ازقلم عبدالقیوم شاکر القاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
9505057866
اس ملک کو یہ اعزاز حاصل ہیکہ یہاں کے تمام ہی باشندگان کو اپنے اپنے مذہب اوردھرم کو فالوکرتے ہوے اپنی اپنی مذہبی شناخت وتعلیمات پر عمل آوری کرتے ہوے باہمی ملنساری ایک دوسرے کے جذبات ومذاہب کا خیال رکھتے ہوے امن وامان اور شانتی کے ساتھ زندگی گذاریں جس کو آج سے 72/ سال پہلے ہی ملک کی دستورساز کمیٹی نے لکھ کر نافذ اورجاری بھی کردیا اسی وجہ سے اس کو جمہوری ملک کہاجاتا ہے لیکن مشاہدہ یہ بتلارہا ہیکہ جمہوری ملک کا جونظام ہے اور جن بنیادوں پر جمہوریت قائم ہے ان تمام بنیادوں کو آج کچھ لوگ اپنی عددی اکثریت کافائدہ اٹھاکر تسلط اورجبر کا استعمال کرکے ایک ذہنیت کے لوگ اس پر قابض ہونا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ملک کی گنگاجمنی تہذیب اور جمہوریت کو یقینا خطرہ محسوس کیا جارہا ہےہماری اپنی معلومات کےمطابق اس ملک کا نظام چاربنیادوں پر قائم ہے (1)مالیہ (2)عدلیہ(3)انتظامیہ(4)میڈیاجہاں تک مالیہ کا مسئلہ ہے اس میں آے دن دھاندلیاں بے اعتدالیاں من مانی اور لوٹ کھسوٹ بڑھتی ہی جارہی ہے اورہمارا مالک قرضوں کے بوجھ تلے دبا جارہا ہے جس پر ملک کے حکمرانوں کا کوی کنٹرول باقی نہیں رہایوں ملک کا مالیہ ختم ہوتا جارہا ہے رہی بات عدلیہ کی تو حالیہ کئ ایک مقدمات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہیکہ عوام الناس کہاں تک اس عدلیہ پر فیصلوں پر اعتماد رکھتی ہے اور کیا ان کا نظریہ قائم ہوا ہے اس کو پوری دنیا جان چکی ہے خواہ وہ مسئلہ بابری مسجد ورام مندر کا ہویا بے قصور لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے اور قصورواروں کے کھلے عام گھومنے کا ہوں این آر سی کامعاملہ ہوں یا کسانوں کے مسائل کا بہرحال یوں لگتا ہیکہ اس ملک کے باشندگان کا سپریم کورٹ پر سے بھی آج اعتماد ختم ہو رہا ہے بات کرتے ہیں اب انتظامیہ کی تو اس حوالہ سے بس گذشتہ دوتین سال میں محکمہ پولیس کی جانب سے ہونے والے ظلم وجبر اور یکطرفہ کارروائیوں کی داستان خود بتادے گی کہ انتظامیہ پر کس کا قبضہ اور تسلط ہورہا ہے اور یہ محکمہ کتنی ایمانداری اور شفافیت سے اپنے فرائض منصبی کو ادا کررہا ہے منھ بولتی تصویریں اور مارپیٹ کی ویڈیوز جو دیکھنے کومل رہی ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انتظامی امور اس ملک کے کہاں تک جمہوریت کی عکاسی کرتے ہیں رہ جاتی ہے بات اب میڈیا کی جو چوتھا ستون کہلاتا ہے لیکن وہ بھی آج ایک خاص ذہنیت کے حامل افراد کا زرخرید غلام بن کر کام کررہا ہے جس کی دسیوں مثالیں عالمی منظر نامہ پہ دیکھی جارہی ہیں خواہ وہ الکٹرانک وپرنٹ میڈیا ہو یا سوشل میڈیا بہرحال وہ سب کے سب اپنے آقاؤوں کی چاپلوسی اور مالداروں کے اشارہ پر کام کرناہی اپنا مشغلہ بنا چکے ہیں موجودہ حالات کو دیکھتے ہوے تو یہی سمجھاجاسکتا ہے کہ اس ملک کی جمہوریت کی جب بنیادیں ہی مضبوط نہیں ہیں اور سب اپنے اپنے مفاد کے لےء کام کررہے تو پھر مفاد عامہ اور باشندگان ملک کے مسائل کدھر جائیں گے کون ان کو حل کرے گا ایسا لگ رہا اور یقینا ایسا ہی ہے کہ اس ملک میں فقط تانا شاہی اور آمریت کام کررہی ہے جمہوریت نہیں …..لہذا اب ملک کے ہر باشندہ خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا ہوں اس کو آگے آکر جمہوریت کا تحفظ کرنا لازم ہوچکا ہے جس طرح سب نے مل کر اس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرایا اور اپنا خون پسینہ بہاکر غلامی سے نجات دلای آج پھر وقت آچکا ہیکہ اس ملک کی حفاظت کی جاے اور فرقہ پرستوں سے اس ملک کے دستور اور جمہوریت کا تحفظ کیا جاے
