حیدرآباد میں آلودہ پانی پینے سے ایک شخص کی موت۔ سینکڑوں متاثر

تازہ خبر تلنگانہ

حیدرآباد9؍اپریل
(زین نیوز)
حیدرآباد میں آلودہ پانی پینے سے ایک شخص کی موت واقع ہوگئی اور سینکڑوں متاثرہوئے ہیں۔ متاثرین دست و قے میں مبتلا ہیں۔ سب سردی، تیز بخار اور قے کا شکار ہیں۔ گذشتہ رات سے حالات ایکدم بدل گئے ہیں۔ سینکڑو ں کی تعداد میں متاثرین کواسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ مادھا پور اور لنگر ہاؤس علاقوں میں واٹر بورڈ کی طرف سے فراہم کیا جانے والا پینے کا پانی آلودہ بتایا جارہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ مادھا پور علاقہ کے گٹلا بیگم پیٹ وڈیرہ کالونی کے رہنے والے بھیمایا (27) کی آلودہ پانی پینے سے موت ہوگئی۔ ان کے دو سالہ بیٹے کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ اسی کالونی کے کئی لوگ دست و قے میں مبتلا ہیں۔ کونڈا پور ایریا اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر متاثرین پیٹ میں شدید درد کے ساتھ اسپتال آرہے ہیں۔وڈیرا کالونی کی ایک خاتون، جس کا کونڈا پور ایریا اسپتال میں علاج چل رہا تھا، کی حالت تشویشناک ہے

 

اسی کالونی کے کئی لوگ دست و قے میں مبتلا ہیں۔ کونڈا پور ایریا اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر متاثرین پیٹ میں شدید درد کے ساتھ اسپتال آرہے ہیں۔

 اب تک 200 سے زیادہ لوگ بیمار ہو چکے ہیں۔ متاثرین میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔الزام ہے کہ واٹر بورڈ اور واٹر ورکس کے عملے نے گزشتہ پندرہ دن سے پانی آلودہ ہونے کی شکایت پر توجہ نہیں دی۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ 15 دن بعد پانی کا رنگ بدل جاتا ہے اور بدبو آتی ہے۔متاثرین کے خاندان والے کئی دنوں سے کہہ رہے ہیں کہ آلودہ پانی آرہا ہے۔۔ حکام نے مذکورہ مقامی لوگوں کو کتنی بار نظر انداز کیا ہے

بھیمایا خاندان کے افراد نے شکایت کی کہ انہوں نے پانی کی لائن کے بارے میں عہدیداروں کو توجہ دلائی گئی تھی تاہم انکی باتوں پر توجہ نہیں دی گئی۔ آلودہ پانی کا اثر لنگر ہاؤس کے اندر بھی زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔

گھر میں ہر کوئی قے اور اسہال میں مبتلا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پانی یا فوڈ پوائزننگ ہوسکتی ہے