۔این جی اوز ہی پھر ایک بارآگے،جمعیت علما کی آکسیجن خدمات بھی جاری
حیدرآباد:25؍مئی
(زین نیوز)
مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی قاسمی صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ واے پی نے اپنے صحافتی بیان میں اس امر پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ سے زائد کا طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود آکسیجن کے سلنڈرز کی بلیک مارکیٹنگ ختم نہیں ہورہی ہے جب کہ اس کے بھروائی کی قیمتیں بھی پانچ گنا سے دس گنا زائد وصول کی جارہی ہیں،
انھوں نے کہا سکریٹری سٹی جمعیۃعلماء مولانا وسیم جاوید کے زیر نگرانی گزشتہ ایک ماہ سے ڈاکٹر کے لیٹر پر متاثرین کو آکسیجن سلنڈرس فراہم کئے جارہے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب یہ ضرورت جمعیۃ علماء کے ذمہ داروں کے سامنے آئی اور مفتی محمود زبیر قاسمی جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھرا کو سلنڈرس کی فراہمی کی ذمہ داری دی گئی تو مختلف لوگوں سے رابطہ کے بعد جو بہتر سے بہتر قیمت سامنے آئی وہ تیس ہزار روپئے فی سلنڈر کی تھی جب کہ پڑوسی ریاستوں مہاراشٹرا اور کرناٹک کے بعض ذمہ داروں سے رابطہ کیا گیا مگر وہاں سے بھی فراہمی ممکن نہ ہوسکی، بالآخر بسیار کوشش کے بعد پچیس ہزار روپئے فی سلنڈر جمعیۃ علماء حاصل کرپائی اور آج تک بھی خالی سلنڈرز میں آکسیجن کی بھروائی کے لئے آٹھ آٹھ گھنٹے جمعیۃعلماء کے ورکرز کو بھروائی کے لیے کھڑے ہونا پڑرہا ہے
یہ بھی پڑھیں ایڈیشنل ایس پی عام آدمی کے بھیس میں ســـــڑکوں پـــــــر
انھوں نے کہا کہ ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود آکسیجن کی فراہمی میں یہ دشواریاں حکومت کی نا اہلی کا ثبوت ہے، انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ دعووں کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دے اور زمینی سطح پر جو دشواریاں پیش آرہی ہیں اس کو دور کرنے کی فکر کرے، انہوں نے بتایا کہ جن لوگوں کے پاس لاکھوں لاکھ روپئے ہاسپٹل کی فیس بھرنے کی رقم نہیں وہ بیچارے اپنے گھروں پر کسی معالج یا ڈاکٹر کی نگرانی میں آکسیجن لگانے کی کوشش کررہے ہیں
اس میں بھی اس قدر دشواری کا پیش آنا یہ انتہائی شرمناک ہے، انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس بیماری سے زیادہ حکومت کی کاہلی، وقت پر علاج اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے لوگوں کا انتقال ہوتا جارہاہے، حقیقت یہ ہے کہ اموات کے سلسلہ میں حکومت کے اعداد وشمار اور زمینی حقائق میں بہت بڑا فرق ہے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور آکسیجن کی بلیک مارکیٹنگ اور اس کی بھروائی میں زائد رقم کی وصولی اور غیر معمولی تاخیر کو ختم کرے اور عام حالات کے مطابق اس کی فراہمی کو یقینی بنائے۔