رشحات قلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیکہ کسی بھی مذہب کا تہوار اپنی تاریخ وتہذیب کا آئینہ دار اور امین ہوتا ہے خواہ مسلمانوں سے متعلق رمضان المبارک عیدالفطر وعیدالاضحی اور دیگر مذہبی اجتماعات ہوں یا کسی غیر مسلم قوم کا مذہبی تہوار اور پروگرام ہو سب اپنی اپنی تہذیب وتمدن کے امین ہوتے ہیں جس سے اس مذہب کے ماننے والوں کی ایک تاریخ جڑی ہوی رہتی ہے جو تہوار انسانیت کو پیغام دیتا ہے اس مذہب کے ماننے والے اس طرح کے اعمال کرتے ہیں
دنیامیں بہت ساری قومیں رہتی اور بستی ہیں بہت سارے مذایب وادیان کی یہ آماجگاہ رہی ہے اگر بنظر انصاف ان کا تقابلی مطالعہ کیا جاے اور تاریخ وسیر کی کتابوں کی ورق گردانی کی جاے تو معلوم ہوگا کہ مذہب اسلام اور اسلامی تہذیب ہی وہ واحد دین ہے جس نے اپنے ماننے والوں کو خوشی اور غم ہر دومواقع پر اعتدال ومیانہ روی کی تعلیم دیتا ہے
اپنے مذہبی تہوراوں کے موقع پر بھی بطور خاص مالک کی پہچان ومعرفت والی اعمال کو لازم کرکے انسانیت کو درس توحید دیتا ہے یہ اور بات ہیکہ جس طرح دیگر اقوام عالم میں بے اعتدالیاں در آئیں ہیں اسی طرح مسلمان سماج ومعاشرہ بھی اس دراندازی سے بچ نہ سکااور طرح طرح کی خرافات اور رسم ورواج میں الجھ کر رہ گیا اور اپنی حقیقی تصویر وسچای سے دور ہوتا گیا
اسلام کے علاوہ تاریخ عالم میں کوی مذہب یامذہبی تعلیمات ایسی نہیں نظرآئیں گی جس میں امن ومان اعتدال وراہ راست کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہوں
جہاں اور بہت ساری خرابیاں اور برائیاں مسلم سماج میں پیدا ہوگئیں ہیں وہیں ایک سماجی برای بلکہ ناسور 14/فبروری کے حوالہ سے بھی ویلنٹائن ڈے کے نام سے چل پڑی ہے جس کو کچھ لوگ تومحض شوقیہ طورپر اور کچھ لوگ اپنے دوستوں کی ہمنوای اور دل رکھنے کے لےء یا بغرض تفریح منارہے ہیں
حالانکہ شریعت مطہرہ کی تعلیمات ہر مرد وعورت کے لےء حیا اور حجاب کا حکم دیتی ہے اور اس تہواریعنی ویلنٹائن ڈے کی تاریخ واصلیت کا تعلق عیسائیت ویہودیت سے ملتی ہے اور وہ بھی کسی مذہبی تہوار کے عنوان سے نہیں بلکہ یہ انسان کی یاد میں اسبکو منایاجاتا ہے
تاریخی حوالہ سے اگر بات کہی جاے تو بہت سارے اقوال اس حوالہ ملیں گے جن میں سےایک یہ خیالی داستان و روایت ملتی ہیکہ
تیسری صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن کے نام سے ایک پادری رہا ہے جس کو ایک راہبہ سے عشق ومحبت ہوگیء چونکہ عیسای مذہب کے مطابق راہب اور راہبہ دونوں ہی کے لےء نکاح اور شادی کرنا ممنوع تھا اس لےء پادری نے پلان بنایا اور راہبہ معشوقہ سے کہا کہ مجھے بذریعہ خواب بتلایا گیا کہ آج 14/فبروری کے دن جو بھی راہب اور راہبہ نکاح کے بغیر آپس میں جنسی تعلقات قائم کرلیں تو ان پر کوی سزا اور حد نہیں لاگو کی جاے گی اور اس راہب پادری نے اپنی عشق ومحبت کی ہوس نکال لی اور راہبہ کی عفت وعصمت کو تارتارکردیا
جس کی پاداش میں اس پادری کو سولی پر چڑھادیا گیا آگے چل کر اسی پادری کے نام سے اس دن کو یوم محبت یوم عاشقاں کا نام دے دیا گیا اور ہر سال عیسای لوگ بڑی دھوم دھام اور پورے اہتمام سے اس دن کو مناتےہیں
