احسن المجالس سے مولاناعبدالقوی صاحب کاخطاب
از : عبدالقیوم شاکر القاسمی جنرل
سکریٹری جمعیۃ
علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
اللہ تعالی نے قرآن مجیدمیں حکم دیاکہ اے ایمان والواللہ سے ڈروجیسے ڈرنے کا حق ہے اور تم کو موت نہ آے مگر اطاعت گذاری کی حالت میں
انسان کو حالت اسلام میں موت کب آے گی جبکہ وہ حالت اسلام میّ زندگی گذارے جو جس حال میں جییے گا اسی حالت میں مرے گا
حالت اسلام میں زندگی گذارنا اطاعت وفرمانبرداری والے اعمال کرکے اپنے آپ کو بندہ بناکر جینا ہی اصل تقوی اوراللہ سے ڈرنا ہے اور اسی کا حکم قرآن مجید میں دیا جارہا ہے
اتقواللہ حق تقا تہ ولاتموتن الاوانتم مسلمون ۔۔۔ الایہ
تاریخ اور مشاہدات میں ایسے بہت سارے واقعات ہمارے لےء شاہد ہیں کہ جو بندہ جس حال میں زندگی گذارے گا اس کی موت بھی اسی حال میں آے گی خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کماتحییون تموتون وکماتموتون تحشرون
تم جیسے جیوگے ویسے موت آے گی اور جس حال میں موت آے گی اسی حالت میں اٹھاے جاوگے
اب ہم اپنی زندگیوں کاجائزہ لیں کہ ہماری زندگی اسلامی زندگی ہے یا نہیں اگرہے تو یقینا موت بھی اسلام کی ہی حالت میں آے گی اور ایسے ہی میدان حشر میں اٹھاے جائیں گے
تاریخ وواقعات کو دیکھنے سے بھی معلوم ہوتا ہیکہ جوبندہ مال ودولت اور دنیا کی محبت لے کر جیتا ہے اسی حالت میں اس کی موت آتی ہے
ایک آدمی آخرت سے غافل ہوکراپنی پوری زندگی مال ودولت اور دنیاکے عیش وعشرت کے پیچھے لگادیا مال جمع کرنے میں اپنی عمر عزیز کوگنوادیا جب موت آرہی تھی تو جان حلق میں اٹک کر رہ گئ روح نکلنے کا نام نہیں لے رہی ہے انتہای دردوکرب کے عالم میں ہے ہزار کوششوں کے باوجود دم نہیں نکل پارہاہے کسی اللہ والے کو لاکر حقیقت حال بتلای گیء تو انہوں نے کہا کہ زندگی میں اس بندہ کو سب سے زیادہ محبوب کیاچیز تھی تو بتلایا گیا کہ وہ پیسوں اور دولت ایک ہوٹلی الماری میں رکھی ہوی ہے جس کو دیکھ دیکھ کر وہ اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیا کرتا تھا اس پوٹلی کو لاکر سینہ پہ رکھا گیا تب کہیں جاکر اس نسان کی روح نکلی اور تکلیف سے جان چھٹی تو معلوم ہوا کہ زندگی بھر مال مال کرتاریا موت بھی مال کےساتھ ہی آی
اس لے ہمیں اسلامی زندگی گذارنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں موت بھی اسلام کی حالت میں آے
اللہ کے نبی علیہ السلام نے دعاء مانگی کہ اے اللہ مجھے دنیا کو بڑا غم بنانے سے بچاییے
اللھم لاتجعل الدنیا اکبر ھمنا
مال محبت اور دنیا کی فکر ہی لے کر جئیں تو یہ اسلامی زندگی نہیں کہلاتی ہے ہمیں تو فکر مال کے بجاے فکر مآل میں زندگی گذارنا چاہیے
