بھینسہ :8؍مارچ
( زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
ریاست تلنگانہ ( حیدرآباد) حساس مانے جانے والے ضلع نرمل کے بھینسہ ٹاؤن میں گذشتہ رات پیش آئےفرقہ وارانہ تشدد میں شرپسندوں نے مسجد ذوالفقار پر پتھراؤ کیا اور اس علاقہ کے تھوڑ پھوڑ مچاتے ہوئے دوکانات اور مکانات ‘ اور آٹو گاڑیوں کو آگ لگاد ی جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے۔
سنگ باری کی وجہ سے کئی فراد ززخمی ہوگئے جنھیں نظام آباد ‘ اور حیدرآباد منتقل کردیا گیا جن میں ایک راج نیوز کا اسٹنگر اور ایک سب انسپکٹر بھی شامل ہے جنھیں نظام آباد کے دواخانے منتقل کردیا گیا زخمیوں میں ایک کی حالات نازک بتائی گئی ہے۔
بھینسہ ٹاون میںکل شب گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی دونوں طبقات کے نوجوانوں کے درمیان ہونے والے معمولی موٹرسیکل تصادم
کےبحث و تکرار ہوئی اور دیکھتے دیکھتے حالات کشیدہ ہوگئےجس کے بعد شرپسندوں نے مسلم اکثریتی علاقہ مسجد ذوالفقارکے کچھ مکانات اور اور ذوالفقار مسجد پر بڑے پیمانے پر پتھراؤ کیا۔
فرقہ وارانہ تشدد کی اطلاع کیساتھ ہی انچارج ایس پی نرمل وشنو وارئیراور ایڈیشنل ایس پی رام ریڈی فوری بھاری پولیس جمعیت کیساتھ بھنیسہ پہنچ گئےہیں پولیس نے دونوں گروپوں کومنتشر کردیا فائر بریگیڈ عملہ کو طلب کرتے آگ پر قابو پالیا گیا۔انھوں نے کہاکہ حالات قابومیں ہیں حالات کومزید بگڑنے اور امکانی تصادم اورمزید کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لئے شہر کے اطراف واکناف میں گشت بڑھا تے ہوئے مختلف مقامات پر پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا ہے
رات دیر گئے کلکٹر ضلع نرمل جناب مشرف علی فاروقی بھینسہ پہنچ کر صورتحال کا جائزہ بھی لیا ہے۔
نائب صدرنشین بلدیہ بھینسہ محمد جابراحمد نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر حالات سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد پولیس کے اعلی عہدیداروں سے فون پر ربط قائم کیا اور مطالبہ کیا کہ اس تشدد پر فوری قابو پاتے ہوئے خاطیوں کو گرفتار کیا جائے۔
ضلع کلکٹر نرمل مشرف علی فاروقی اورا نچارج ایس پی نرمل وشنو وارئیرنے بھینسہ کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں ، افواہوں پرکان نہ دھریں انھو ں نے کہا کہ ہم مزید فورس تعینات کررہے ہیں اور صورتحال پر قریبی نظررکھے ہوئے ہیں اور سوشیل میڈیا ذریعہ افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی
