بدنگاہی سے جسم فروشی تک

تازہ خبر مضامین

دوسری قسط
ازقلم : عبدالقیوم شاکرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءامام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866
پہلی قسط میں اسلام میں عورت کا مقام ومرتبہ کے حوالہ سے یہ رقم کیا گیا تھا کہ عورت کو جوعزت واحترام مذہب اسلام نے دیا ہے وہ کسی اورمذہب میں نہیں ہے جو خواتین اسلام کو آج سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے اس قسط میں یہ بات واضح کرنا مقصد ہیکہ حجاب اور پردہ عورت کی عفت وعصمت کے تحفظ کا ضامن ہے

آج بے پردگی وبے حجابی عروج پر ہے جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ تباہی کے دہانہ پر آچکا ہے یورپ ودیگر ممالک نے آزادی نسواں کا نعرہ لگاکرعورت کو بے پردہ کردیا اور گھرکی زینت وملکہ بنانے کے بجاے سربازار انکولاکھڑاکیا اور عزت کو تارتارکردیا کریلا اور نیم چڑھا اینکہ تعلیم یافتہ اور اپنے آپ کو مہذب ومتمدن کہلانے والاطبقہ یورپ کے گن گاتے ہوے مغربی تہذیب کا دلداہ بنتاجارہا ہے

جو حجاب اورپردہ کو اپنی آزادی کےلےء رکاوٹ سمجھنے لگا اور کھل کر اسلامی تعلیمات کی دھجیاں اڑاتے ہوے اپنے کو ننگا اور عریاں بناکرسماج میں دندناتے پھرنے کو اپنے لےء فخر سمجھنے لگا حالانکہ بقول شاعرکہاں چلے جارہے ہو تم جانب مغربیہاں سورج بھی جاتاہے تو ڈوب جاتاہےمصداق بن کر روزبہ روزڈوبتے چلے جارہے ہیں ہم یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ ترقی اور کامیابی مغرب کی تقلید کرنے میں نہیں بلکہ چودہ سو سال پہلے جو تعلیمات اللہ کے نبی نے بنات حواء کو دے دیں ہیں اسی کوماننے اور عمل کرنے میں پوشیدہ ہےپردہ کا حکم عورتوں کے لےء ظلم سمجھنے والوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ جو چیز کھلی رہتی یا بے پردہ رہتی ہے وہ جانوروں کک غذابن جاتی ہے

بالکل اسی طرح جو عورتیں بے حجاب نکل جاتی ہیں وہ ہوس کے بندوں کی نگاہوں اور پھر خواہشات نفسانی کا شکار ہوکر دوسروں کی غذا بن جاتی ہیں حجاب کامقصد عورت کو محفوظ رکھنا اوراسکی عفت وعصمت کو مجروح ہونے سے بچاناہے حدیث پاک میں آتا ہیکہ جو عورت اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو اچک لیتا ہے پھر اس کے ساتھ وہ سب کچھ ہوجاتا ہے جو شیطان چاہتا ہے المرأۃ اذاخرجت من بیتھا استشرفھاالشیطان اب اندازہ لگائیں کہ عورت خواہ باحجاب ہی نکلے لیکن شیطان اس کو اچک لینے کے لے گھات میں رہتا ہے اور جب وہ بے پردہ ہوکر نکلتی ہیں تو پھر کیا انجام ہوگا

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ عورت کے لےء سب سے بہترین کیا بات ہے ؟صحابہ سب خاموش رہے حضرت علی گھرآے اور حضرت فاطمہ سے پوچھا تو فرمایاکہ عورت کے لےء سب سے بہترین بات یہ ہیکہ وہ کسی مرد کو نہ دیکھے اور اس پر کسی مرد کی نگاہ نہ پڑے حضرت علی نے یہی جواب حضورعلیہ السلام کے سامنے نقل فرمایا جس پر آپ نے فاطمہ کی تعریف فرمائی یہاں یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ستراورپردہ میں فرق ہے عورت ہرحال میں مستوررہے لیکن نماز کی حالت میں چہرہ دونوں ہتھیلیاں اوردونوں قدم ان تین اعضاء کے علاوہ مکمل بدن ڈھانکے رکھنے کانام ہے