مال ودولت کا جمع کرنا فی نفسہ برانہیں ہے قرآن وحدیث میں مال جمع کرنے کی ترغیب آی ہےلیکن ایسی فکر میں لگ جانا کہ وہ مال ودولت وہ تجارت وکاروبار ہمیں اللہ کے حکموں سے غافل کردے یہ درست نہیں ہے
مالی اعتبار سے دنیا وی اعتبار سے ہر انسان ترقی کرناچاہتاہے اور یہ بات انسان کے نیچر اور فطرت میں اللہ نے رکھی ہے لیکن سینی اعتبار سے اپنی آخرت کو سنوارنے اور بنانے کےلحاظ انسان کو ترقی کرنے کی محنت کرنی چاہیے اس کے لےء مجاہدہ کرنا پڑتاہے دنیا کو بقدر ضرورت حاصل کرو اور دین کو مقصد زندگی بناکر کوشش کرو یہی اللہ سے ڈرنے کا حق ہے اس راہ میں جتنی محنت کروگے اتنا ہی ایمان اور سین زندگیوں میں آے گا ایمان بڑھے گا
اعمال صالحہ سے ایمان میں نورانیت اور مضبوطی آتی ہے اس لے نیک اعمال کرنا چاہیے
حضرت مولانایوسف صاحب رح نے فرمایا کہ اللہ نے تعالی نے اعمال میں مال کو خودبخود چھپاکر رکھاہے تم فکر اعمال کرلو مال ازخود تم کو مل جاے گا تاریخ بتاتی ہیکہ جن لوگوں نے دین واسلام کے ساتھ زندگی گذاری ہے ان کو موت بھی اسی حالت میں آی ہے
علامہ ابن تیمیہ رح کے بارہ میں آتا ہیکہ کچھ لوگوں نے ان کو پھنسادیا اور بادشاہ وقت نے ان کوجیل کی سزاسنادی وہ جیل چلے گےء اوراپنے بھای جو ساتھ تھے ان کو جیل میں روزآنہ ایک قرآن مجید سنایاکرتے تھے زندگی کا جب آخری دن تھا تو معمول کے مطابق ایک قرآن مجید سنادیا اور بھای سے کہا کہ ایک اور قرآن سنانے کو جی چاہ رہا ہے تودوسراقرآن شروع کیا اور ستائیسویں پارہ کی سورۃ القمر والی آیت جس میں متقین کے لےء جنت اور نہر کی نعمت کا ذکر ہے پڑھتےپڑھتے اس آیت پر پہونچے
بس اسی آیت پر دم توڑدیا اور روح پرواز ہوگئ
اسی قرآن مجید کو پڑھنے اور جنت کی نعمتوں والی آیت کو دہراتے دہراتے موت آگئ
ایک محدث کے بارہ میں آتاہیکہ وہ درس حدیث دے رہے تھے طلباء اور شاگردوں کاحلقہ بنا ہو اہے اور حدیث پڑھارہے ہیں کہ من کان اول کلامہ لاالہ الااللہ وآخر کلامہ لاالہ الااللہ دخل الجنۃ
جس کا پہلا کلام بھی لاالہ الالالہ ہو اور آخری کلام بھی لاالہ الااللہ ہو وہ جنت میں داخل ہوجاے گا
اس حدیث کے پہلے جملہ کو پڑھا اور آخری جملہ کو پڑھاتے ہوے انتقال کرگےء ابھی دخل الجنۃ کا تذکرہ بھی نہیں کیا اور روح پرواز کرگئ اللہ تعالی نے عملا جنت میں داخل کرکے بتلادیا
اور بھی بہت سارے واقعات ومشاہدات ہیں جس سے معلوم ہوتا ہیکہ بندہ مومن جیسی زندگی گذارے گا ویسے موت آےگی اس لےء ہمیں اسلامی زندگی تقوی عالی زندگی اللہ سے ڈرنے والی زندگی گذارنا چاہیے تاکہ ولاتموتن الا وانتم مسلمون والی موت ہم کو آے
اللہ پاک ہمیں توفیق فہم وعمل نصیب فرماے
آمین