مولانا مرحوم قدیم اور ممتاز فضلائے دارالعلوم میں سے تھے: مولانا سید احمد خضر شاہ
دیوبند،یکم؍ جنوری
(رضوان سلمانی)
علاقے کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ کے مہتمم اور جمعیۃ علماء ہند کے سابق ضلع صدر و ممتاز عالم دین مولانا محمد اختر قاسمی کا آج علالت کے باعث تقریبا 81؍ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا ہے۔ ان کے انتقال کی خبر سے علمی، ملی اور سماجی حلقوں کی فضا مغموم ہو گئی۔ مرحوم کے انتقال کی خبر ملتے ہی کثیرتعداد میں ارباب مدارس اور اہل علاقہ نے مرحوم کی رہائش گاہ پر پہنچ کر رنج و الم کا اظہار کیا اور تعزیت مسنونہ پیش کی۔ مرحوم کے انتقال سے نصف صدی پر محیط انکی تدریسی، علمی اور ملی خدمات کا باب بند ہوگیا ہے۔
پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ دو لڑکیاں اور پانچ لڑکے ہیں۔ نماز جنازہ بعد نماز عشاء جامعہ اسلامیہ ریڑھی میں ادا کی گئی، بعد ازیں وہیں تدفین عمل میں آئی۔مرحوم جمعیۃ علماء ہند سے بھی طویل وقت سے منسلک تھے اور ضلع صدر سمیت کئی عہدوں پر رہے ہیں،ان کی ملی او رسماجی خدمات بھی غیر معمولی ہیں۔
ان کے انتقال پردارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں بڑا علمی اور ملی خسارہ قرار دیا اور کہا کہ مرحوم باصلاحیت انسان کے ان کے دورِ اہتمام میں ادارہ نے بڑی ترقی کی۔ وہ طلبہ میں بڑے مقبول تھے ، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے ۔ممتاز عالم دین و مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا ندیم الواجدیمولانامحمداخترقاسمی علمی انتظامی اور تدریسی مشاغل رکھنے کے باوجود ملی اور سماجی تقاضوں کو نبھانے کا ہنر رکھتے تھے ۔ وہ باصلاحیت انسان تھے۔
انہوں نے اپنی پوری زندگی درس وتدریس میں گزاری ۔ دارالعلوم وقف کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا محمد اختر قدیم علماء میں سے تھے اور انہو ںنے ایک لمبا عرصہ منصب اہتمام کو رونق بخشی ۔نصف صدی کے قریب وہ مہتمم رہے اور حسن انتظام کی مثال قائم کی، وہ ایک تجربہ کار اور منتظم مزاج انسان تھے، ان کے دور اہتمام میں نہ صرف انتظامی ، تعمیری ، ترقیات ہوئیں بلکہ تعلیمی سرگرمیاں بھی لائق ذکر رہیں۔ ان کے اپنے عملہ کے ساتھ معاملات انتہائی خوب تھے تو طلبہ کے ساتھ مشفقانہ اور مربیانہ رویہ تھا ، اخلاق اور عمدہ برتائو سے وہ سب کا دل جیتے ہوئے تھے ۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کاملہ فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ دارالعلوم وقف کے استاذ اور مایۂ ناز ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم کا نام ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے تھے ، علاقہ کے آنے والے طلبہ جن میں کافی مدرسہ جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ کے سابق طلبہ ہوتے تھے ، ان کی زبانوں پر مولانا کا تذکرہ خیر رہتا وہیں سے ان کی شخصیت کا ایک نقش دل پر قائم ہوا اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مستعدی اور انتظامی صلاحیتوں کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔
ان کے زمانہ اہتمام میں ادارہ معتبر اداروں کی صف میں کھڑا ہوگیا، یہ مرحوم کا بڑا کارنامہ ہے۔ اللہ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر مولانا عبداللہ مغیثی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آج جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ کے ایک روشن اور تاریخ ساز عہد کا خاتمہ ہوگیا ہے، مولانامرحوم ان چنندہ شخصیات میں سے جن کی تقویٰ وطہارت ، تدبرو حکمت ،متانت وسخاوت اور زندہ دلی کی بے شمار داستانیں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں ، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت کاملہ فرمائے۔ اور دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی محمد شریف خان قاسمی سمیت نامور علماء کرام اور علاقے کے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے انتقال کو ایک علمی خسارہ قرار دیا۔
مولانامحمداختر قاسمی کے انتقال کی خبر سے دینی مدارس ومراکز اور ملی وتعلیمی حلقوں کی فضا سوگوار ہوگئی جہاں ایصال ثواب کرکے مولانا کے لئے دعاء مغفرت کی گئی ہے۔مشہور تعلیمی درسگاہ جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ کے ناظم اعلی اور شیخ الحدیث مولانامفتی خالدسیف اللہ نقشبندی نے اپنے شدید رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا محمداختر قاسمی کی وفات میرے لئے ذاتی صدمہ کا باعث ہے، وہ بڑے عالم دین صاحبِ نسبت بزرگ اور بہترین تعلیم دوست انسان تھے۔
جامعہ اسلامیہ ریڑھی نے آپ کے دوراہتمام میں کرشماتی انداز کی ترقی کی اور بہت سے نئے شعبے وجود میں آئے۔ یقینا آپ کی وفات دینی اور ملی حلقوں کا غیرمعمولی خسارہ ہے۔جامعہ کے نائب مہتمم مولاناقاری عبید الرحمان قاسمی اورماہ نامہ صدائے حق گنگوہ کے مدیر مفتی محمدساجدکھجناوری نے مولاناکے انتقال کو اپنا ذاتی نقصان قرار دیا۔ اس سلسلہ میں ایک تعزیتی میٹنگ کاانعقاد جامعہ رحمت گھگرولی میں کیاگیا،جس میںقرآن خوانی کرکے مرحوم کے لئے دعاء ایصال ثواب کا اہتمام کیاگیا۔
اس موقع پر آل انڈیا ملی کونسل کے ضلع صدر مولانا عبدالمالک مغیثی نے مولانا اختر قاسمی کے انتقال پر گہرے رنج و الم کااظہار کرتے ہوئے مولانا کے انتقال کو بڑا علمی اور ملی خسارہ قرار دیا اور کہاکہ مولانا گوناگوں اوصاف وکمالات کی حامل شخصیت کے مالک تھے۔ تاحیات مولانا نے ادارے کو دوام واستحکام بخشا ، اللہ پاک مرحوم کو غریق رحمت فرمائے ، جملہ پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے اور امت کو ان کا نعم البدل عطا کرے۔ادھر مولانا کے انتقال پر ادارہ فیض القرآن تاجپورہ میںقرآن خوانی کرکے دعاء ایصال ثواب کا اہتمام کیاگیا۔
