیلاب کے بہاؤ کا اندازہ نہ لگا سکےبریج عبور کرنے کی کوشش میں کار سمیت سیلابی پانی میں بہہ گئے

 

جس کار میں ضمیر سوار تھے ندی کے پانی میں بہنے کے بعد درخت سے ٹکرا گئی ۔گزشتہ  چار دن سے سرچ آپریشن کیا گیا۔‘این ڈی آر ایف کی ٹیموں، کرین  اور غوطہ خوروں کی مدد سے تلاشی مہم جاری رکھی گئی تھی ۔ گذشتہ دن صبح ضمیرکی کار کا ٹائر نظر آیاتھا جس کے بعد رات 9 بجے تک کار کو ندی سے باہر نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے ممکن نہیں ہوسکا۔آج صبح  کرین  کی مدد سے کار کو نکال کیا گیا ۔

 

دریں اثنا، ایم ایل سی کویتا نے محمد ضمیر الدین کی موت پر اپنے دکھ و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم خاندان کے ساتھ کھڑے ہونے کا وعدہ کیا۔ جگتیا کے ایک صحافی ضمیر کی موت جو کہ نیوز کوریج کے بعد واپسی کے دوران ہوئی اور سیلاب میں بہہ گئے، انتہائی افسوسناک ہے۔ ہم ضمیر کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
” کویتا نے ٹویٹ کیا۔خبروں کے حصول اور ترسیل کو ترجیح دینے والے صحافیوں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ بارش اور سیلاب کے بارے میں چوکس رہیں اور مناسب احتیاط برتیں،