ازقلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
آج پوری انسانیت جس میں بطور خاص ملت اسلامیہ جن ناگفتہ بہ حالات سے گذررہی ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے سیاست سے لیکر معاشرت تک بیماریوں سے لیکر سازشوں تک تو تعلیم سے لیکر کھیل کود تک ہر زاویہ سے ملت اسلامیہ کو انتہای سنگین خطرات وخدشات کا سامنا ہے فرقہ پرستی کا ایک ماحول بناکر مسلمانوں کو ان کی مساجد ومدارس کو ان کی دینی وملی تنظیموں کو ان کی خانقاہوں اور دینی جماعتوں کو نشانہ بناکر بدنام کرنے کی ناپاک سازشیں اور پلاننگ ہورہی ہیں .
عناد ودشمنی کی اس آگ نے پورے ملک کو آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ابھی پورا ملک اسی دجل وفریب کے جھلسادینے والے انگاروں میں جلنے کے لےء تیار ہے اور نفرتیں سر چڑھ کر بول رہی ہیں کبھی اپنوں کی سازشوں نے تو کبھی غیروں کی عیاری نے آج ہم سب کو ایک ایسی راہ پر لاکھڑا کردیا ہیکہ عقل انسانی اس کا حل ڈھونڈنے اور اس زہریلے ماحول کے تریاق کو ڈھونڈ نکالنے سےعاجز وقاصر نہ سہی مگر اپنے آپ کو مجبور ضرور سمجھ رہی ہے کہیں شہروں اور گاؤوں کے نام کی تبدیلی کو مسئلہ بنایا جاتا ہے تو کہیں آثار قدیمہ پر اپنی جاگیرداری کے نعرے لگاے جارہے ہیں تو کہیں مساجد ومدارس اور دینی جماعتوں کو دہشت گردی کے اڈے بتانے کی ناپاک مساعی ہورہی ہے تو کہیں قرآن مجید کی آیات پر تحریف کے دعوے دائر کےء جارہے ہیں تو کہیں اذانوں کے لےء لاوڈاسپیکر کے استعمال پر ہابندی لگانے کی بات کہی جارہی ہے
ان سب کے علاوہ افسوس تو اس بات کا ہیکہ ہم ملت اسلامیہ کے جیالے قرآن وحدیث پر ایمان رکھنے اور تعلیمات نبوی کو حرزجاں بنانے والے مسلمان بھی درون خانہ اللہ ورسول کی اطاعت ومرضیات سے جس بڑے پیمانہ پر دور ونفور اختیارکرکے نمازوں اور دیگر اہم عبادتوں سے بے اعتنای اور غفلت کے اس قدر شکار ہوچکے ہیں کہ الامان الحفیظ بس نام کے مسلمان بن کر ہم لوگ جی رہے ہیں عقائد وعبادات کا پتہ ہے نہ اخلاق وکردار کا کوی پاس ولحاظ رہا جس کو جو سمجھ میں آتا ہے وہ اسی کو اپنا دین ودستور سمجھ کر بے ڈھنگی زندگی گذاررہاہے کیا
خواندہ وناخواندہ کیا امیر کیا غریب سب کیا عالم کیا جاہل سب اپنی من مانی زندگی گذارنے کو ہی عقلمندی سمجھ رہے ہیں نہ اپنی اصلاح کی کوی فکر دامن گیر ہورہی ہے نہ اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کی کوی جستجو ہے شادی بیاہ میں رسم ورواج کو دیکھ لیں کس قدر اسراف وفضول خرچی ہمارے پاس ہوتی کون ساگناہ ہے جو ہماری تقریبات میں نہیں ہوتا ہے ناچ گانا بے پردگی عریانیت بدنظری دل آزاری بیانڈ باجے حقوق کی پامالی جہیز کے مطالبے جوڑے کی رقم کی مانگ سود پر لاکھوں روپیہ لینا اور اس سے اپنے نفس کی دل لگی کو پورا کرکے خواہشات نفس کی تکمیل وتسلی کرکے خوش ہوجانا غرضیکہ ؎ہر وہ گناہ جو عذاب الہی کو دعوت دینے اور غضب الہی کو للکارنے والا ہے وہ ہماری شادی بیاہ کے موقع پر ہوتا ہے اور ہورہا ہے حالات زمانہ کی اس سنگینی اور تنبیہ کے باوجود ہم مسلمان ہیکہ سمجھنے اور بازرہنے کے لےء تیار نہیں ہیں آج پورے ملک میں اردتدادی فتنے نت نئے انداز اور خوشنما لیبل کے ساتھ وجود میں آریے ہیں بھولے بھالے عام مسلمان اس کی زد میں آکر مرتد یورہے ہیں اور نوجوان لڑکیاں تو محض مال ودولت اور سستی شہرت کی خاطر اپنے دین وایمان کو خیر باد کہ کر پوری جرآتمندی کے ساتھ ارتدادکو اپنارہی ہیں تو کہیں تعلیم وزرکی لالچ میں آکرغیروں کی ہوس کا شکار بنتی جارہی ہیں سوشل کا غلط اور بے جا استعمال میڈیا اور موبائل وانٹرنیٹ کی اس بری لت نے تو آج کسی کو اپنے گھر میں بھی محفوظ رہنے نہیں دے رہی ہے کیا جلوت کیا خلوت سب گناہوں اور نافرمانی خدا کے مرتکب بنتے جارہے ہیں
ان نامساعدحالات سے امت مسلمہ گذررہی ہے ایسے پرآشوب وپرفتن زمانہ میں اللہ والوں سے تعلق علماء کرام سے دینی رابطے قرآن مجید کی تعلیمات سے آشنا ہونا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے واقف ہونا اس کو اپنی زندگیوں میں لانا ہر قسم کے فتنہ سے باخبر رہنا ہمارے لےء از حد ضروری یوچکا ہے اسی اہم غرض کے پیش نظر شہر نظام آباد کے مرکزی مدرسہ ادارہ مظہرالعلوم کی جانب سے وقۃ فوقۃ اکابرعلماء کرام وبزرگان دین اور اہل اللہ اور دنیوی اعتبار سے تجربہ کارودانشوران قوم و ملت کو مدعو کرکے امت مسلمہ میں شعور بیداری کا فریضہ انجام دیا جاتا ہے
اسی ضمن میں ایک پروگرام مدرسہ مظہر العلوم میں 21/مارچ آنے والی اتوار کو صبح 8تا 2 بجے دوپہر اور بعد نماز عشاء مکہ مسجد احمد پورہ کالونی میں منعقد کیا جارہا ہے جس میں ریاست وبیرون ریاست کے اکابر علماء کرام صاحب نسبت بزرگان دین علماء کرام کی تشریف آوری ہورہی ہے نوجوان جید عالم دین اصلاح معاشرہ کے سرگرم محرک نواسہ شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی عفان منصور پوری صاحب مولاناعبدالقوی صاحب مولاناامیراللہ خان صاحب مولاناعبیدالرحمان اطہر ندوی صاحب مولانالئیق احمد قاسمی صاحب مفتی سعید اکبر صاحب کے قیمتی بیانات ہوں گے تمام ہی مسلمانوں سے ہم خواہش کرتے ہیں کہ اپنء دوست احباب کے ہمراہ پہونچ کراس سے استفادہ فرمائیں
