ٹی آریس پارٹی سے حضورآباد ضمنی انتخابات میں ٹکٹ ملنے کی توثیق کا آڈیو وائرل
حیدرآباد:13جولائی
(زین نیوز ؍ایجنسیز)
حضورآباد اسمبلی حلقہ کے انچارج و سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر کوشک ریڈی نے کانگریس پارٹی سے استعفیٰ دیدیا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اپنا مکتوب استعفیٰ پارٹی قیادت کو روانہ کیا ہے اور بتایا کہ بڑے ہی دکھ کے ساتھ وہ کانگریس سے مستعفی ہورہے ہیں۔
سابق وزیر صحت و بی جے پی لیڈر مسٹر ایٹالہ راجندر کے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کے بعد کوشک ریڈی یہ قیاس کررہے تھے حضورآباد اسمبلی حلقہ کا ٹکٹ انہی کو ملے گا۔
تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس اشارے کے نہ ملنے سے وہ ٹی آرایس ورکنگ پریسڈنٹ مسٹر کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کی تھی جس کی خبر کے منظرعام پر آتے ہی انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنے بچاؤ کی کوشش کی ہے۔
ان کی کے ٹی آڑ سے ملاقات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ٹی آرایس سے ملاقات محض خیرسگالی تھی جس میں سیاسی امور پر کوئی تبادلہ خیال کیاگیا اور نہ ہی حضورآباد کے انتخابات پر بات چیت ہوئی۔ جہاں مستقبل قریب میں ضمنی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔

تاہم آج اچانک انہیں اس وقت استعفیٰ دینا پڑا جبکہ سیل فون کے ذڑیعہ مادنا پیٹ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے درمیان ہوئی بات چیت کی آڈیو ریکاڈنگ منظرعام پر آئی جس پر پارٹی کی تادیبی کمیٹی نے ان کے نام نوٹس وجہ نمائی جاری کرتے ہوئے اندرون 24 گھنٹے جواب دینے کی ہدایت دی۔
اس پر کوشک ریڈی نے عجلت پسندی میں کانگریس سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے ایک مکتوب پارٹی قیادت کو تحریر کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مادنا پیٹ سے تعلق رکھنے والے وجندر نامی پارٹی کارکن کے ساتھ کوشک ریڈی کی سیل فون پر با ت چیت ہوئی جس میں ریڈی نے وجیندر کو بتایاکہ حضورآباد اسمبلی حلقہ سے ٹی آرایس ٹکٹ کے لئے ان کے نام کو قعطیت دیدی گئی ہے۔
انہوں نے اس رکن کو اس کے دوست احباب اور حامیوں کے نام کی فہرست کے تیار کرنے اور اس کو ان کے ایک حامی کے حوالے کرنے کی درخواست کرتے ہوئے ان تمام کو فی کس 4 تا 5 ہزار روپئے دینے علاوہ ازیں وجیندر کو بھی مالی مدد فراہم کرنے کا یقین دلایا۔
مگر اتفاق سے یہ آڈیو کلپنگ کے منظرعام پر آنے سے سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن اور کانگریس پارٹی حلقوں میں ان کی سرگرمیوں پر مختلف اندیشے ظاہر کرتے ہوئے کوشک کی مخالف پارٹی سرگرمیوں پر ناراضگی کا اظہار کیا جانے لگا
جس پر تادیبی کمیٹی کے سربراہ مسٹر کونڈا ریڈی نے فوری طورپر کوشک ریڈی کے نام نوٹس وجہ نمائی جاری کرتے ہوئے اندرون 24 گھنٹہ اس کی وضاحت کی ہدایت دی تھی۔