پاکستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے حافظ سعید کو 31 سال قید کی سزا سنائی
نئی دہلی : 9؍اپریل
(اے ایم این ایس)
مرکزی حکومت نے لشکر طیبہ کے بانی اور 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملے کے ‘ماسٹر مائنڈ’ حافظ سعید کے بیٹے حافظ طلحہ سعید کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ طلحہ سعید کے خلاف یہ کارروائی اس دن کی گئی جب پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو بھی 31 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
مرکزی وزارت داخلہ ہند کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق 46 سالہ حافظ طلحہ سعید بھارت اور افغانستان میں بھارتی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے لشکر طیبہ میں کارندوں کی بھرتی، فنڈز اکٹھا کرنے اور حملوں کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار ہے۔ ان کو انجام دینے کی کارروائیوں میں فعال طور پر ملوث ہے۔
Govt declares Hafiz Talha Saeed, son of LeT founder and Mumbai terror attack mastermind Hafiz Saeed, as terrorist: Notification
— Press Trust of India (@PTI_News) April 9, 2022
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں لشکر طیبہ کے مختلف اڈوں کا بھی باقاعدگی سے دورہ کرتا ہے اور ہندوستان، اسرائیل، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں ہندوستانی مفادات کے خلاف جہاد کرنے کا مطالبہ کرنے والے بیانات دیتا ہے۔
وہیں پاکستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جمعہ کو دہشت گرد حافظ سعید کو 31 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے حافظ سعید پر1 3 لاکھ 40 ہزار روپے کا مالی جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں عدالت نے دہشت گردی کی فنڈنگ کے دو مقدمات میں سزا سنائی ہے۔
Pakistan anti-terrorism court sentences Lashkar-e-Taiba chief Hafiz Saeed to 31 years in jail: Pakistan media
(file pic) pic.twitter.com/ndrNG6dmzK
— ANI (@ANI) April 8, 2022
جماعت الدعوۃ (جے یو ڈی) کے سربراہ حافظ سعید کو اقوام متحدہ نے عالمی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے حافظ سعید پر ایک کروڑ امریکی ڈالر کا انعام بھی رکھا ہے۔ حافظ سعید 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملے میں مطلوب ہے جس میں 161 لوگ مارے گئے تھے۔جولائی 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
دہشت گرد حافظ سعید کو جولائی 2019 میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ لاہور سے گوجرانوالہ جا رہے تھے۔ پاکستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو دو مقدمات میں مجموعی طور پر 31 سال قید کی سزا سنائی ہے اور ان کے تمام اثاثےضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔
MHA issues a notification declaring Hafiz Talha Saeed, son of Hafiz Mohammad Saeed, a senior leader of Lashkar-e-Taiba (LeT) and head of the cleric wing of the LeT, as a designated terrorist under the provisions of the UAPA Act 1967 pic.twitter.com/Cxo2OKtoqf
— ANI (@ANI) April 9, 2022
حافظ سعید پر مجموعی طور پر 3 لاکھ 40 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حافظ سعید کی بنائی گئی مسجد اور مدرسے کو بھی تحویل میں لیا جائے گا۔
انہیں فروری 2020 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے دو مقدمات میں 11 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اسی وقت، نومبر 2020 میں، ممبئی کے 26/11 حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کو پنجاب کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دہشت گردی کی فنڈنگ کے دو مقدمات میں 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہی نہیں عدالت نے سعید کی جائیداد ضبط کرنے اور 1.1 لاکھ روپے جرمانے کا بھی حکم دیا تھا۔ اس مقدمے میں سعید کے دو ساتھیوں ظفر اقبال اور یحییٰ مجاہد کو 10،5 سال اور عبدالرحمان مکی کو 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