اور ہر عاشق اپنی معشوقہ کو پھول اور تحفے تحائف پیش کرکے اپنی محبت کا اظہارکرتے ہیں
لیکن افسوس صد افسوس کہ ہمارے مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بھی نئ تہذیب اور ماڈرن سماج سمجھ کر اس جرم عظیم اور گناہ میں ملوث ہوتے نظر آرہے جو شہر تعلیمی وتمدنی اعتبارسے جتنا بڑا ماناجاتاہے اتنی ہی بے حیای وبدتمیزی اس دن کو کرتےاور مناتےہیں
ہمیں من حیث القوم اور مسلمان ہونے کے اعتبار سے سوچنا چاہیے تحقیق کرنی چاہیے کہ اس طرح بدترین بے حیای کی اجازت ہمارے اپنے مذہب اور تعلیمات میں کیسے اور کیوں کر دی جاسکتی ہے
ہماری تعلیمات تو حیاء وپاک دامنی عفت وعصمت کے تحفظ کی ہدایات دیتی ہیں بلکہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے
الحیاء شعبہ من الایمان
کہ کر حیاء اور ایمان کو لازم و ملزوم بتادیا بےحیای کا اسلام سے کوی ناطہ اور تعلق نہیں ہے بے حیاء باش ہر چہ خواہی کن
جب تم بے حیا بن جاؤ تو جوچاہوکرو
اسلام کاتعارف کراتے ہوے حضور علیہ السلام نے حیاء کو الگ سے بیان کیا جس سے اس کی اہمیت وعظمت کا پتہ چلتا ہے جس کو ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے ہم اپنے دین وایمان اپنی تعلیم وتہذیب کے علمبردار بن کر اپنی ثقافت کے امین ومحافظ ہیں جس کا ہر موڑ پر ہمیں احساس رہنا چاہیے زندگی کے ہر شعبہ میں ہمارے لےء واضح نمونے اور تعلیمات موجودہیں ہم اپنی ان تعلیمات سے استفادہ کریں دنیا میں اپنی تہذیب وکلچرل کو عام کریں اپنے مذہبی تہواروں اور اس سے دییے جانے والے پیغام کو سمجھیں اور سمجھائیں کہ کس باریک بینی کے اور کس عظیم مقصد کے پیش نظر ہمیں خوشی اور غم محبت وعقیدت والی چیزوں کو منانے کی تعلیم دی گئ ہیں اور انسانیت کے نام کیا پیغام دیا گیاہے چہ جائیکہ ہم دوسروں کی اور وہ بھی خیالی وداستانی تہذیب کو منائیں اور اس پر فخر کریں
ویلنٹائن ڈے
محض ایک رسم بد ہے جس میں بے حیای اور بے شرمی کے مظاہرے ہوتے ہیں حدوداللہ کو پامال کیا جاتا ہے تعلیمات وتہذیب کی دھجیاں اڑای جاتی ہیں ہر وہ گناہ روے زمین پر کیا جاتا ہے جس سے مالک وخالق بھی ناراض ہوتا ہے اور مکذب انسانی سماج بھی جس سے نالاں ہوتا ہے اس لےء مسلم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو چاہیےکہ وہ ا س دن سے اپنے آپ کو دوررکھیں اجتناب وہرییز کریں اپنی اور اپنے والدین کی عزت کو نیلام نہ کریں جگ ہنسای کا موقع نہ دیں
ایک طرف تو آج مسکان جیسی باحجاب وباحیاء لڑکیاں اپنی آئینی و مذہبی حق اور آزادی کے لےء دشمنوں سے مقابلہ آراء ہیں تو دوسری طرف ہماری ہی بیٹیاں یوم عاشقاں کے نام پہ بے حیای کا ننگا ناچ کریں یہ کسیے زیب دیتا ہے
مسلمانوں کو یہ بات اچھی طرح جادرکھنا چاہیے کہ عزت حجاب اور حیاء میں ہے
بے حیای وبے حجابی میں محض ذلت ورسوای کے علاوہ کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہے خداراہم ذمہ داران قوم وملت والدین وسرپرست لوگ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور بچوں کو سمجھائیں کہ ا سطرح کی توہین آمیز حرکتوں سے اپنے آپ کو دوررکھیں
اللہ پاک دین اسلام کی تعلیمات اور اسوہ رسول پر چلنے کی توفیق عطاء فرماے ہر قسم کی بےحیای وبدتہذیبی سے امت مسلمہ کو بچاے
آمین