ستر جو عورت کے لے واجب ہے پردہ کامطلب یہ ہیکہ مکمل بدننکے ساتھ ساتھ چہرہ دونوں ہاتھ اور دونوں قدم بھی کسی غیرمحرم کے سامنے ظاہر نہ کریں یہ پردہ ہے اب ذراغورکریں کہ عورت کو پردہ کا حکم دیاجارہا ہے یعنی وہ اپنے جسم کا کوی بھی حصہ کسی غیرمحرم کے سامنے ظاہرہونے سے بچاے اب ہم اپنے معاشرہ کی حالت زاردیکھیں کہ کس قدر پردہ ہماری عورتیں کرتی ہیں بازاروں دوکانوں اور مختلف مقامات پر دیکھنے کو ملے گا کہ آج حجاب کے نام پر بے حجابی کی جارہی ہے افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب ایسے برقعے ہماری خواتین زیب تن کرتی نظرآتی ہیں

جن سے پردہ کے بجاے بے پردگی کھلے عام نظر آتی ہے نہ دیکھنے والوں کی نگاہیں بھی ان کی جانب اٹھتی ہیں بلکہ ان کے اس برقعہ کی تنگی اور چستی سے وہ اعضاء جن کو چھپاناتو ہرحال میں لازم ہے وہ بھی ابھرکر آتے ہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہیکہ ہماری عورتیں سڑکوں سے گذرتے ہوے مردوں کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں الامان الحفیظقرآن مجید میں صاف صاف طورپر کہاگیا کہ عورتیں اپنے گھروں سے نہ نکلیں اوراگرکسی ضرورت کے نکلنابھی پڑے تو باپردہ ہوکر نکلیں اپنے سروں پر بڑی چادر اوڑھ کر نکلیں جس سے ان کامکمل پردہ ہوجاے آپ شریعت کے حسن کا اس بات سے اندازہ لگاسکتے ہیں

خواتین کو عورت کہاجاتا جس کے لفظی معنی ہے چھپی ہوی چیز یعنی باپردہ شی جب عورت اپنے آپ کو بے پردہ کرلیتی ہے تو وہ عورت کہلانے کے بھی لائق نہیں رہ جاتی اسلام میں عورت کے پردہ کو اس قدراہمیت دی گئ کہ اس کے لئےء عبادت کے واسطے بھی باپردہ جگہ کا انتخاب فرمایاچنانچہ روایات میں آتا ہیکہ عورت کاگھرمیں نماز پڑھنا صحن میں پڑھنے سے افضل ہے اوراندرونی کوٹھری میں نماز پڑھنا کمرہ میں پڑھنے سے افضل ہے جس کا مطلب یہ ہیکہ عورت جس قدرمستورہوکر نماز پڑھے وہ نماز اتنی ہی فضیلت والی ہے

جب عبادات میں اس قدر پردہ کاالتزام کرایاجارہاہے تو اندازہ لگائیں کہ عام حالات اور پھر بوقت ضرورت باہر نکلنے پر ان کو کس قدرحجاب اور پردہ کااہتمام کرنا چاہیے اگرہم اورآپ اپنے معاشرہ کی اصلاح ودرستگی چاہتے ہیں بے حیای وفحاشیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی عورتوں کو باحیاء بنانے ان کو اسلامی حجاب اور پردہ سے واقف کراناپڑے گا ورنہ تو یہی بے حجابی ان کو جسم فروشی اورشیطانی جال تک پہونچادے گی

اس لئےضرورت اس بات کی ہیکہ ہم اپنے سماج ومعاشرہ کی فکرکریں غربت وناداری یا محض نفس پرستی کے لےء کوی بھی حرام وناجائز کام میں مبتلاء ہوجانا یہ عقلمندی نہیں ہے اللہ پاک ہم سب کو معاشرہ کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرماے آمین
جاری