بزرگ کی داڑھی کاٹنے کامعاملہ۔ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ملزمین گھروں سے فرار

تازہ خبر جرائم حادثات قومی

غازی آباد:20؍جون
(زین نیوز؍ایجنسیز)
اترپردیش کے ضلع غازی آباد میں 5؍جون کو ایک معمر مسلمان شخص کوردو کوب کرنے بعد مبینہ طور پر داڑھی کاٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا بز رگ کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کیے جانے کا معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد متاثرہ شخص کی شکایت پر پولیس نے اس معاملہ میں کچھ  لوگو ں پر ایف آئی آر درج کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا تا ہم اس معاملے میں روزانہ نئے انکشافات منظرعام پر آرہے ہیں۔

ایک طرف اس واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے والوں کے نام مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ دوسری جانب ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ملزمین اپنے ہی گھر سے فرار ہوگئے ہیں۔

اسی دوران گرفتار دونوں ملزم پرویش گجر اور عادل ضمانت پررہاہونے کے بعد مفرور ہوگئے ہیں۔ اسی دوران ، عمیدپہلوان کے گھر پر بھی کوئی نہیں ملا۔ ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب صحافی عادل کے گھرپہنچے تو انہیں وہاں کوئی نہیں ملا۔ اسی دوران ، عمید پہلوان بھی گھر سے غائب ہے۔ کسی نے بھی اس کے گھر پر گیٹ نہیں کھولا۔ ابھی تک کسی ملزم نے اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا ہے

اس دوران پولیس افسر نے بتایا کہ پولیس نے پولیس پردیش گجر سے ریمانڈ پر پوچھ گچھ کرے گی کرے گی اس کے ساتھ ہی وائرل تصویر میں ان کے ساتھ نظرآنے والی پستول کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ پولیس اس سے یہ پستول برآمد کرنے کی بھی کوشش کرے گی

 

عدالت نے کل گرفتار 4 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لیں اب اس معاملے میں گرفتار9 ملزمین کو ضمانت مل چکی ہے پولیس سپرنٹنڈنٹ رورل ایراجا نے بتایا کہ اس حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے ناموں کی فہرست بہت لمبی ہےاس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے معاملے میں 10 بڑے نام سامنے آئے ہیں۔ پولیس اس واقعہ میں ان کے رول کی تحقیقات کر رہی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں  یین الاقوامی باکسر نکہت زرین کے حوصلہ اور عزم کی ستائش۔ :

 

تاہم ابھی تک ان ناموں کو اس مقدمے میں کسی کو شامل نہیں کیا گیاہے ۔ لیکن اب سب کے کردار کی چھان بین کی جا رہی ہے اس کے بعد وہ کیس کی تفتیش میں شامل کئے جائیں گےعبدالصمد پر 5جون کو حملہ کیا گیاتھا اسکے بعد 13 کوجون کوایک ویڈیو وائرل ہوگئ

اس ویڈیو میں دیکھا گیا کہ بزرگ پر حملہ کیا جارہا ہے ہے بزرگوں کی داڑھی کاٹنے کا معاملہ منظر پر منظر عام پر آگیا ۔ ویڈیو میں لکھا گیا ہے کہ مذہبی نعرے نہ لگانے پر اس بزرگ کو مارا پیٹا گیا۔ پولیس افسر نے یہ بھی کہا کہ اگر شکایت کنندہ کے ذریعے کچھ غلط معلومات فراہم کی گئیں تو بھی کاروائی کی جائیںگی