جب تک اردو کے چاہنے والے موجود رہیں گے اردو زندہ رہے گی۔قدسیہ انجم

تازہ خبر قومی
پرچم اردو آنگن کی جانب سے پروگرام کا انعقاد 
دیوبند،31؍اگست
(رضوان سلمانی)
 پرچم اردو آنگن کی شعرو سخن کی محفل کی صدارت کرتے ہوئے معروف شاعر اور اسلامی اسکالر ڈاکٹر جمیل مانوی  نے اردو کی ترویج اور فروغ  میں شعرو سخن کی محفلوں  کے کردار کو اہم قرار دیا او ر کہا کہ آج اردو جن نامساعد حلات سے دوچار ہے ایسے ماحول میں شعری اور ادبی نشستیں اردو کے نیم جاں جسم میں جان ڈال رہی ہیں اور اردو کو زندہ رکھے ہوئے ہیں
 انہوں نے آزادی کے امرت مہوتسو کے تحت شعرو سخن کے محفل آرراستہ کر نے پر پرچم اردو آنگن کی اس پہل کی ستا ئش کی اور اس محفل میں شاعرات کی شرکت پر مسرت کا اظہار کیا ۔پرچم کی صدر ڈاکٹر قدسیہ انجم نے مہمان شعرا اور باذوق حضرات کا خیر مقدم کرتے ہو ئے کہا کہ جب تک اردو کے چاہنے والے موجود رہیں گے اردو زندہ رہے گی اور نفرت کی آندھی اردو کی شمع کو بجھا نہیں پائیگی ۔
انہوں نے کہا کہ آج جو اردو زندہ ہے وہ مدارس اور مشاعروں سے ہی زندہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنی نسل نو کو اردو کی طرف متوجہ کرنا ہوگا تبھی اردو کو باقی رکھا جاسکتا ہے ۔اردو ہماری ہندوستانی زبان ہے اور اس کو زندہ رکھنا بھی ہمارا ہی فرض بنتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی زبان اس کی تہذیب ،ثقافت اور اس کی پہچان ہوتی ہے ۔
زبان اظہار رائے کا سب سے حسین اور بہترین ذریعہ ہے ۔شعرو سخن کی اس محفل میں جن شعرائے کرام نے اپنے کلام سے محظوظ کیا انمیں  سکندر حیات ،پروفیسر مشرف خطیب ، فیّاض ندیم ، آصف شمسی ، دانش کمال ، مستقیم روشن ،اسلم محسن،شگفتہ مزاج،نصرت پروین ،ڈاکٹر قدسیہ انجم علیگ کا نام شامل ہے ان دونوں نے ہی اس محفلِ شعرو سخن کی مشترکہ نظامت کی ۔
سامعین میں صابر علی خاں ، ڈاکٹر ایّوب، فرزانہ شیخ ،ایڈو کیٹ یسریٰ صدّیقی ،بشریٰ ولی ،انس اقبال اور ارنہ افسر نمایاں تھے۔