سلوواکیہ کی وزارت داخلہ کا خراج تحسین ۔سب سے بڑا ہیرو” کا خطاب
نئ دہلی : 7؍مارچ
(زین نیوز)
عزم مصمم ‘ حوصلے بلند ہوں تو کویہ منزل ‘ کوئی سفر مشکل نہیں ہوتابس ہمت اور دلیری کے مظاہرہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایک کمسن معصوم گیارہ سالہ لڑکا اکیلے 1000 کلومیٹر کا سفربے خوفی اور عزم کے ساتھ تنہا سفر کرکے دوسروں کے لئے مثال بنا اس کے عزم و حوصلہ کو حکام نے اج تحسین پیش کیا
روس ۔یوکرین کی جنگ سے لاکھوں شہری پریشان اور خوف و دہشت میں مبتلا ہیں گھر بار چھوڑکر دوسرے ممالک کی سرحدوں سے ہجرت کررہے ہیں

یوکرین کے لاکھوں شہری روسی حملوں کے خوف سے اپنے گھر بار چھوڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کا تخمینہ ہے کہ 1.5 ملین سے زیادہ لوگ یوکرین سے پولینڈ، ہنگری اور سلوواکیہ کی سرحدوں سے ہجرت کر چکے ہیں۔
ایسے میں وہاں کے حکام اس وقت حیران رہ گئے جب ایک گیارہ سالہ لڑکا اکیلے 1000 کلومیٹر کا سفر کرکے سلواکیہ پہنچا۔ سلواکیہ کے حکام نے اس بچے کے عزم و حوصلہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے جو کندھے پر بیگ ڈالے ، اس کی ماں کا لکھا ہاتھ میں ایک نوٹ اور ایک فون نمبر لے کر آیا تھا۔
زپوریزیہ Zaporizhia شہر کا ایک لڑکا، جہاں روس نے گزشتہ ہفتہ ایک جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کیا تھا، سلوواکیہ میں اپنے رشتہ داروں کو تلاش کرنے نکلا ہے۔ اس کے والدین اپنے بیمار کنبہ کے ممبر کی دیکھ بھال کے لئے زپوریزیہ میں ٹھہرے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ بچکانہ مسکراہٹ، بے خوفی اور عزم جو کہ ناقابل یقین سفر مکمل کیا وہ ایک حقیقی ہیرو کے مستحق ہیں۔ سلوواکیہ کی وزارت داخلہ نے فیس بک پر اس کیپشن کو "گذشتہ رات کا سب سے بڑا ہیرو” کے عنوان سے پوسٹ کیا۔
مبینہ طور پر لڑکے کی ماں نے اپنے بیٹے کو ٹرین کے ذریعے سلواکیہ میں رشتہ داروں سے ملنے بھیجا تھا۔ اس کے پاس پلاسٹک کا تھیلا، پاسپورٹ اور ماں کا لکھا ہوا نوٹ تھا۔ لڑکے کے سلوواکیہ پہنچنے کے بعد، سرحدی اہلکاروں نے دارالحکومت براٹیسلاوا میں رشتہ داروں سے رابطہ کیا اور اس کے فون نمبر کی بنیاد پر اسے حوالے کیا۔
اطلاعات کے مطابق لڑکے کی والدہ نے اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کرنے پر سلواکیہ حکومت اور پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پیغام بھیجا ہے۔ اس لڑکے کی بے خوفی اور عزم کی سلوواکیہ حکومت نے تعریف کی۔ وزارت نے کہا، "لڑکا ہاتھ میں ایک پلاسٹک بیگ، پاسپورٹ اور فون نمبر لے کر اکیلا آیا تھا کیونکہ اس کے والدین کو یوکرین میں رہنا تھا۔”
"رضاکاروں نے بچے کا بہت خیال رکھا۔ وہ اسے سردی سے بچانے کے لیے ایک گرم جگہ پر لے گئے۔ انہوں نے اسے کھانے پینے کی چیزیں فراہم کیں۔ اس نے اگلے سفر کے لیے کھانا پیک کر دیا،” اس نے وضاحت کی۔ سلوواکیہ کی وزارت کے ایک اہلکار کی طرف سے ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے، "فون نمبر اور نوٹ ہاتھ میں رکھنے کا شکریہ۔ میں لڑکے کے لیے آنے والے رشتہ داروں سے رابطہ کرنے میں کامیاب رہا۔”
