بی جے پی کو ووٹ دینے پر بیوی کو طلاق دینے کی دھمکی۔خاتون گھر سے بے دخل

تازہ خبر قومی

خاتون مرکزی وزیر کی بہن کے پاس پہنچی
لکھنؤ: :21؍مارچ
(اے ایم این ایس)

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات مکمل ہو چکے ہیں، لیکن اس کا اثر اب خاندانوں پر نظر آ رہا ہے۔ بریلی کی ایک مسلم خاتون نے اپنے شوہر پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ووٹ دینے پر طلاق دینے کی دھمکی دینے کا مبینہ طور پر الزام لگایا ہے۔ خاتون نے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کی بہن فرحت نقوی سے ملاقات کی اور اپنی شکایت درج کرائی۔ بریلی کی رہنے والی نجمہ علمہ انصاری نے الزام لگایا کہ جب اس نے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دیا تو اس کے شوہر نے ان کی بیگم کو تین طلاق دینے کی دھمکی دی اور اسے مارا پیٹا اور گھر سے بے دخل کردیا

تفصیلات کے مطابق بریلی کے اعجاز نگر گوٹیا کے رہنے والے طاہر انصاری کی بیٹی نجمہ علمہ انصاری نے خاندان کی مرضی کے خلاف تسلیم انصاری کے ساتھ محبت کی شادی کی تھی 2جنوری 2021 میں تسلیم انصاری سے محبت کی شادی کی تھی ۔شکایت کنندہ عظمی کے مطابق بی جے پی کو ووٹ دینے کی وجہ سے اسکے چچاطیب ناراض ہیں اور میں نےبی جے پی کو ووٹ اس لیے دیا کیونکہ وہ تین طلاق کے خلاف قانون لائے تھے۔ میرا خاندان بہت غریب ہے۔ میرے والد ایک مزدور ہیں۔ ہم پانچ بہنیں ہیں۔ حکومت نے ہمیں راشن بھی فراہم کیا۔

اس نے مزید کہا کہ اس کی ایک سال قبل محبت کی شادی ہوئی تھی۔جب بی جے پی نے الیکشن جیتا تو میرے شوہر کے ماموںنے کہا کہ یوگی دوبارہ جیت گئے۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں نے بھی بی جے پی کو ووٹ دیا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ وہ لوگوں کے لیے اچھا کر رہا ہے۔ یہ ایک اچھی حکومت ہے۔ انہوں نے تین طلاق کے خلاف قانون لایا۔

اس نے کہا کہ وہ اس بیان سے ناراض ہو گئے اور اسے کہا کہ وہ تین طلاق سے خود کو بچائے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ خوشی سے اپنے سا س اور سسر سےالگ رہ رہی ہیں۔ "میرے شوہر اس معاملے پر اپنے ماموںکے ساتھ ہیں۔ وہ میرا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ لیکن مجھے اپنے شوہر کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے،‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کے شوہر نے اسے باہر نکال دیا، تو اس نے کہا، "ہاں، اس نے مجھے باہر نکال دیا اور مجھے طلاق دینے کی دھمکی دی

خاتون نے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ سے اس معاملہ میں کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہی نہیں متاثرخاتون مائی رائٹ فاؤنڈیشن کی عدالت بھی پہنچ گئی۔ اس نے انصاف کی دہائی دی ہے۔ وہیں لیکن خاتون کے سسرال والوں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے طویل عرصے سے آپسی جھگڑے قرار دیا ہے

تسلیم کے ماموںنے بتایا کہ یہ تنازعہ کافی عرصے سے چل رہا ہے۔ لڑکی کے فریق کے لوگ فیصلہ چاہتے تھے۔ اس بارے میں آٹھ دن پہلے پنچایت بھی ہوئی تھی۔

شکایت کنندہ عظمیٰ انے جگت پور علاقہ کے رہائشی تسلیم نامی نوجوان سے محبت کی شادی کی تھی۔ محبت کی شادی کے بعد دونوں خوشی سے اپنی زندگی گزار رہے تھے لیکن اسمبلی انتخابات میں ان کی زندگی میں بھونچال آ گیا۔ اس کے بعد ان کے خاندان میں اختلاف شروع ہو گیا۔

مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کی بہن فرحت نقوی نے متاثرہ خاتون سے ملاقات کی اور حکومت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں سخت کارروائی کرے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ فرحت نے یوپی میں تین طلاق کا مسئلہ بھی اٹھایا۔
نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ عظمیٰ نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں اس واقعہ کے بارے میں مطلع کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مزید کارروائی کے بارے میں پولیس شکایت درج کرائیں گے۔