بلی بائی ایپ کے ذریعہ مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والی ماسٹر مائنڈ خاتون گرفتار

تازہ خبر قومی

خاتون کا معاون وشال کمار 10 جنوری تک پولیس تحویل میں۔مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج۔
ممبئی:4؍جنوری
(اے ایم این ایس)
مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والی بلی بائی ایپBulli Bai App’ پر مسلم خواتین کی نیلامی کے معاملے میں ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں اتراکھنڈ سے ایک لڑکی شویتا سنگھ  کو گرفتار کیا ہے۔ یہ لڑکی اس پورے معاملے کی ماسٹر مائنڈ بتائی جا رہی ہے،

ممبئی پولیس کی ایک ٹیم اتراکھنڈ میں موجود ہے اور منگل کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر لڑکی کو اپنی تحویل میں لینے کا عمل مکمل کر رہی ہے۔ ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد اسے بدھ کو ممبئی لایا جائے گا۔

دوسری جانب اس معاملے میں بنگلور سے گرفتار سافٹ ویئر انجینئر وشال جھا کو ممبئی کی باندرہ میٹروپولیٹن کورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک سماعت کے بعد ملزم کو 10 جنوری تک پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ جھا کا تعلق بہار سے ہے۔

واضح رہے کہ جس پر شیوسینا کی رکن راجیہ سبھا پرینکا چترویدی کی شکایت پر یکم جنوری کو ویسٹ زون ریجن سائبر کرائم پولیس اسٹیشن،ممبئی نے اس بلی ایپ اور اس ایپ کو ٹوئٹر پر پروموٹ کرنے والے ہینڈل گٹ ہب اور نامعلوم خاطیوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت ایک کیس درج رجسٹر کیا گیا تھاہے۔

پولیس ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق اس کی بدمعاشی میں مرکزی ملزم کے تین اکاؤنٹس ہینڈل ایپ سے جڑے ہوئے تھے۔ شریک ملزم وشال کمار نے خالصہ سوپرمیسسٹ کے نام سے کھاتہ کھولا۔

مرکزی ملزم شویتا سنگھ اور وشال جھا دونوں اچھے دوست ہیں۔ دونوں کی دوستی سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی۔ ممبئی پولیس کے مطابق دونوں اپنا نام بدلتے تھے اور سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ چلاتے تھے۔ اس نے سکھ تنظیموں کے نام پر کچھ اکاؤنٹس کھول رکھے تھے۔ سائبر سیل کی ٹیم ان سوشل اکاؤنٹس کی چھان بین کر رہی ہے۔  خاتون کی  شناخت18 سالہ شویتا سنگھ کی حیثیت سے  کی گئی ہے۔

یہ معاملہ پہلی بار یکم جنوری کو سامنے آیا۔ ملزم نے کئی مسلم خواتین کی تصویروں کو ایڈٹ کرکے گٹ ہب پلیٹ فارم پر ‘Bully by App’ پر نیلامی کے لیے رکھا تھا۔ ” ڈیل آف دی ڈے”کے آفر کے ساتھ ان کی نیلامی شروع کی گئی تھی۔

اس میں ان خواتین کو نشانہ بنایا گیا، جو سماجی مسائل پر سرگرم تھیں۔ ویب سائٹ ‘بلی بائی’ پر کم عمر انعام یافتہ پاکستانی لڑکی ملالہ یوسف زئی، کشمیری صحافی قرۃ العین اور دہلی ہائی کورٹ جج کی اہلیہ سمیت 100 بااثر خواتین کی تصاویر اور معلومات شیئر کی اور ان کی آن لائن نیلامی کی جائے۔واضح رہے کہ خاتون صحافی قرۃ العین نے گزشتہ برس ‘سلی ڈیلز‘ نامی ویب سائٹ پر مسلم خواتین کی نیلامی کے خلاف کام کیا تھا

 

کل ممبئی سائبر کرائم پولیس کی جانب سے بنگلور سے نوجوان کی گرفتاری اور نام ظاہر کرنے کے بعد چند بھگوا ویب سائٹس،سوشل میڈیا گروپس اور واٹس ایپ یونیورسٹی میں یہ خبر وائرل کردی گئی کہ بنگلور سے گرفتار نوجوان کا نام”محمد وشال الدین”ہے۔جبکہ اس کا اصل نام وشال کمار ہے۔

ممبئی میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی، جس کےبعد اتوار کو مغربی ممبئی سائبر پولس اسٹیشن میں اس معاملے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف آئی ٹی ایکٹ اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

اس ایف آئی آر میں، ممبئی پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 153-A (مذہبی بنیادوں پر دو برادریوں کے درمیان تفریق کو فروغ دینا)، 153-B (جان بوجھ کر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کرنا)، 354-D (پیروی کرنا)، 509 (الفاظ یا رویے کا استعمال کرنا) درج کیا ہے۔ جس کا مقصد عورت کے وقار کو مجروح کرنا) اور 500 (مجرمانہ ہتک عزت)۔ اس کے علاوہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 67 (الیکٹرانک شکل میں قابل اعتراض مواد شائع کرنا یا بھیجنا) کو بھی شامل کیا گیا ہے۔