حرکت میں آنا ضروری ہے

تازہ خبر مضامین

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔
9986437327
اس وقت کرناٹک سمیت ملک کے کئی مقامات پر کسان،دلت ،پسماندہ طبقات اورعام ہندو کسی نہ کسی مطالبے کو لیکر سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔مسلسل حکومتوں کو اس بات پر سوچنے کیلئے آمدہ کررہے ہیں کہ آخر تمام مطالبات پوراکریں تو کیسے کریں اور ا س وقت ہندوستان کی عوام کو کس طرح سے مطمئن کیاجائے۔وہیں دوسری جانب مسلمانوں کی بات کی جائے تو وہ سال2019-2020 میں این آر سی و سی اےاے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اب پوری طرح سےخواب وخرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔کرناٹک میں اس وقت مختلف طبقات وذاتیں اپنے لئے ریزرویشن کا مطالبہ کررہے ہیں جو ذات ومذاہب پہلے سے ہی پسماندہ قرار دئیے جاچکے ہیں اُن کی جانب سے اس بات کامطالبہ ہورہاہے کہ حکومت انہیں زیادہ ریزرویشن دے یا پھر انہیں ایس سی ایس ٹی کے زمرے میں شامل کرے۔اسی بات کو لیکر مختلف مقامات پر احتجاجات ہورہے ہیں،ریالیاں نکالی جارہی ہیں اورحکومت کے خلاف مسلسل آوازیں بلندکی جارہی ہیں۔ان تمام کے درمیان اگر ہم دیکھیں گے تو مسلمان کسی بھی طرح کی حرکت کرنے سے گریز کررہے ہیں۔آخرکیا وجوہات ہیں جو مسلمان خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں اور وہ کسی بھی ضرورت یا مشکل کو حل کرنے کیلئے اپنے لبوں کو جنبش تک نہیں دے رہے ہیں۔ایک طرف مسلمانوں سےانکے حقوق چھینے جارہے ہیں،کل تک جو ملک کی سب سے بڑی اقلیت تھے اُن اقلیتی مسلمانوں کا حق چھین کر اُن کو ملنے والی سہولیات دوسری قوموں کو دینے کی تیاری کی جارہی ہے۔گائوکشی ودیگر بڑے جانوروں کے استعمال پر پابندی لگا کر ان کے کھانے کا حق چھینا جارہاہے،لوجہاد کے نام پر بین المذاہب شادی کرنے والے نوجوانوں کو دہشت گردوں کے برابر کھڑا کیا جارہاہے۔ہر سال مسلسل اُن کو ملنے والےبجٹ میں کٹوتی کی جارہی ہے،ان سے سیاسی حق چھینا جاررہاہے،ہر سیاسی پارٹی میں انہیں نظراندازکردیاجارہاہے۔بعض سیاسی پارٹیاں تو انہیں طوائفوں کی طرح استعمال کرتے ہوئے ان کا سیاسی و سماجی استحصال کررہی ہیں،ان کے شرعی قوانین میں مداخلت ہورہی ہے۔پہلے طلاق ثلاثہ پر قانون بنا اب تین شادیوں پر قانون بننے جارہاہے،ساتھ ہی ساتھ خلع لینے والی خواتین کو معاوضہ دینے کی با ت سامنے رکھی جارہی ہے۔اس پر بھی مسلم دانشوران خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں۔پہلے یکساں سیول کوڈ پر بات ہوئی،پھر مدرسوں کو نشانہ بنایا گیا،پھر مساجد پر پابندیاں لگائی جانے لگی،مساجد کو مسمار کیاجانے لگا،ملک کے مختلف مقامات پر حب الوطنی کے نام پر مسلمانوں پرحملے ہوئے،مسلمانوں کو قتل عام کیا گیااور ان فسادات کی تحقیقات کیلئے کمیٹیاں بنائی گئی اور ان کمیٹیوں نے کیاکیااس پر کسی نے سوال ہی نہیں کیا۔مسلسل مسلمان زوال کی جانب جارہے ہیں،لیکن ان تمام مسائل پر مسلمان آواز اٹھا نہیں رہے۔ملک کی سب سے چھوٹی چھوٹی ذاتیں بھی اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر اتررہے ہیں،لیکن مسلمانوں کو کیا ہوا،ان کی ملّی،سماجی وسیاسی قیادت کہاں چلے گئی جو مسلمانوں کو بے بس ولاچار چھوڑکر اپنی ضروریات کو پوراکرنے میں لگی ہوئی ہے۔مسلمانوں کا مالدار طبقہ عیش وعشرت کی زندگی گذارنے میں وقت گذار رہاہے،تو سیاسی طبقہ اپنے اپنے عہدوں کیلئے اپنی سیاسی جماعتوں میں اپنے سیاسی آقائوں کے تلوے چاٹ رہاہے تو وہی ملّی ومذہبی قیادت ایسے بےتُکے مسئلہ لیکر الجھاہواہےجو قیامت تک سلجھنے والے نہیں ہیں۔اب ایسا محسوس ہورہاہے کہ مسلمان چند ایک سالوں میں اپنا وجود ہی ختم کرلینگے۔اب وقت سونے کاناٹک کرنے کا نہیں بلکہ باعمل ہوکر حالات کا مقابلہ کرنے کا ہے،حکمت کی باتیں کرتے ہوئے فرصت لینے کے بجائے حرکت میں آنا ضروری ہوگیاہے۔