دوسرا دماغ !

مذہبی

ازقلم
حسین قریشی – بلڈانہ مہاراشٹر

دروازے کی بیل بجتی ہے۔ خالدہ نے کیٖچن سے آواز لگائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا انیس دروازہ کھولو۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔ دیکھو کون آیا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انیس نے کہا، جی امی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھتا ہوں۔ دروازہ کھولتے ہی انیس خوشی سے اچھلنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نانا جان آ گئے۔۔۔۔۔۔۔ نانا جان آگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طوبٰی باجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نانا جان آ گئے۔ انیس تالیاں بجانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ طوبٰی کو آواز دی۔ آج بہت دونوں بعد ، انیس اور طوبٰی کے نانا جان گھر تشریف لائے تھے۔ انیس نے کہا, السلام علیکم ناناجان ۔۔۔۔۔۔۔ ویل کم۔ کیسے ہیں آپ؟ ۔۔۔۔۔۔ میرے کار لائے نا؟…………. طوبٰی دوڑتی ہوئی آئی۔ اور نانا جان کو سلام کرتے ہوئے انکی گود میں بیٹھ گئی۔ نانا جان نے سلام کا جواب دیا۔ اور بچوں کو خوشی سے گلے لگا لیا۔

بیگ کھولتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ ہم نے اَنس کے لئے ریموٹ کی کار، اور نواسی طوبٰی، تمھارے لئے ریموٹ کی گڑیا لے کر آئے ہیں۔ یہ لو۔۔۔۔۔۔۔۔ انیس اور طوبٰی دونوں نے اپنا اپنا بوکس ۔۔۔۔۔۔ لیا ۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔ خوشی کے مارے کودنے لگے ۔۔۔۔ واؤ کتنی خوبصورت کار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ انیس نے ڈبہ کھولتے ہوئے کہا۔ طوبٰی بھی خوشی سے پھلے نہیں سمائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اسنے گڑیا کو باکس سے باہر نکالا۔ دونوں ریموٹ والے کھلونے سے خوشی خوشی کھیلنے لگے۔ ٹی وی پر کارٹون لگا ہوا تھا۔ لیکن بچے اب کھیلنے میں مصروف تھے۔

تھوڑی دیر میں افروز، انیس کے ابّو بھی گھر آگئے۔ امی نے اپنے والد سےکہا، ابو جان ۔۔۔۔۔۔۔۔ فِریش ہوجائیے۔ میں کھانا لگا دیتی ہوں۔ چلو بچوں تم بھی کھلونے رکھو اور ہاتھ دھوکر جلدی آجاؤ۔ کھانا تیار ہے۔ انیس نے کہا واہ آج ناناجان کے ساتھ کھانا کھائیں گے۔ بڑا مزہ آئیگا۔۔۔۔۔۔ ہممممممم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طوبٰی نے کہا۔

سب دسترخوان پر بیٹھ گئے۔ کھانا ،کھانے کی دعا "بسم اللہ واعلٰی برکت اللہ” پڑھکر سب نے کھانا شروع کیا۔ نانا جان نے غور کیا کہ ‘انیس اور طوبٰی لقمہ ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں اور نظریں ٹی وی پر جمی ہوئی ہیں۔ نانا جان نے کہا، "دیکھو!!! اَنس بیٹا، "ہم جو بھی کام کرتے ہیں نا، اس پر ہماری پوری توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔ تب ہی اُس کام کا بہتر نتیجہ ملتا ہے۔”

جیسے ابھی کھانا کھا رہے ہیں۔ کھانے کے آداب میں ہے کہ ہم دِل جمعی کے ساتھ ، پوری توجہ سے ، بخوشی، لطف اندوز ہوتے ہوئے آہستہ آہستہ کھانا تناول کریں۔ جب ہمارا دھیان مرکوز ہوگا تب ہی تو ہمارا دماغ اُن اعضاء کو حکم دیگا جواعضاء اس کام میں مصروف ہوتے ہیں!!! ہمارے کھانے میں نظامِ انہضام (Digestive system ) کے اعضاء بھی کام کرتے ہیں۔ دماغ انھیں قابو میں رکھکر حکم دیتا ہے۔ تبھی توہمیں کھانا جلد ہضم ہوگا اور ہم تندرست رہے گے۔ پیٹ ، سر درد کی بیماریوں سے محفوظ رہ سکےگے۔

