متعدد مدارس ومکاتب میں قرآن خوانی کرکے حضرت مرحوم کے لئے دعاء ایصال ثواب کا اہتمام
دیوبند،25؍ جولائی
(رضوان سلمانی)علاقہ کی ممتاز ومعروف دینی شخصیت اوربافیض عالم دین مفتی سید مکرم حسین کے انتقال پر تاہنوزتعزیتی نشستوں اور پیغامات کاسلسلہ جاری ہے۔ اس مناسبت سے متعدد دینی اداروں میں قرآن خوانی کرکے حضرت مرحوم ؒ کے لئے دعاء ایصال ثواب کااہتمام کیاگیا۔ تحصیل بہٹ کے موضع ٹولی میں واقع دینی ادارہ مدرسہ فیض الاسلام میں مفتی سید مکرم حسین ؒ کے انتقال پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کرکے مرحوم کے لئے دعاء ایصال ثواب کا اہتمام کیاگیااور حضرت مرحوم کی علمی،دینی،اصلاحی اور طبی خدمات پرروشنی ڈالتے ہوئے ان کے انتقال پورے خطہ کا عظیم خسارہ قرار دیاگیا۔
قاری محمد ساجد ناظم مدرسہ فیض الاسلام نے حضرت سنسار پوری رحمہ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدرسہ فیض الاسلام کو حضرت سنسار پوری رحمہ اللّٰہ علیہ کی سرپرستی حاصل رہی ہے، وقتاً فوقتاً مدرسہ میں حضرت کی تشریف آوری اور توجہات شامل حال رہی ہیں اور دعاؤں سے نوازتے رہیں ہیں۔ اس دوران مدرسہ کے طلباء و طالبات اور اساتذہ نے قران خوانی کا اہتمام کرکے حضرت رحمتہ اللہ علیہ کے لیے ایصال ثواب کیا ۔
جامعہ ضیاء العلوم خانقاہ پٹھیڑ چلکانہ میں ایک تعزیتی نشست کاانعقادکیا گیااورکہا کہ عارف باللہ حضرت مولانا مفتی سید مکرم حسین سنسارپوری ؒکی رحلت امت کے لئے ایک عظیم حادثہ ہے۔ جامعہ کے ناظم مولانا محمد صادق مظاہری نے حضرت سنسارپوری کے اوصاف حمیدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا مرحوم درویش صفت انسان تھے اللہ تعالیٰ نے جہاں حضرت مولانا کو ظاہری حسن وجمال عطا کیا تھا وہی باطنی طور پر پاکیزہ حسن وصفات کے حامل تھے
ان کی گفتگو میں جو متانت و سنجیدگی تھی وہ بلندی اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھی، تقوی و طہارت سادگی حق گوئی آ پکے امتیازی اوصاف کا حصہ تھی خوش مزاج خوش طبیعت عالی ظرف با اخلاق اور کم گوہ تھے، ہر آنے والے کے ساتھ ہمدردانہ مشفقانہ اور تربیتی لب و لہجہ میں گفتگو کرنا نہایت قابل ذکر ہے بیشک آپ کی رحلت ملت کے لئے ایک خلاء ہے جس کا پورا ہونا مشکل ہے۔
بعد ازاں جامعہ میں قرآن خوانی کرکے ایصال ثواب کیا گیا۔ خانقاہ کے روح رواں حضرت شاہ صوفی معین الدین کی رقت آ میز دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر حاجی شجاع الدین، قاری عبد الستار، قاری شہزاد ،محمد عمر، انس، عفان، محمد احمد، وغیرہ کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔ وہیں دیوبند کے محلہ فولادپورہ میںواقع دینی ادارہ مدرسہ طیب المدارس میں مفتی سید مکرم حسین سنسارپوری کی رحلت پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کرکے دعاء ایصال ثواب کااہتمام کیاگیا۔
اس موقع پر جامعہ کے مہتمم مولانا عمر اخلاق قاسمی اور مولانا عبدالشکور قاسمی نے مولانا سنسارپوریؒ کی وفات پر انتہائی رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مولانا مرحوم کا انتقال پوری امت کا عظیم خسارہ ہے، انہوںنے کہاکہ مولانا مرحوم علمی،اصلاحی،تربیتی ور طبی فیض پوری علاقہ کوپہنچ رہاہے اور حضرت سایہ ایک عظیم مشفق کا سایہ تھے،ان انتقال علماء اورعوام سبھی کا نقصان ہے، اللہ پاک مرحوم کی جملہ خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت بخشے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