نظامِ انہضام کے اعضاء کونسے ہوتے ہیں؟ ہم نے تو اِن اعضاء کونہیں دیکھا۔ انیس نے فوراً تعجب سے سوال پوچھا۔ ہاں بیٹا، دیکھو ہم منہ میں لقمہ ڈالتے ہیں۔ یہی سے انہضام کے نظام کی ابتداء ہو جاتی ہیں۔ غذا کو چبانے یا نگلنے سے لے کر ، جسم میں جذب ہونے تک کے عمل کو "نظامِ انہضام ” (Digestive system ) کہتے ہیں۔ منہ میں ہم غذا کو چباتے ہیں۔ اسکے بعد چبی ہوئی غذا حلق (Pharynx)کے ذریعے غذائی نالی(Oesophagus) میں داخل ہوتی ہے اور پھر معدہ(stomach ) میں پہنچتی ہے۔ معدے میں خوراک کے پہنچنے کے تین گھنٹوں بعد کیموس ( Chemos) میں بدلتی ہے۔ ایک نارمل شخص کا معدہ 24گھنٹوں میں تقریباً 8کلوگرام گیسٹرک جوس افراز(secretions ) کرتا ہے۔ اس کے بعد غذا سے فائدے مند اور نقصاندہ اجزاء کو الگ الگ کرنے کا کام چھوٹی آنت اور بڑی آنت کے ذریعے انجام پاتا ہیں۔ اسکے بعد انسان کا سب سے بڑا غدود جگر، ہاضمی رس صفرہ(Bile.Juice) تیار کرتا ہے۔ اور غذا کے ہضم ہونے میں مدد کرتا ہے۔ یہ اعضاء ہمارے جسم کے اندر موجود ہیں۔ اس لئے نظر نہیں آتے ہیں۔ ہمارے جسم میں نظامِ انہضام کی بہت اہمیت ہے۔ زیادہ تر بیماریوں سے ہم محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ اس پورےعمل میں مددگار اعضاء کے خلیات مشترکہ طور پر بہترین فعل انجام دیتے ہیں اس لیے اسے "دوسرا دماغ” بھی کہتے ہیں۔

"غذا ہضم کرنے کے عمل میں کافی وقت لگتا ہے۔” انیس نے کہا
ہمیں پورے دھیان سے اچھی اچھی چیزیں ہی کھانی چاہیے۔ ہاں بالکل ۔۔۔۔۔۔۔ خراب چیزیں ہمیں نقصان پہنچاتی ہے۔ اس سے بچنا چاہئے۔ جیسے با ہر کی تلی ہوئی چیزیں ، کھلی رکھی ہوئی چیزیں، خراب چیزیں وغیرہ وغیرہ

طوبیٰ نے سوال پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نانا جان ۔۔۔۔۔۔۔ دماغ کیسے حکم دے گا بھلا ؟ نانا جان مسکرا دئیے۔۔۔۔ اور کہا ہاں بیٹا۔۔۔۔۔ جس طرح تم اس ریموٹ کنٹرول سے اپنی کار اور گڑیا کو حکم دے رہے تھے۔ یہ بٹن سے ۔۔۔۔۔۔‌ آگے ۔۔۔۔۔ یہ بٹن سے ۔۔۔۔۔۔۔ پیچھے۔۔۔۔۔۔ اس سے رفتار تیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس بٹن سے کار رک جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک اسی طرح سے ہمارا دماغ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے جسم کے ہر عضو کو کنٹرول کرتا ہے۔ دماغ کا قابو ایک جگہ مرکوز نہیں رہا یا ہمارا ذہن اِدھر اُدھر منتشر رہا۔ تو جسم کے اعضاء صحیح طرح سے کام نہیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں نانا جان آپ نے درست فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔ جماعت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ میرے ساتھی جب استاد کی بات دھیان سے نہیں سنتے اور دوبارہ پوچھتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ تو استاد یہی کہتے کہ تمھارا دھیان جماعت میں نہیں کئی اور ہے۔۔۔۔۔۔۔ انیس نے کہا۔
نانا جان نے کہا ، "تمہارے استاد بالکل صحیح کہتے ہیں۔” انیس اور طوبٰی نے ایک آواز میں کہا،” نانا جان اب ہم سمجھ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم دماغ سے دوسرے دماغ کا خیال رکھیں گے۔ اور ساتھ ہی تمام کام مکمل متوجہ سے کرینگے۔ نانا جان نے کہا ، ” اور کھیلنا بھی پوری توجہ کےساتھ ۔۔۔۔۔۔۔” سب نے ہنسی کے قہقہے لگائے۔